رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
کوپن ہیگن کی شہری عدالت نے بدھ کے روز، پانچ پاکستانی النسل افراد کو ہیروئین کی بھاری مقدار ڈنمارک سمگل کرنے کے الزام میں آٹھ آٹھ سال قید کی سزا اور ملک بدری کا حکم سنایا ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، سمگلنگ کے دھندے کے سرغنہ، انتالیس سالہ پاکستانی النسل، بشارت علی چیمہ کو، آٹھ سال قید کی سزا اور یہ سزا پوری ہو جانے کے بعد ، ملک بدر کر دیئے جانے کا حکم سنایا گیا ، جب کہ اُس کے دو خاص ساتھی کو جوآپس میں سگے بھائی ہیں ، تیس سالہ، فیاض احمد ممتاز اور تائیس سالہ اشتیاق احمد ممتاز ، دونوں کو سات سات سال قید کی سزا کے علاوہ ملک بدری کی مشروط سزا سنائی گئی بدیگر الفاظ وہ اپنی قید کی سزا پوری کرنے کے بعد، اگر کبھی کسی بھی جرم میں ملوث پائے گئے تو دوسری تعزیراتی سزا کے علاوہ انہیں ملک بدری کا سامنا بھی کرنا پڑے گا ۔
سمگلنگ کے اسی مقدمے میں ملوث ایک اور پاکستانی النسل، سنتیس سالہ بشارت احمد کو ساڑھے چھ سال قید اور ملک بدری کی سزا کا حکم سنایا گیا ۔
اسی مقدمے میں ملوث ایک چونتالیس سالہ فرد جو سمگلروں کے لیے ان کی مہیا کردہ ہیروئین فروخت کرتا تھا اسے عدالت نے، اٹھارہ ماہ قید کی سزا سنائی ۔ اس پر الزام تھا کہ اُس نے گیارہ مرتبہ، پچاس پچاس گرام ہیروئین وصول کی لیکن عدالت نے اسے ان سبھی الزامات میں بری کر دیا البتہ ایک الزام کو بر قرار رکھا کیونکہ یہاں اس معاملے میں “ نگرانی کرنے والے ویڈیو کیمرے “ کے ذریعے لی گئی اس کی فوٹوز، اس کے خلاف ٹھوس و حتمی گواہی ثابت ہوئیں ۔
پولیس نے ہیروئین کے ان سمگلروں کو، کوپن ہیگن میں ایک مکان سے، پچھلے سال، چھ نومبر کو تب گرفتار کیا جب وہ وہاں آپس میں مل رہے تھے اور سمگل کی گئی ہیروئین کی فروخت وغیرہ کے لیے منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ پولیس نے بڑی مقدار ًیں موجود یہ ہیروئین بھی برآمد کر لی تھی ۔ وہ اس سے بے خبر تھے کہ پولیس ایک عرصے سے ان کی نقل و حرکت پر گہری نگاہ رکھے ہوئے تھی ۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ، ہیروئین کی سمگلنگ کے سرغنہ ، بشارت علی چیمہ نے ممنوعہ منشیات ، ڈنمارک سمگل کرنے کی کوشش کی ، اسے سنہ دو ہزار آٹھ میں بھی اس جرم میں سزا سنائی گئی تھی تب اُس نے تین کلو گرام ہیروئین ڈنمارک سمگل کرنے کا بندوبست کیا تھا ۔