Thursday, 09.09.2010, 05:42am (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
خبریں (News)
 
غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو نصف تنخواہ دی جانی چاہیئے ۔ وینسٹرا پارٹی ۔
Saturday, 07.10.2010, 10:57am (GMT+1)

رپورٹ ؛  نصر ملک  ۔ کوپں ہیگن ۔

حکومت میں شامل وینسٹرا و کنزرویٹوو، دونوں پارٹیوں کا کہنا ہے  کہ غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “  کو خالص ڈینش النسل افراد کی طرح کا ایک ہی کام کرنے پر، اصل ڈینشوں کے مقابلے میں ،کم سے کم مقررہ تنخواہ کا نصف ، بطور تنخواہ ادا کیا جانا چاہیئے کیونکہ اس طرح مزید “ نئے ڈینشوں “ کو روزگار پر لایا جا سکے گا ۔ 

یہ بات روزنامہ Berlingske Tidende نے  آج ( دس جولائی)  ہفتے کے روز لکھی ہے ۔

 

وینسٹرا پارٹی کا کہنا ہے کہ، کاردھندگان اس قابل ہونے چاہئیں کہ وہ روزگار کی منڈی سے تعلق نہ رکھنے والے ، غیر ملکی پس منظر کے حامل  “ نئے ڈینشوں “ کو، بازار روزگار میں مقررہ، کم سے کم تنخواہ کے نصف حصے پر اپنے ہاں بھرتی کر سکیں ۔ بدیگر الفاظ،  کم و بیش پچاس کرونا فی گھنٹہ، تنخواہ پر بھرتی کر سکیں ۔

 

حکمراں وینسٹرا پارٹی کی جانب سے چونکا دینے والی( بلکہ مضحکہ خیز ) یہ تجویز اور اس پر اقتدار میں شامل، کنزرویٹوو پارٹی کا  مثبت رد عمل، بازار روزگار میں ، مقررہ، تنخواہوں کی کم سے کم حد میں ہلچل مچا دے گا لیکن  ان دونوں پارٹیوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے “ نئے ڈینش “  غیر متحرک انحصاری سے دور ہو جائیں گے ۔

 

حکمران وینسٹرا پارٹی کے ، انٹگریشن کے امور کے ترجمان ،  کارسٹن لاؤرٹزن نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ، فی الوقت ، کم سے کم تنخواہ کا بڑا یعنی زیادہ ہونا، نئے ڈینشوں اور تارکین وطن کا  روزگار سے دور رہنے کا سبب ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر ہمیں تارکین وطن اور غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو ان کے جمگھٹوں سے باہر نکالنا اور انہیں بازار روزگار میں لانا مقصود ہے تو پھر ہمیں انٹگریشن کے لیے ، کم سے کم سے کم تنخواہوں پر کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہو گا، مثلاً  ایسا ہوسکتا ہے کہ پہلے ایک سال کے لیے ، کم سے کم تنخواہ کا نصف حصہ ہو  لیکن  یہ ( سہہ فریقی ) مذاکرات ہی کے ذرئعے ہونا چاہیئے ۔

 وینسٹرا پارٹی کے انٹگریشن کے امور کے ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد یہی ہے کہ فیکٹریوں کے مالکان ، غیر ملکی پس منظر کے حامل “ نئے ڈینشوں “ کو  عمومی شرائط پر زیادہ سے زیادہ بھرتی کر سکیں ۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
ڈنمارک : سیاسی پناہ حاصل کرنیوالوں میں اضافہ (07.10.2010)
نئے سپر ہسپتال کی بنیاد کے لیے، وزیر اعظم کا اپنی غلطی کا اعتراف (07.04.2010)
ڈنمارک میں غیر ملکیوں کی آمد، بتدریج کمی (07.04.2010)
تارکین وطن کے لیے مشاورتی مرکز کا قیام (07.04.2010)
نیا میڈیسن کارڈ انسانی جانیں بچائے گا (07.04.2010)
حزب اختلاف کا منصوبہ ایک بغاوت ہے ۔ وزیر اعظم راسموسن (06.30.2010)
ڈنمارک : گھریلو تشدد میں اضافہ (06.29.2010)
غریب ممالک کے لیے امداد کے نام پر ڈینش حکومت کی خود سے دھوکا دہی (06.29.2010)
ڈینش پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہوگی (06.27.2010)
وزارت عظمیٰ کی امیدوار ھیلے تھورنگ شمتھ پر اعتماد کو دھچکہ (06.27.2010)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 
::| Hot News
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس
دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری
پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے
ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
اگلے سال مزید چونتیس ہزار افراد پنشن پر
ڈنمارک نے افغانستان جنگی طیارے بھیجنے کے لیے نیٹو کی درخواست مسترد کر دی
ڈینش شہری دنیا کے ایک سو چونسٹھ ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں
ڈینش میرے والد کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ ولیعہدفریڈرک کا غصہ
دوہری مصبیت کا شکار پاکستانی عیسائیوں کے لیے ڈینش امداد

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]