رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپں ہیگن ۔
حکومت میں شامل وینسٹرا و کنزرویٹوو، دونوں پارٹیوں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو خالص ڈینش النسل افراد کی طرح کا ایک ہی کام کرنے پر، اصل ڈینشوں کے مقابلے میں ،کم سے کم مقررہ تنخواہ کا نصف ، بطور تنخواہ ادا کیا جانا چاہیئے کیونکہ اس طرح مزید “ نئے ڈینشوں “ کو روزگار پر لایا جا سکے گا ۔
یہ بات روزنامہ Berlingske Tidende نے آج ( دس جولائی) ہفتے کے روز لکھی ہے ۔
وینسٹرا پارٹی کا کہنا ہے کہ، کاردھندگان اس قابل ہونے چاہئیں کہ وہ روزگار کی منڈی سے تعلق نہ رکھنے والے ، غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو، بازار روزگار میں مقررہ، کم سے کم تنخواہ کے نصف حصے پر اپنے ہاں بھرتی کر سکیں ۔ بدیگر الفاظ، کم و بیش پچاس کرونا فی گھنٹہ، تنخواہ پر بھرتی کر سکیں ۔
حکمراں وینسٹرا پارٹی کی جانب سے چونکا دینے والی( بلکہ مضحکہ خیز ) یہ تجویز اور اس پر اقتدار میں شامل، کنزرویٹوو پارٹی کا مثبت رد عمل، بازار روزگار میں ، مقررہ، تنخواہوں کی کم سے کم حد میں ہلچل مچا دے گا لیکن ان دونوں پارٹیوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے “ نئے ڈینش “ غیر متحرک انحصاری سے دور ہو جائیں گے ۔
حکمران وینسٹرا پارٹی کے ، انٹگریشن کے امور کے ترجمان ، کارسٹن لاؤرٹزن نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ، فی الوقت ، کم سے کم تنخواہ کا بڑا یعنی زیادہ ہونا، نئے ڈینشوں اور تارکین وطن کا روزگار سے دور رہنے کا سبب ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں تارکین وطن اور غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو ان کے جمگھٹوں سے باہر نکالنا اور انہیں بازار روزگار میں لانا مقصود ہے تو پھر ہمیں انٹگریشن کے لیے ، کم سے کم سے کم تنخواہوں پر کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہو گا، مثلاً ایسا ہوسکتا ہے کہ پہلے ایک سال کے لیے ، کم سے کم تنخواہ کا نصف حصہ ہو لیکن یہ ( سہہ فریقی ) مذاکرات ہی کے ذرئعے ہونا چاہیئے ۔
وینسٹرا پارٹی کے انٹگریشن کے امور کے ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد یہی ہے کہ فیکٹریوں کے مالکان ، غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو عمومی شرائط پر زیادہ سے زیادہ بھرتی کر سکیں ۔