Thursday, 09.09.2010, 05:44am (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
خبریں (News)
 
مزید تارکین وطن کو روزگار پر لگانے کی اشد ضرورت
Thursday, 07.22.2010, 06:56pm (GMT+1)

رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
اگر ڈینش فلاح و بہبود سماج کو ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے تو پھر ، غیر ڈینش پس منظر رکھنے والے، مزید غیر ملکیوں کو روزگار پر بھرتی کرنا بوگا ۔ فی الوقت جہاں،  روزگار و کام کاج کی عمر رکھنے والا،  کم و بیش ہر دسواں شہری، تارک وطن یا اُس کی آل اولاد سے تعلق رکھتا ہے وہاں سنہ ٢٠٥٠ میں ہر پانچواں ایسا ہو گا ۔ روزنامہ کرسچلی ڈاؤ بلیڈت کے مطابق یہ بات وزارت انٹگریشن کے اپنے اعدادو شمار میں بتائی گئی ہے جو ابھی منظر عام پر نہیں لائے گئے ۔

محض رسمی خواندگی
ڈینش کاردھندگان کی تنظیم ، ڈی اے، کے مشیر اعلیٰ،  ینس ٹرول بورگ کے مطابق، فلاح و بہبود کی معاشری ترقی کے لیے بڑے چیلینج ہیں ۔ ان کا کہنا بے کہ ، تارکین وطن اور ان کی اولادوں میں سے نصف کے قریب، پرائمری سکول تک کی تعلیم کے بعد سکول چھوڑ دیتے ہیں اور اس طرح وہ ، محض رسمی خواندہ یعنی لکھے پڑھے ہوتے ہیں جو ان پڑھ ہونے کے بہت قریب ہوتے ہیں اور یوں وہ، سیکنڈری ، یا نوجوانوں کے لیے تعلیم اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے آگے نہیں جا سکتے ۔  ینس ٹرول بورگ کا کہنا ہے کہ اس پر نگاہ رکھنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ غیر ملکی اور ان کی اولادیں، مستقبل میں افرادی قوت میں ایک نمایاں نمائندگی حاصل کر سکنے کے اہل ہونے چاہئیں۔

تربیت سے محرومی
کرائن بلوم ینسن جو کہ بلدیاتی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعلیٰ محقق ہیں اور کئی سال سے تارکین وطن اور ان کی اولادوں کے ساتھ روزگار کی منڈی میں ملازمتوں سلسلے میں کام کرتے چلے آئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ،  ہمیں اس ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ  نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی خاصی تعداد، ڈینش انسل نوجوانوں کے مقابلے میں پیشہ وارانہ روز گاری تربیت میں پیچھے رہ جائے گی ۔
انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ہم ابھی شاید کچھ زیادہ نہیں کرتے لیکن مستقبل میں اس کے متعلق کچھ کیا جانا لازمی ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تارکین وطن اور ان کی اولادوں پر توجہ دینی چاہیئے کہ وہ  روزگار کی منڈی میں مقابلے کے لیے حصہ لیں ۔
 انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیشرفت دوسرے کئی پہلوؤں سے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے ۔ کچھ چیزیں آسان ہو جاتی ہیں اور کچھ مسئلے خود بخود حل ہونے لگتے ہیں اور تارکین وطن کو روزگار ملنا آسان ہونے لگتا بے ۔ انہوں نے کہا کہ کار دھندگان افرادی قوت  کا پانچواں حصہ کھو دینے کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
ہیروئین کی سمگلنگ میں ملوث پانچ پاکستانیوں کو سزا (07.22.2010)
ڈینشنوں کی اکثریت برقعہ پر پابندی چاہتی ہے (07.17.2010)
دنیا کے سب سے بڑے احمق، مسلمان ہیں ۔ ناصر خضر (07.16.2010)
غیر ملکیوں کے لیے ایک منفرد ، ویب سائٹ کا قیام (07.16.2010)
غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو نصف تنخواہ دی جانی چاہیئے ۔ وینسٹرا پارٹی ۔ (07.10.2010)
ڈنمارک : سیاسی پناہ حاصل کرنیوالوں میں اضافہ (07.10.2010)
نئے سپر ہسپتال کی بنیاد کے لیے، وزیر اعظم کا اپنی غلطی کا اعتراف (07.04.2010)
ڈنمارک میں غیر ملکیوں کی آمد، بتدریج کمی (07.04.2010)
تارکین وطن کے لیے مشاورتی مرکز کا قیام (07.04.2010)
نیا میڈیسن کارڈ انسانی جانیں بچائے گا (07.04.2010)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 
::| Hot News
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس
دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری
پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے
ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
اگلے سال مزید چونتیس ہزار افراد پنشن پر
ڈنمارک نے افغانستان جنگی طیارے بھیجنے کے لیے نیٹو کی درخواست مسترد کر دی
ڈینش شہری دنیا کے ایک سو چونسٹھ ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں
ڈینش میرے والد کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ ولیعہدفریڈرک کا غصہ
دوہری مصبیت کا شکار پاکستانی عیسائیوں کے لیے ڈینش امداد

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]