رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ڈنمارک کی جانب سے رومانیہ کے تائیس شہریوں کو ملک بدر کر دیئے جانے پر “ جپسیوں کے معاملات پر سویڈن کی سرکاری کمیٹی “ کی ترجمان ماریا لئیسنر نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈنمارک کا یہ اقدام نسلی تعصب پر مبنی ہے اور اپنے اس عمل سے ڈنمارک یورپی یونین کے قوائد و قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہواہے ۔
ڈنمارک نے رومانیہ کے تائیس شہریوں کو حراست میں لے کر ان پر کوئی مقدمہ چلائے بغیر، انہیں چھ جولائی کو ملک بدر کر دیا تھا ۔
ڈنمارک کے اس اقدام پر خود ، عفو عامہ کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈینش شاخ نے کڑی تنقید کرتے ہوئے اُن وجوہات کو یکسر مسترد کردیا تھا جن کی بنا پر ڈینش پولیس نے رومانیہ کے شہریوں کو حراست میں لیا تھا ۔ یعنی کہ وہ ایک پارک میں یا ایک بوسیدہ عمارت میں “ ٹھہرے“ ہوئے تھے ۔ اور ان کے پاس کوئی کام کاج نہیں تھا اور ان کی وجہ سے جرائمکاری کا خطرہ تھا ۔
سویڈن کی سیاستدان ماریا لئیسنر نے کہا ہے کہ یہ صاف عیاں ہے کہ ڈنمارک نے یورپی یونین کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک میں آزادانہ نقل و حرکت کے قوائد و ضوابط کی بلکل پیروی نہیں کی اور نہ ہی انہیں کسی خاطر میں لایا گیا ہے اور یہ بھی صاف عیاں بے کہ اس عمل کے پیچھے یعنی رومانیہ کے شہریوں کی ملک بدری کے پیچھے ، سراسر نسلی متعصابہ مقاصد کار فرما ہیں ۔
ماریا لئیسنر کو اس پر سخت غصہ ہے کہ ڈینش پولیس نے یورپی یونین کے شہریوں کو گرفتار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈینش پولیس دعویٰ کرتی ہے کہ رومانیہ کے یہ شہری غیر قانونی جگہوں پر قیام کیے ہوئے تھے لیکن ڈینش پولیس کا یہ اقدام یورپی یونین کے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے ضوابط کے خلاف ہے ۔
ڈنمارک کے اس متذکرہ بالا اقدام پر جہاں ایمنسٹی انٹرنیشل کی ڈینش شاخ، انسانی حقوق کی کئی ایک ڈینش تنظیمات اور اب سویڈن کی معتبر سیاستدان تک شدید تنقید کرہے ہیں اور انہوں نے اسے ڈنمارک کا نسلی منافرت و تعصب پر مبنی قدم قرار دیا ہے ، ڈینش حکومت میں شامل، کنزرویٹوو پارٹی کے پارلیمانی رکن اور انٹگریشن کے امور کے ترجمان ، عرب نژاد ناصر خضراپنی ہی بین بجا رہے ہیں ۔
ناصر خضر نے رومانیہ کے شہریوں کی ملک بدری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ، ماریا لئیسنر کو شاید پورے معاملے کا پتا نہیں ہے کیونکہ ہم لوگوں کو صرف اس لیے ملک بدر نہیں کرتے کہ وہ جپسی یا خانہ بدوش ہیں ۔ ناصر خضر نے کہا ہے کہ پولیس کو اندازہ ہے کہ یہ افراد ڈنمارک میں جرائمکاری جیسی سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔
حکمران، وینسٹرا پارٹی کے امور انٹگریشن کے ترجمان ، کارسٹن لاؤرٹسن نے بھی ، سویڈش سیاستدان، ماریا لئیسنر کی تنقید پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے ۔
ڈی آر نیوز کے مطابق، انھوں نے سویڈش ریڈیو کو بتایاکہ یورپی یونین کے شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے، روزگار کا ہونا ایک مرکزی جز ہے لیکن رومانیہ کے یہ متذکرہ شہری کام نہیں کرتے تھے ۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی میں ، قانون کے پروفیسر ہالٹے راسموسن نے ، ڈی آر نیوز کو بتایا کہ، رومانیہ کے شہریوں کی ملک بدری کا معاملہ ایک “ گرین زون “ ہے ۔ انھوں نے البتہ اس بات کو مسترد کردیا کہ رومانیہ کے شہریوں کو صرف اس وجہ سے ڈنمارک بدر کیا جا سکتا تھا کہ اُن کے پاس روزگار نہیں تھا ۔ انھوں نے کہا کہ فی الوقت جو ضوابط نافذ ہیں ان کے تحت لازم ہے کہ رومانیہ کے شہریوں کے پاس اُن کے ہیلتھ کارڈ ہونے چاہئیں اور وہ خود اس قابل ہونے چاہئیں کہ وہ اپنے قیام کے دوران اپنے اخراجات چلانے میں خود کفیل ہوں ۔ اور اگر ڈینش حکومت یہ ثابت کر سکتی ہے کہ ملک بدر کیے گئے رومانیہ کے تائیس شہریوں کے پاس ایسا کچھ بھی نہیں تھا تو پھر حکومت اُن کو ملک بدر کرنے میں حق بجانب تھی اور اس کو نسلی تعصب سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا ۔
ڈنمارک سے رومانیہ کے تائیس شہریوں کو ملک بدر کر دیئے جانے کے معاملے پر سویڈن کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنائے جانے اور ڈنمارک کے اس عمل کے پیچھے نسلی متعصبانہ مقاصد ہونے کا الزام لگائے جانے پر، ڈنمارک میں غیر ملکیوں مخالف اور انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست، حکومت کی حامی ، ڈینش پیپلز پارٹی نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
امور انٹگریشن کی پارلیمانی کمیٹی کے رکن ، ڈینش پیپلز پارٹی کے مارٹن ھنرکسن نے کہا ہے کہ سویڈش حکومت، ڈنمارک کو بہتر طور پر یہ وضاحت کرنے کی قرض دار ہے کہ وہ رومانیہ کے شہریوں کی ملک بدری کو نسلی متعصبانہ فعل کیوں قرار دے رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ سویڈن کا یہ اقدام، تمام حدود کو تجاوز کر گیا ہے جو بہت عجیب لگتا بے ۔
ڈی آر نیوز کے مطابق، ڈینش پیپلز پارٹی کے مارٹن ھنرکسن نے کہا کہ ان کی پارٹی یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرے گی کہ کیا سویڈن کی سیاستدان ماریا لئیسنر کے متذکرہ بیان کے پیچھے خود سویڈش حکومت کا ہاتھ ہے ۔
انھوں نے کہا کہ اگر سویڈش حکومت بھی یہی کہتی ہے جو ماریا لئیسنر نے، ڈنمارک بارے کہا ہے تو پھر، ڈینش پیپلز پارٹی، ڈینش حکومت کو متوجہ کرے گی کہ وہ سویڈن سے اس معاملے پر باقاعدہ وضاحت طلب کرے ۔