رپورٹ ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
وزیر اعظم ، وینسٹرا پارٹی کے ، لارس لکے راسموسن نے تسلیم کیا ہے کہ ایک نئے سپر ہسپتال کی تعمیر کے لیے ویسٹ یولیند کے ھئرنگ علاقے کا انتخاب، حکومت کی ایک غلطی تھی ۔
حکومت کے اس اقدام سے حکمراں ویسٹرا پارٹی کےگڑھ سے تعلق رکھنے والے بیشتر ارکان نے پارٹی کو چھوڑ کر اپنی مقامی پارٹی بنا لی ہے اور اگلے انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ، وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے خیال ظاہر کیا ہے کہ مجوزہ ، سپر ہسپتال کی تعمیر کے لیے، ھئرنگ کے قریب جگہ کا انتخاب کرکے انھوں نے غلطی کی ہے ۔ وزیر اعظم نے روزنامہ یولینڈ پوسٹن کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ، ہم نے لوگوں کے جذبات و احساسات اور ان میں پائے جانے والے عدم تحفظ کے بارے میں غلط اندازہ لگایا اور اب معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے “ بینادیں اٹھائے بغیر “ یعنی مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر، ہسپتال تعمیر کر دیا ہے ، جوکہ ہماری غلطی ہے ۔
اس سپر ہسپتال کی مجوزہ تعمیر کے حکومتی فیصلے پر، ویسٹ یولینڈ میں حکومتی پارٹی وینسٹرا کے بیشتر ارکان کی جانب سے پارٹی چھوڑ جانے پر وزیر اعظم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں میں پائے جانے والے اس غصے کی مکمل ذمہ داری خود قبول کرتے ہیں ۔
وزیر اعظم نے اپنے انٹرویو میں مزید کہا کہ ، اب ان پر صاف عیاں ہے کہ ہم نے صورت حال کا غلط اندازہ لگایا اور اسے کمتر جانا ۔ ہم خود اپنے آپ ہی کو یہ اچھی طرح نہ بتا سکے کہ ہمارے فیصلے کا رد عمل اتنا شدید ہو گا یعنی علاقے کے لوگ ہماری پارٹی ہی چھوڑ جائیں گے ۔
وزیر اعظم کی جانب سے اپنی اس غلطی کے اعتراف کے باوجود حکومت، ویسٹ یولینڈ میں ھئرنگ کے قریب ، نئے سپر ہسپتال کی تعمیر کے اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔ بدیگر الفاظ اس طرح ویسٹ یولنیڈ کے بیشتر شہریوں کو ہنگامی طور پر ہسپتال جانے کے لیے کم سے کم ٩٠ کلو میٹر فاصلہ طے کرنا پڑے گا ۔
سیاسی مبصرین کا کہنا بے کہ وزیر اعظم اب ویسٹ یولینڈ میں اپنی پارٹی کو تباہی سے بچانے کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں اور ان کا متذکرہ بالا بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