رپورٹ: نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ڈینشوں کی اکثریت چاہتی ہے عوامی مقامات پر “ برقعہ اور حجاب “ پر پابندی ہونی چاہیئے۔ ایسا کہنے والوں میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی تعداد زیادہ ہے ۔
ڈی آر نیوز کے لیے، ایک سروے میں، ایک ہزار اکتیس ڈینشوں سے استفسار کیا گیا کہ کیا ڈنمارک میں عوامی مقامات پر، برقعہ یا نقاب کی اجازت ہونی چاہیئے یا نہیں؟
ترپن فیصد ڈینشوں نے اس سوال کا “ ہاں “ میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ، ڈنمارک میں عوامی مقامات پر برقعہ و نقاب کے استعمال کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے اور ان کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیئے ۔
جن لوگوں سے اس بارے میں استفسار کیا گیا اُن میں سے اڑتیس فیصد کا کہنا بے کہ، ہاں ، عوامی مقامات پر برقعہ و نقاب کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیئے ۔ برقعہ یا نقاب کے استعمال پر پابندی کی خواہش رکھنے والی ڈینش عورتوں کے مقابلے میں ڈینش مردوں کی تعداد زیادہ ہے ۔
اسی سروے میں نوجوانوں کے حوالے سے جو بات سامنے آئی ہے وہ بڑی دلچسپ ہے ۔
نوجوان ایسی کسی بھی پابندی کے لگائے جانے کے خلاف ہیں ۔ لیکن پچپن سال سے زیادہ کی عمر والے، پینسٹھ فیصد ڈینش اور پنتیس سال سے پچپن سال کی درمیانی عمر والے ڈینش ایسی پابندی چاہتے ہیں جبکہ پنتیس سال کی عمر والے ڈینشوں کی صرف تہائی تعداد اس کے حق میں ہے ۔ دوسری طرف عمر کے لحاظ سے انہی گروپوں کے ساٹھ فیصد ڈینشوں کا کہنا ہے کہ برقعہ و نقاب کے استعمال کی اجازت ہونی چاہیئے ۔
تعلیم اورعلاقائی لحاظ سے بھی برقعہ و نقاب پر پابندی یا اس کے استعمال کی اجازت ہونے بارے، ڈینشنوں کی رائے بڑی مختلف ہے ۔
صرف بنیادی سکولی تعلیم رکھنے والے اور پیشہ وارانہ تعلیم کے حامل ڈینش، برقعہ و نقاب پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں ۔
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے یا کر چکے ہوئے ڈینشوں کی صرف ایک چوتھائی تعداد پابندی کے حق میں ہے ۔
جغرافیائی علاقہ بندی کے لحاظ سے، نارتھ یولینڈ ریجن میں انسٹھ فیصد ڈینش پابندی کے بہت زیادہ حق میں ہیں ۔ دارالحکومتی ریجن میں صرف پنتالیس فیصد ڈینش چاہتے ہیں کہ عوامی مقامات پر، برقعہ و نقاب پر پابندی ہونی چاہیئے ۔