Saturday, 09.04.2010, 08:37pm (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
خبریں (News)
 
دنیا کے سب سے بڑے احمق، مسلمان ہیں ۔ ناصر خضر
Friday, 07.16.2010, 10:55pm (GMT+1)

رپورٹ :  نصر ملک  ۔ کوپن ہیگن

ڈینش حکومت میں شامل کنزرویٹوو پارٹی  کے امور انٹگریشن  کے ترجمان، ناصر خضر نے کہا ہے کہ دینا  کے سب سے بڑے احمق ،مسلمان میں اور وہ خود  دین اسلام کو چھوڑ دیں گے ۔

 

ناصر خضر جو دین اسلام چھوڑ جانے کو سوچ رہے ہیں

  عرب نژاد ، کنزرویٹوو پارٹی کے متنازع پارلیمانی رکن، ناصر خضر نے مزید کہا کہ وہ  ایسے وحشی  اہل ایمان عناصر کے ساتھ نہیں رہ سکتے جو اللہ کے نام ُر قتل کرتے اور عورتوں کو دباتے ہیں ۔ ناصر خضر جو  مسلمانوں کے خلاف ایک مخصوص معاندانہ اور متنفرانہ رویہ رکھتے اور اُن پر تنقید کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے ، انہوں نےایران میں ایک تنتالیس سالہ عورت کو زنا کے مبینہ جرم میں سنگسار کئے جانے کے مبینہ فیصلے پر شدید غصے کا اظیار کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر اپنی فیس بک میں لکھاہے کہ  وہ دین اسلام کو چھوڑ دینے بارے غور کر رہے ہیں ۔

 

ناصر خضر نے  ایران میں متذکرہ بالا مبینہ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی فیس بُک میں لکھا ہے کہ انہیں شدید غصہ ہے اور وہ سخت تنگ آچکے ہیں کہ  اتنی زیادہ تعداد میں دنیا کے سب سے بڑے احمق مسلمان ہیں ۔ انہوں نےدین اسلام کو چھوڑ دینے بارے اپنی فیس بُک میں لکھے ہوئے اپنے بیان کے حوالے سے ، ڈی آر نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اسلام چھوڑ نہیں رہا ہوں لیکن مجھے اس پر سخت غصہ ہے اور میں تنگ آ چکا ہوں کہ اللہ کے نام پر لوگ قتل کرتے ہیں ، دہشت گردی پھیلاتے ہیں ۔

 

ڈینش حکومت میں شامل کنزرویٹوو پارٹی کے پارلیمانی رکن اور امور انٹگریشن کے ترجمان نے  اپنی فیس بُک پر لکھا ہے کہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ دین اسلام کو چھور جانے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ ناصر خضر کا کہنا ہے کہ جب کبھی کوئی ایسا واقع رونما ہوتا ہے تو وہ یہی سوچتے ہیں لیکن انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ( اسلام ہی میں ) رہیں گے اور اپنی جنگ جاری رکھیں گے ۔ کیونکہ دین پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی

 

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
غیر ملکیوں کے لیے ایک منفرد ، ویب سائٹ کا قیام (07.16.2010)
غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو نصف تنخواہ دی جانی چاہیئے ۔ وینسٹرا پارٹی ۔ (07.10.2010)
ڈنمارک : سیاسی پناہ حاصل کرنیوالوں میں اضافہ (07.10.2010)
نئے سپر ہسپتال کی بنیاد کے لیے، وزیر اعظم کا اپنی غلطی کا اعتراف (07.04.2010)
ڈنمارک میں غیر ملکیوں کی آمد، بتدریج کمی (07.04.2010)
تارکین وطن کے لیے مشاورتی مرکز کا قیام (07.04.2010)
نیا میڈیسن کارڈ انسانی جانیں بچائے گا (07.04.2010)
حزب اختلاف کا منصوبہ ایک بغاوت ہے ۔ وزیر اعظم راسموسن (06.30.2010)
ڈنمارک : گھریلو تشدد میں اضافہ (06.29.2010)
غریب ممالک کے لیے امداد کے نام پر ڈینش حکومت کی خود سے دھوکا دہی (06.29.2010)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 
::| Hot News
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس
دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری
پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے
ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
اگلے سال مزید چونتیس ہزار افراد پنشن پر
ڈنمارک نے افغانستان جنگی طیارے بھیجنے کے لیے نیٹو کی درخواست مسترد کر دی
ڈینش شہری دنیا کے ایک سو چونسٹھ ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں
ڈینش میرے والد کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ ولیعہدفریڈرک کا غصہ
دوہری مصبیت کا شکار پاکستانی عیسائیوں کے لیے ڈینش امداد

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]