کوپن ہیگن میں انتہا پسندوں کی گرفتاریاں
Monday, 03.01.2010, 11:12pm (GMT+1)
رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ دارلحکومت کوپن ہیگن میں مختلف جگہوں پر چھاپوں کے دوران، سیکورٹی فورسز اور انٹیلیجنس سروسز نے بائیں بازو کے انتہا پسندوں کے ایک گروپ کو حراست میں لے لیا ہے ۔
ڈینش میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی انتہا پسندی کے خلاف اقدامات کے سلسلے میں ڈینش پولیس نے کئی جگہوں پر چھاپے مار کر تلاشی لی اور کئی افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
روزنامہ پولیٹیکن کے مطابق، وہ افراد جنھیں گرفتار کیا گیا ہے ان کا تعلق، بائیں بازو کے ایک انتہائی انٹی فاسسٹ ایکشن گروپ ست بتایا ہے۔ ڈینش سیکورٹی اور انٹیلیجنس سروس، پی ای ٹی، کا کہنا ہے کہ دوسری اشیاء کے ساتھ ساتھ، اُس نے ایک ایسا ‘‘کمپیوٹر سرور‘‘ اپنے قبضے میں بے لیا ہے جس پر اس گروپ کے مخالف دائیں بازو کے ایک گروپ اور اسی کے ساتھ ہی دائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں اور سیاستدانوں کے بارے میں ذاتی اور انتہائی حساس معلومات موجود ہیں ۔
ڈینش پولیس انٹیلیجنس کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی ایک سال سے اس نے، سیاسی میدان میں ان دونوں گروپوں کے درمیان ہونے والے انتہا پسندانہ جھگڑوں اور فسادات کے واقعات رونما ہونے کا اندراج کیا ہے ڈینش پولیس انٹیلیجنس کے سربراہ یاکوب شارف نے کہا ہے کہ ان گروپوں کے درمیان مڈ بھیڑ میں اضافہ ایک باقاعدہ منظم طریقے سے فسادات کی نشاندھی کرتا ہے اور ہم نے بائیں اور دائیں، ہر دو اطراف کے انتہا پسندوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے اپنے سیاسی مخالفین کو ننگا کرنے کے لیے ایسے ذرائع استعمال کرتے ہیں جو ایک طرح سے پرائیویٹ انٹیلیجنس اپریشن قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔ بائیں بازو کے گرفتار کیے گئے افراد کی اصل تعداد اگرچہ ابھی تک نہیں بتائی گئی لیکن، ان میں ایک فرد کو چوبیس دن خے لیے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ دوسری باتوں خے عالوہ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ایسے گروپ میں متحرک کردار ادا کر رہا تھا جو سماجی پر قوت کے بل بوتے پر اپنا دباؤ یا اثر و رسوخ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ پی ای ٹی کے مطابق، یہ انتہائی حساس معلومات، ‘‘ ڈاٹا کرائم ‘‘ کے ضمن میں آتی ہیں اور انہیں غرقانونی طریقوں سے حاصل کیا گیا ہے ۔ ڈینش پولیس انٹیلیجنس کے سربراہ یاکوب ژارف کا کہنا بے کہ ان افراد کی سرگرمیاں باقاعدہ منظم تشدد کے زمرے میں آتی ہیں اور ہر دو اطراف یونی بائیں اور دائیں بازو کے انتہا پسند خفیہ طریقوں سے اپنے اپنے مخالف سیاستدانوں کو ننگا کرنے پر جٹے ہوئے ہیں اور ان کی سرگرمیاں ایک طرح سے ان کی جانب سے، پرائیویٹ انٹیلیجنس اپریشن سے مشابہ ہیں ۔ پولیس نے گرفتار کئے جانے والے افراد کی تعداد بارے ابھی تک کچھ نہیں بتایا البتہ ان میں سے ایک فرد کو چوبیس دن کے لیے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے ۔ دوسری باتوں کے عالوہ اس پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ ایسے گروپ سے تعلق رکھتا بے جو اپنی قوت کے ذریوے سماج پر اپنے نظریات یا اثرو رسوخ پھونپنے میں مبینہ طور پر ملوث ہے ۔
اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©
|