رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
یورپی یونین کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈنمارک میں ہر تیسرے صومالی باشندے کو نسلی تعصب و منافرت کا سامنا رہا ہے اور یہ روش ابھی تک جاری ہے ۔
برسلز میں جاری کی گئی، یورپی یونین کی اس رپورٹ کے مطابق، فن لینڈ میں صومالی شہریوں اور جمہوریہ چیک مین “ روما “ یعنی خانہ بدوشوں کو جہاں نسلی تعصب و منافرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے وہاں، ڈنمارک ان دونوں ملکوں کے مقابلے میں اپنے ہاں صومالی شہریوں کو نسلی تعصب کا نشانہ بنائے جانے کی وجہ سے سر فہرست ہے ۔
اس پورٹ میں یوپی یونین کے رکن ممالک میں منتخب شدہ اقلیتی برادریوں کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈنمارک میں صومالی شہریوں کی ایک تہائی تعداد نسلی تعصب و منافرت کانشانہ بن چکے ہے اور انھیں اب بھی اس دکھ دہ صورت حال کا سامنا ہے اور وہ مقامی لوگوں کی نفرت و حقارت سے بچ نہیں پا رہے ۔
یورپی یونین کی “ بنیادی حقوق کی ایجنسی“ کے سربراہ مورٹن کئیروم کا کہنا ہے کہ ڈنمارک کو اپنے ہاں نسلی تعصب سے منسلکہ اور اس زمرے میں کافی مسائل در پیش ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے سروے کے نتیجے میں ڈنمارک میں نسلی تعصب و منافرت کے واقعات کے جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں حقیقت اُن سے کہیں زیادہ ہے ۔
یورپی ینویں مین “ مساوات و برابری “ خے شعبے کے سربراہ ماندانا زارھپروار نے بھی تسلیم کیا ہے کہ صومالی بانشندوں کو دوسری اقلیتوں کے مقابلے میں نسلی نفارت کا زیادہ سامنا ہے اور اس کی وجہ ان کی رنگت کا بہت زیادہ “ کالا “ ہونا ہے ۔
ڈنمارک میں صومالی ڈویلپمنٹ تحریک کے چیئرمین محمد مسکامدا بشیر نے اپنے ہموطنوں کے ساتھ ڈنمارک میں متعصبانہ سلوک کیے جانے پر کسی حیرانگی کا اظہار نہیں کیا ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہم تو روزانہ ہی سنتے اور دیکھتے ہیں کہ صومالیوں کو نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اب تو صومالیوں کو بعض اوقات جسمانی تشدد و مارپیٹ سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ صومالیوں سے روا رکھے گئے اس نسلی متعصبانہ رویے اور حملوں کے بارے میں پولیس کے ہاں بہت کم رپورٹیں درج کرائی جاتی ہیں کیونکہ صومالیوں میں یہ تاظر عام پایا جاتا ہے کہ حکام اور پولیس ان معاملات پر کوئی اقدام نہیں لیتے۔ انھوں نے کہا یہ تاثر ایک یقین کی حد تک پایا جاتا ہے جو خود ان کے نزدیک بہت حد تک درست بھی ہے ۔
ڈنمارک ہی کے حوالے سے یورپی یونیں کی اس خصوصی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دوسرے اقلیتی گروپوں کو بھی ڈنمارک میں ہراساں کیا جاتا ہے۔
حزب اختلاف کی سوشلسٹ پیپلز پارٹی “ ایس ایف “ نے تجویز پیش کی ہے کہ نسلی تعصب و منافرت سے متعلقہ جرائمکاری کے خلاف ایک باقاعدہ “ ٹاسک فورس “ قائم کی جائے اور جرائم کے خاتمے کے لیے پولیس کو خصوصی تربیت دی جائے تاکہ وہ ایسے معاملات کا اندراج کرنے اور پھر انہیں حل کرنے میں کوتاہی کی مرتکب نہ ہونے پائے ۔ ایس ایف پارٹی کی یہ تجویز اب پارلیمنٹ میں زیر بحث لائی جانے والی ہے ۔