رپورٹ : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
ڈینش حکومت میں شامل کنزرویٹوو پارٹی کے امور انٹگریشن کے ترجمان، ناصر خضر نے کہا ہے کہ دینا کے سب سے بڑے احمق ،مسلمان میں اور وہ خود دین اسلام کو چھوڑ دیں گے ۔
 |
| ناصر خضر جو دین اسلام چھوڑ جانے کو سوچ رہے ہیں |
عرب نژاد ، کنزرویٹوو پارٹی کے متنازع پارلیمانی رکن، ناصر خضر نے مزید کہا کہ وہ ایسے وحشی اہل ایمان عناصر کے ساتھ نہیں رہ سکتے جو اللہ کے نام ُر قتل کرتے اور عورتوں کو دباتے ہیں ۔ ناصر خضر جو مسلمانوں کے خلاف ایک مخصوص معاندانہ اور متنفرانہ رویہ رکھتے اور اُن پر تنقید کا کوئی موقع ضائع نہیں جانے دیتے ، انہوں نےایران میں ایک تنتالیس سالہ عورت کو زنا کے مبینہ جرم میں سنگسار کئے جانے کے مبینہ فیصلے پر شدید غصے کا اظیار کرتے ہوئے انٹرنیٹ پر اپنی فیس بک میں لکھاہے کہ وہ دین اسلام کو چھوڑ دینے بارے غور کر رہے ہیں ۔
ناصر خضر نے ایران میں متذکرہ بالا مبینہ معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی فیس بُک میں لکھا ہے کہ انہیں شدید غصہ ہے اور وہ سخت تنگ آچکے ہیں کہ اتنی زیادہ تعداد میں دنیا کے سب سے بڑے احمق مسلمان ہیں ۔ انہوں نےدین اسلام کو چھوڑ دینے بارے اپنی فیس بُک میں لکھے ہوئے اپنے بیان کے حوالے سے ، ڈی آر نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں اسلام چھوڑ نہیں رہا ہوں لیکن مجھے اس پر سخت غصہ ہے اور میں تنگ آ چکا ہوں کہ اللہ کے نام پر لوگ قتل کرتے ہیں ، دہشت گردی پھیلاتے ہیں ۔
ڈینش حکومت میں شامل کنزرویٹوو پارٹی کے پارلیمانی رکن اور امور انٹگریشن کے ترجمان نے اپنی فیس بُک پر لکھا ہے کہ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ دین اسلام کو چھور جانے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ ناصر خضر کا کہنا ہے کہ جب کبھی کوئی ایسا واقع رونما ہوتا ہے تو وہ یہی سوچتے ہیں لیکن انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ( اسلام ہی میں ) رہیں گے اور اپنی جنگ جاری رکھیں گے ۔ کیونکہ دین پر کسی کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی