Thursday, 09.09.2010, 05:45am (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
خبریں (News)
 
وزارت عظمیٰ کی امیدوار تھورنگ کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہاہے
Friday, 07.30.2010, 02:11pm (GMT+1)

رپورٹ ؛  نصر ملک  ۔ کوپن ہیگن
سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما اور اور پہلی ڈینش خاتون وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھنے والی، ھیلے تھورنگ شمتھ کا گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور بیشتر اخبارات اس پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ وہ رائے دھندگان کے سامنے اپنا اعتماد کھو رہی ہیں

ھیلے تھورنگ شمتھ نے بذات خود اب تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے اپنے برطانوی شوہر سٹیفن کینک کے بارے میں غلط معلومات مہیا کی تھیں کہ وہ کتنے دن ڈنمارک میں رہتے ہیں ۔

ڈینش قومی خبر رساں ایجنسی ، ریٹزاؤ کے مطابق، ھیلے تھورنگ شمتھ کی طرف سے یہ اعتراف تب کیا گیا جب روزنامہ بی ٹی نے، ھیلے تھورنگ سمتھ کی جانب سےسنہ دو بزار نو میں ،  وزارت انصاف کو بھیجی گئی ایک ، ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ھیلے تھورنگ کے بقول اُن کے برطانوی شوہر ڈنمارک میں صرف ہر “ ویک اینڈ “ پر جمعہ سے سوموار تک قیام کرتے ہیں ۔

وزارت انصاف کے ساتھ ھیلے تھورنگ شمتھ کی خط و کتابت کا مقصد، اپنے برطانوی شوہر سٹیفن کینک کو  کوپن ہیگن میں اپنے مکان میں حصہ دار بنانے کے لیے اجازت لینا تھا ۔ سٹیفن کینک جینیوا میں کام کرتے ہیں ۔  وزارت انصاف کو اس سلسلے میں مہیا کی گئیں، ھیلے تھورنگ شمتھ کی معلومات پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے، بی ٹی نے انہیں سراسر غلط قرار دیتے ہوئے اس کا ثبوت بھی پیش کر دیا ہے ۔  اس سے پہلے ھیلے تھورنگ شمتھ نے اپنے اور اپنے شوہر کے ٹیکس کے معاملات میں محکمہ ٹیکس کو جو معلومات مہیا کی تھیں ان میں ھیلے تھورنگ شمتھ نے کہا تھا کہ ان کے شوہر صرف اکتیس “ ویک اینڈ “ سالانہ گزارتے ہیں ۔  خٰیال رہے  کہ ڈنمارک میں ٹیکس کی ادائیگی کا انحصار کسی فرد کے ڈنمارک میں قیام کی مدت سے تعلق رکھتا بے یعنی کہ متعلقہ فرد ، ڈنمارک میں جو جنتی مدت  قیام  کرتا ہے کیا اس کی وجہ سے اس پر ٹیکس لاگو ہوسکتا ہے یا نہیں ۔

ھیلے تھورنگ شمتھ نے یہ معلومات سنہ دو بزار نو میں ، وزارت انصاف کو تب مہیا نہیں کی تھیں جب وہ اپنے شہر کو اپنے مکان میں حصہ دار بنانے کے لیے اجازت کے لیے درخواست دی تھی ۔ ھیلے تھورنگ شمتھ نے اسے تسلیم کرتے ہوئے ، ڈینش قومی خبرساں
ایجنسی ، ریٹزاؤ کو بتایا کہ “ یہ ایک “  لا پرواہ غلطی “ تھی اور اس پر انہیں افسوس ہے “

ھیلے تھورنگ شمتھ نے اگرچہ کہا ہے کہ وہ اپنے برطانوی شوہر کے ڈنمارک میں قیام کے متعلق اب بالکل درست معلومات ، وزارت انصاف کو مہیا کرنے والی ہیں اور اب یہ وزارت پر منحصر ہے کہ وہ انہیں کیا اہمیت دیتی اور کس طرح استعمال کرتی ہے ۔  ھیلے تھورنگ شمتھ کا یہ کہنا اپنی جگہ لیکن اگر آج جمعہ کے ڈینش اخبارات کے ادرویوں پر نگاہ ڈالی جائے تو وہ اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ
 سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما اور وزارت عظمیٰ کی امیدوار ھیلے تھورنگ شمتھ بڑی بری طرح سے کمزور پڑ چکی ہیں ۔

کل جمعرات،  ھیلے تھورنگ شمتھ نے کہا تھا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ انھوں نے وزارت انصاف اور محکمہ ٹیکس کو اپنے برطانوی شوہر کے ٹیکس  اور کوپن ہیگن کے علاقے  اُوسٹربرو میں اُن کے مکان میں رہائش کی صورت حال  کے بارے میں متضاد و مختلف معلومات مہیا کی تھیں ۔

