رپورٹ : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
ڈنمارک میں سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دینے والے مہاجروں اور پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے ، جس پر ڈینش ایمیگریشن حکام اپنے تعجب کا اظہار کر رہے ہیں ۔
حکام کا قیاس تھا کہ سال رواں کے آخیر تک زیادہ سے ذیادہ، ڈیڑھ ہزار افراد سیاسی پناہ حاصل کریں گے جس کے بعد انہیں ملک بھر کی بلدیات میں تقسیم کردیا جائے لیکن، یہ قیاس غلط نکلا ہے اور پناہ حاصل کرنے والوں کی شرح میں ابھی ہی سے سنتالیس فیصد اضافہ ہو چکا ہے ۔ بدیگر الفاظ، سال رواں میں اب تک دو ہزار دو سو افراد پناہ حاصل کر چکے ہیں ۔
سیاسی پناہ کے لیے درخواستیں دینے والوں اور پناہ حاصل کر لینے والوں کی ، تعداد بڑھ جانے کی وجہ سے، ان افراد کے لیے رہائشی جگہیوں وغیرہ کی دستیابی کے لیے تین سو بیس کرونا مختص کیے گیے ہیں ۔
پناہ کے لیے یہاں آنے والوں میں، افغانی سر فہرست ہیں اور ان میں ایسے نوجوان بچوں کی تعداد زیادہ ہے جو کسی بالغ کے بغیر اکیلے ہی یہاں آتے ہیں ۔ ان کے بعد شام سے تعلق رکھنے والے، کردوں کی بھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے ۔
پناہ حاصل کرنے والے مہاجرین کو آبادکاری کے لیے ، زیادہ تر اُن دیہی بلدیات میںتقسیم کردیا جاتا ہے جن کے ہاں پہلے سے کوئی زیادہ مہاجر نہیں ہوتے ۔
وزیر انٹگریشن ، وینسٹرا پارٹی کی ، بریتھے راؤن ھارنبیخ نے ، روزنامہ یولینڈ پوسٹن کو بتایا ہے کہ، ڈنمارک میں پناہ حاصل کرنا آسان نہیں ہے لیکن ، اس کے باجود بیشتر افراد اس کے لیے کوشش کرتے ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغانستان میں نوجوان بچوں کے لیے ایک بڑے مرکز کی تعمیر اور یہاں سیاسی پناہ کی درخواستوں پر بسرعت اقدام ، مستقبل قریب میں ، پناہ کے لیے یہاں آنے والوں کی تعداد کو کم کر دیں گے ۔