رپورٹ : نصر ملک ۔
ڈینش وزیر اعظم، لارس لکے راسموسن نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ برقعے اور نقاب، دونوں کے لیے ڈینش سماج میں کوئی جگہ نہیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے کہا ہے کہ ، ڈینش حکومت اور عوام ہرگز نہیں چاہتے کہ عورتیں گلیوں بارازوں میں برقعہ یا نقاب پہن کر گھومیں پھریں ۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی نہیں چاہتے کہ سکولوں میں بچوں اور اساتذہ کے لیے کوئی خاص وردی ہو ۔
روزنامہ پولیٹیکن کے مطابق، اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں وزیر اعظم، وینسٹرا پارٹی کے لارس لکے راسموسن نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں کہ سکولوں اور دیگر درس گاہوں میں طالبات، استانیوں اور دیگر خواتین سرکاری ملازمین کو برقعہ و نقاب اوڑھنے سے کیسے باز رکھا جا سکتا ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس رپورٹ کے بعد یہ بحث کی جا سکتی ہے کہ عورتوں کو برقعہ یا نقاب اوڑھنے سے دور رکھنے کے لیے کیا اقدامات لیے جا سکتے ہیں، کیا اس کے لیے قانون بنانا ضروری ہوگا یا پھر لوگوں کے رویے میں تبدیلی لانے کے لیے ٹھوس و سخت اقدامات لینے کی ضرورت ہو گی ۔
وزیر اعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈینش سماج میں بم ایک دوسرے کو آنکھوں کے رستے ملتے ہیں اور برقعہ یا نقاب اس راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اور یہ رکاوٹ قبول نہیں کی جا سکتی۔
انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ برقعہ و نقاب، دونوں کے لیے ڈینش سماج میں کوئی جگہ نہیں ۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی کے محققین کی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پورے ملک میں صرف تین ، صرف تین عورتیں برقعہ اوڑھتی ہیں جبکہ نقاب اوڑھنے والی خواتیں کی تعداد بھی محض دو تین سو کے قریب ہے ۔
وزیر اعظم لارس لکے راسموسن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایک عورت بھی نقاب اوڑھتی ہے تو یہ بھی بہت زیادہ ہے ۔