مزید تارکین وطن کو روزگار پر لگانے کی اشد ضرورت
Thursday, 07.22.2010, 06:56pm (GMT+1)
رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن اگر ڈینش فلاح و بہبود سماج کو ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے تو پھر ، غیر ڈینش پس منظر رکھنے والے، مزید غیر ملکیوں کو روزگار پر بھرتی کرنا بوگا ۔ فی الوقت جہاں، روزگار و کام کاج کی عمر رکھنے والا، کم و بیش ہر دسواں شہری، تارک وطن یا اُس کی آل اولاد سے تعلق رکھتا ہے وہاں سنہ ٢٠٥٠ میں ہر پانچواں ایسا ہو گا ۔ روزنامہ کرسچلی ڈاؤ بلیڈت کے مطابق یہ بات وزارت انٹگریشن کے اپنے اعدادو شمار میں بتائی گئی ہے جو ابھی منظر عام پر نہیں لائے گئے ۔
محض رسمی خواندگی ڈینش کاردھندگان کی تنظیم ، ڈی اے، کے مشیر اعلیٰ، ینس ٹرول بورگ کے مطابق، فلاح و بہبود کی معاشری ترقی کے لیے بڑے چیلینج ہیں ۔ ان کا کہنا بے کہ ، تارکین وطن اور ان کی اولادوں میں سے نصف کے قریب، پرائمری سکول تک کی تعلیم کے بعد سکول چھوڑ دیتے ہیں اور اس طرح وہ ، محض رسمی خواندہ یعنی لکھے پڑھے ہوتے ہیں جو ان پڑھ ہونے کے بہت قریب ہوتے ہیں اور یوں وہ، سیکنڈری ، یا نوجوانوں کے لیے تعلیم اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے آگے نہیں جا سکتے ۔ ینس ٹرول بورگ کا کہنا ہے کہ اس پر نگاہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ غیر ملکی اور ان کی اولادیں، مستقبل میں افرادی قوت میں ایک نمایاں نمائندگی حاصل کر سکنے کے اہل ہونے چاہئیں۔
تربیت سے محرومی کرائن بلوم ینسن جو کہ بلدیاتی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعلیٰ محقق ہیں اور کئی سال سے تارکین وطن اور ان کی اولادوں کے ساتھ روزگار کی منڈی میں ملازمتوں سلسلے میں کام کرتے چلے آئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ، ہمیں اس ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی خاصی تعداد، ڈینش انسل نوجوانوں کے مقابلے میں پیشہ وارانہ روز گاری تربیت میں پیچھے رہ جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ہم ابھی شاید کچھ زیادہ نہیں کرتے لیکن مستقبل میں اس کے متعلق کچھ کیا جانا لازمی ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تارکین وطن اور ان کی اولادوں پر توجہ دینی چاہیئے کہ وہ روزگار کی منڈی میں مقابلے کے لیے حصہ لیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیشرفت دوسرے کئی پہلوؤں سے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے ۔ کچھ چیزیں آسان ہو جاتی ہیں اور کچھ مسئلے خود بخود حل ہونے لگتے ہیں اور تارکین وطن کو روزگار ملنا آسان ہونے لگتا بے ۔ انہوں نے کہا کہ کار دھندگان افرادی قوت کا پانچواں حصہ کھو دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔
اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©
|