Friday, 09.10.2010, 04:33pm (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
خبریں (News)
 
برقعے اور نقاب کے لیے ڈینش سماج میں کوئی جگہ نہیں ۔ وزیر اعظم
Saturday, 01.30.2010, 10:27pm (GMT+1)

رپورٹ :  نصر ملک ۔

ڈینش وزیر اعظم، لارس لکے راسموسن نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ برقعے اور نقاب، دونوں کے لیے ڈینش سماج میں کوئی جگہ نہیں ۔

 میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے کہا ہے کہ ، ڈینش حکومت اور عوام ہرگز نہیں چاہتے کہ عورتیں گلیوں بارازوں میں برقعہ یا نقاب پہن کر گھومیں پھریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی نہیں چاہتے کہ سکولوں میں بچوں اور اساتذہ کے لیے کوئی خاص وردی ہو ۔

روزنامہ پولیٹیکن کے مطابق، اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں وزیر اعظم، وینسٹرا پارٹی کے لارس لکے راسموسن نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں کہ سکولوں اور دیگر درس گاہوں میں طالبات، استانیوں اور دیگر خواتین سرکاری ملازمین کو برقعہ و  نقاب اوڑھنے سے کیسے باز رکھا جا سکتا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس رپورٹ کے بعد یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ عورتوں کو برقعہ یا نقاب اوڑھنے سے دور رکھنے کے لیے کیا اقدامات لیے جا سکتے ہیں، کیا اس کے لیے قانون بنانا ضروری ہوگا یا پھر لوگوں کے رویے میں تبدیلی لانے کے لیے ٹھوس و سخت اقدامات لینے کی ضرورت ہو گی ۔

 وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈینش سماج میں بم ایک دوسرے کو آنکھوں کے رستے ملتے ہیں اور برقعہ یا نقاب اس راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور یہ رکاوٹ قبول نہیں کی جا سکتی۔

 انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ برقعہ و نقاب، دونوں کے لیے ڈینش سماج میں کوئی جگہ نہیں ۔

کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین کی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں صرف تین ، صرف تین عورتیں برقعہ اوڑھتی ہیں جبکہ نقاب اوڑھنے والی خواتیں کی تعداد بھی محض دو تین سو کے قریب ہے ۔
 وزیر اعظم لارس لکے راسموسن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایک عورت بھی  نقاب اوڑھتی ہے تو یہ بھی بہت زیادہ ہے ۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
ڈنمارک میں مستقل اقامتی پرمٹ، شرائط سخت (01.30.2010)
غیر ملکیوں کو ملک بدرکرنا آسان بنایا جائے گا ۔ وزیر انٹگریشن (01.03.2010)
کورٹ ویسٹر گورڈ پر حملہ، بمارے سماج پر حملہ ہے ۔ وزیر اعظم (01.03.2010)
ڈینش کارٹونسٹ پر مبینہ حملہ کرنےوالا صومالی جیل بھیج دیا گیا ۔ (01.03.2010)
نیا سال مبارک ہو (01.01.2010)
ڈنمارک ایک “ آزاد تبت “ کے خلاف ہے (12.10.2009)
الشباب نامی اسلامی تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا جائے ۔ ناصر خضر (12.10.2009)
کوپن ہیگن میں ماحولیات کی عالمی سربراہ کانفرنس شروع (12.07.2009)
ڈنمارک، افغانستان بارے اپنی پالیسی میں تبدیلی کر رہا ہے۔ (11.23.2009)
نسلی تعصب کے استعمال کےمعاملے میں ایک خاتوں پولیس اسسٹنٹ برطرف (11.23.2009)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 
::| Hot News
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس
دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری
پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے
ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
اگلے سال مزید چونتیس ہزار افراد پنشن پر
ڈنمارک نے افغانستان جنگی طیارے بھیجنے کے لیے نیٹو کی درخواست مسترد کر دی
ڈینش شہری دنیا کے ایک سو چونسٹھ ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں
ڈینش میرے والد کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ ولیعہدفریڈرک کا غصہ
دوہری مصبیت کا شکار پاکستانی عیسائیوں کے لیے ڈینش امداد

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]