روزنامہ پولیٹیکن کے سمجھوتے پر اس کے صحافیوں کی تنقید
Sunday, 03.07.2010, 09:09pm (GMT+1)
رپورٹ ھما نصر ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈینش روزنامہ پولیٹیکن کی جانب سے ایک سعودی وکیل کے ساتھ کیے گئے سمجھوتے پر اخبار کے اڑتالیس صحافیوں نے تنقید کی ہے ۔

اس سمجھوتے کے تحت پولیٹیکن نے اس بات پر معافی مانگی ہے کہ اس کی جانب سے نبی اسلام ( صعلم ) کے خاکوں کی دوبارہ اشاعت سے نبی اسلام محمد ( صعلم ) کی پیڑی سے براہ راست تعلق رکھنے والے بانوے ہزار کے قریب مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے ۔ اخبار نے اس پر کوئی معافی نہیں مانگی کہ اس نے یہ خاکے شائع کیے اور نہ ہی یہ ضمانت دی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسا نہیں کرے گا ۔ پولیٹیکن پہلا اور واحد اخبار ہے جس نے مسلمانوں کی دل آزاری ہونے پر معافی مانگی ہے ۔ روزنامہ پولیٹیکن کے جن اڑتالیس کارکنوں نے خود کو اس سمجھوتے سے دور رکھا اور اس کی وجہ سے اخبار کے مدیر اعلیٰ پر تنقید کی ہے، انہوں نے روزنامہ پولیٹیکن ہی میں شائع کرائے گئے اپنے ایک مشترکہ مکتوب میں لکھا ہے کہ ان کے خیال میں روزنامہ پولیٹیکن کے پاس معافی مانگنے کی کوئی وجہ نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی اخلاقی و پیشہ وارانہ جواز ہے کہ معافی مانگی جائے ۔ اس خط میں مزید کہا گیا ہے کہ روزنامہ پولیٹیکن نے نبی اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے متعلق وہی مروجہ طریقہ اپنایا تھا جو اس طرح کی دوسری خبروں کی اشاعت کے لیے روا رکھا جاتا ہے اور ان سے مبینہ طور پر لوگوں کے کسی گروپ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ۔ ان اڑتالیس صحافیوں نے اپنے اس مشترکہ خط میں مزید لکھا ہے کہ سعودی وکیل اور اخبار کے مدیر اعلیٰ کے درمیان سمجھوتہ اس بات کا تاثر دیتا ہے کہ ہم اپنی صحافت پر افسوس پر کرتے ہیں حالانکہ ہمیں ایسے افسوس کی ضرورت ہے اور نا کسی سے کوئی معافی مانگنے کی پابندی ہے ۔
اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©
|