Saturday, 09.04.2010, 09:07pm (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
خبریں (News)
 
ڈینشنوں کی اکثریت برقعہ پر پابندی چاہتی ہے
Saturday, 07.17.2010, 10:40pm (GMT+1)

رپورٹ:  نصر ملک  ۔ کوپن ہیگن ۔

ڈینشوں کی اکثریت چاہتی ہے عوامی مقامات پر “ برقعہ اور حجاب “ پر پابندی ہونی چاہیئے۔ ایسا کہنے والوں میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے ۔

 

ڈی آر نیوز کے لیے، ایک سروے میں، ایک ہزار اکتیس ڈینشوں سے استفسار کیا گیا کہ کیا ڈنمارک میں عوامی مقامات پر، برقعہ یا نقاب کی اجازت ہونی چاہیئے یا نہیں؟

 

ترپن فیصد ڈینشوں نے اس سوال کا “ ہاں “ میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ، ڈنمارک میں عوامی مقامات پر برقعہ و نقاب کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے اور ان کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیئے ۔

 

جن لوگوں سے اس بارے میں استفسار کیا گیا اُن میں سے اڑتیس فیصد کا کہنا بے کہ، ہاں ، عوامی مقامات پر برقعہ و نقاب کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیئے ۔ برقعہ یا نقاب کے استعمال پر پابندی کی خواہش رکھنے والی  ڈینش عورتوں کے مقابلے میں ڈینش مردوں کی تعداد زیادہ ہے ۔

 

اسی سروے میں نوجوانوں کے حوالے سے جو بات سامنے آئی ہے وہ بڑی دلچسپ ہے ۔

نوجوان ایسی کسی بھی پابندی کے لگائے جانے کے خلاف ہیں ۔ لیکن پچپن سال سے زیادہ کی عمر والے، پینسٹھ فیصد ڈینش اور پنتیس سال سے پچپن سال کی درمیانی عمر والے ڈینش  ایسی پابندی چاہتے ہیں جبکہ پنتیس سال کی عمر والے ڈینشوں کی صرف تہائی تعداد اس کے حق میں ہے ۔ دوسری طرف عمر کے لحاظ سے انہی گروپوں کے ساٹھ فیصد ڈینشوں کا کہنا ہے کہ برقعہ و نقاب کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیئے ۔

 

تعلیم اورعلاقائی لحاظ سے بھی برقعہ و نقاب پر پابندی یا اس کے استعمال کی اجازت ہونے بارے، ڈینشنوں کی رائے بڑی مختلف ہے ۔

صرف بنیادی سکولی تعلیم رکھنے والے اور پیشہ وارانہ تعلیم کے حامل ڈینش، برقعہ و نقاب پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں ۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے یا کر چکے ہوئے ڈینشوں کی صرف ایک چوتھائی تعداد پابندی کے حق میں ہے ۔

 

جغرافیائی علاقہ بندی کے لحاظ سے، نارتھ یولینڈ ریجن میں انسٹھ فیصد ڈینش پابندی کے  بہت زیادہ حق میں ہیں ۔ دارالحکومتی ریجن میں صرف پنتالیس فیصد ڈینش چاہتے ہیں کہ عوامی مقامات پر، برقعہ و نقاب پر پابندی ہونی چاہیئے ۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
دنیا کے سب سے بڑے احمق، مسلمان ہیں ۔ ناصر خضر (07.16.2010)
غیر ملکیوں کے لیے ایک منفرد ، ویب سائٹ کا قیام (07.16.2010)
غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو نصف تنخواہ دی جانی چاہیئے ۔ وینسٹرا پارٹی ۔ (07.10.2010)
ڈنمارک : سیاسی پناہ حاصل کرنیوالوں میں اضافہ (07.10.2010)
نئے سپر ہسپتال کی بنیاد کے لیے، وزیر اعظم کا اپنی غلطی کا اعتراف (07.04.2010)
ڈنمارک میں غیر ملکیوں کی آمد، بتدریج کمی (07.04.2010)
تارکین وطن کے لیے مشاورتی مرکز کا قیام (07.04.2010)
نیا میڈیسن کارڈ انسانی جانیں بچائے گا (07.04.2010)
حزب اختلاف کا منصوبہ ایک بغاوت ہے ۔ وزیر اعظم راسموسن (06.30.2010)
ڈنمارک : گھریلو تشدد میں اضافہ (06.29.2010)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 
::| Hot News
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس
دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری
پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے
ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
اگلے سال مزید چونتیس ہزار افراد پنشن پر
ڈنمارک نے افغانستان جنگی طیارے بھیجنے کے لیے نیٹو کی درخواست مسترد کر دی
ڈینش شہری دنیا کے ایک سو چونسٹھ ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں
ڈینش میرے والد کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ ولیعہدفریڈرک کا غصہ
دوہری مصبیت کا شکار پاکستانی عیسائیوں کے لیے ڈینش امداد

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]