روزنامہ  بی ٹی   نے اپنے اداریے میں آج لکھا ہے کہ ھیلے تھورنگ شمتھ اپنا وہ سیاسی وقار بحال کرنے میں مصروف ہیں جو انہیں تب حاصل ہوا تھا جب وہ سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی چیئرمین منتخب ہوئیں تھیں ۔  لیکن اپنے شوہر، سٹیفن کینوک کی ڈنمارک میں موجودگی کے بارے میں حکام کو دیئے گئے بیانات میں تبدیلیوں کی وجہ سے، انھوں نے  وزارت عظمیٰ کا عہدہ حاصل کرنے کے اپنے خواب کو داؤ پر لگا دیا ہے ۔

جیسا کہ جمعرات کو ھیلے تھورنگ شمتھ نے کہا تھا اگرچہ “ یہ معاملہ ایک “ لاپرواہی “ ہی ہو سکتا ہے “ لیکن،جیسا کہ روزنامہ بی ٹی نے لکھا ہے “ جب وزارت عظمیٰ کا کوئی امیدوار حقائق پر قابو نہیں رکھ سکتا تو پھر یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے“۔

اخبار
Berlingske Tidende
نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ھیلے تھورنگ شمتھ کو اپنی  معتبریت یعنی  قابل اعتبار ہونے کی ساکھ  کے حوالے سے ایک سنجیدہ معاملے کا سامنا ہے اور شاید قانون کے ساتھ بھی وہ سمئلے سے دوچار ہیں کیونکہ انہوں نے،  وزارت انصاف کو غلط معلومات مہیا کی ہیں ۔
اخباز نے مزید لکھا ہے کہ کون ہو گا جو ایک ایسے سیاستدان پر اعتبار کرے گا جو، اپنی شخصی صورت حال کے مقابلے میں حقیقت یا سچ کو دبا دیتا ہے ۔

روزنامہ
Information
نے لکھا ہے کہ  ایک “ لاپرواہ غلطی“  اس بات کا اشارہ ہے کہ ، ھیلے تھورننگ شمتھ اپنے آپ کو ایک کٹھن مشکل میں جھونک چکی ہیں ۔ وہ ایک تباہ کن غلطی کی مرتکب ہوئی ہیں اور انہیں پارٹی چیئرمین کی حیثیت میں خود کو سنبھالنا مشکل ہو سکتا ہے ۔
اخبار کے مطابق؛ اس سے قطع نظر کہ سوشل ڈیموکریٹ کے اتحادی کیا کہتے ہیں، ھیلے تھورنگ شمتھ کے بیانات کی وجہ سے وہ پارٹی چیئرمین شپ کے عہدے پر بہت کمزور پڑ چکی ہیں ۔

روزنامہ یولینڈ پوسٹن  نے لکھا ہے کہ اس میں تعجب نہیں کہ  ٹیکس کے معاملے میں ھیلے تھورنگ شمتھ کا کردار ایک ایسے  بد گمان و بے اعتبار فرد کی تصویر کشی اور نمائندگی کرتا ہے جو ان کے سیاسی راستے کی پیروی کرتا ہے ۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ھیلے تھورنگ شمتھ ایک تنی ہوئے رسے پر کھڑی ہیں اور صاف دکھائی دیتا ہی کہ وہ جو کچھ کر رہی ہیں  وہ  معاشرے کے کمزور طبقے اور ایک منصفانہ معاشرے کے لیے نہیں بلکہ اس کے متضاد وہ صرف اپنے آپ کو آگے رکھ رہی ہیں ۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
رومانیہ کے شہریوں کی ملک بدری، ڈنمارک کا متعصبانہ پن ہے ۔ سویڈن (07.22.2010)
مزید تارکین وطن کو روزگار پر لگانے کی اشد ضرورت (07.22.2010)
ہیروئین کی سمگلنگ میں ملوث پانچ پاکستانیوں کو سزا (07.22.2010)
ڈینشنوں کی اکثریت برقعہ پر پابندی چاہتی ہے (07.17.2010)
دنیا کے سب سے بڑے احمق، مسلمان ہیں ۔ ناصر خضر (07.16.2010)
غیر ملکیوں کے لیے ایک منفرد ، ویب سائٹ کا قیام (07.16.2010)
غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو نصف تنخواہ دی جانی چاہیئے ۔ وینسٹرا پارٹی ۔ (07.10.2010)
ڈنمارک : سیاسی پناہ حاصل کرنیوالوں میں اضافہ (07.10.2010)
نئے سپر ہسپتال کی بنیاد کے لیے، وزیر اعظم کا اپنی غلطی کا اعتراف (07.04.2010)
ڈنمارک میں غیر ملکیوں کی آمد، بتدریج کمی (07.04.2010)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 
::| Hot News
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس
دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری
پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے
ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
اگلے سال مزید چونتیس ہزار افراد پنشن پر
ڈنمارک نے افغانستان جنگی طیارے بھیجنے کے لیے نیٹو کی درخواست مسترد کر دی
ڈینش شہری دنیا کے ایک سو چونسٹھ ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں
ڈینش میرے والد کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ ولیعہدفریڈرک کا غصہ
دوہری مصبیت کا شکار پاکستانی عیسائیوں کے لیے ڈینش امداد

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]