رپورٹ : نصر ملک ، کوپن ہیگن ۔
خاندانوں کو یکجا کرنے کے زمرے میں اور سیاسی پناہ کے طلبگاروں کے طور پر یہاں ڈنمارک آنےوالوں کی تعداد جہاں ایک طرح سے رک گئی ہے وہاں روزگار اور تعلیم کے لیے آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں بھی خاصی کمی ہوگئی ہے ۔
ڈنمارک آنے والے غیر ملکی دستکاروں اور دیگر روزگاری شعبوں سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں ، حالیہ اقتصادی بحران کی وجہ سے خاصی کمی ہو چکی ہے لیکن دوسری جانب، خاندانوں کو یکجا کرنے کے ضمن میں اقامتی ویزے حاصل کرنے والوں اور سیاسی پناہ کے لیے ڈنمارک آنے والوں کی تعداد میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں ہوئی ۔
وزارت انٹگریشن کے تحت قائم، ڈینش ( محکمہ) ایمیگریشن سروس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سنہ ٢٠٠٩ کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران، ترپن ہزار پچانوے غیر ملکیوں کو ڈنمارک میں رہنے کے لیے آقامتی ویزے جاری کیے گئے جو کہ سنہ ہو ہزار آٹھ کے مقابلے میں خاصے کم تھے ۔ سنہ دوہزار آٹھ میں٦٩٢٧٧ آقامتی ویزے جاری کیے گئے ۔
خاندانوں کو یکجا کرنے کے ضمن میں اور بطور “ لے پالک “ ڈنمارک آنےوالے کل غیر ملکیوں کی تعداد، چار ہزار سات سو پچانوے تھی جو کہ، اس سے پچھلے پانچ سالوں کی مشترکہ تعداد کے برابر تھی ۔ مہاجرین جنہیں ڈنمارک میں سیاسی پناہ دی گئی اُن کی تعداد ایک ہزار دو سو سترہ تھی، جو پچھلے چند ایک سال کے دوران پناہ حاصل کرنے والوں کی تعداد کے برابر ہی تھی اور اس میں کوئی خاص کمی بیشی نہیں ہوئی ۔ البتہ سیاسی پناہ کے طلبگاروں کی تعداد میں اضافہ محسوس کیا گیا ہے ۔
سنہ ٢٠٠٩ میں پناہ کے لیے آنے والوں کی تعداد کچھ زیادہ تھی ۔ اسی سال گیارہ مہینوں کے دوران ، کسی بالغ یا والدین کے بغیر ڈنمارک آنے والے پناہ کے خواہشمند نوجوان بچوں کی تعداد چارسو انسٹھ تھی ۔
ڈینش روزگار کی منڈی میں ، نئے آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد کے حوالے سے صورت حال مختلف ہے ۔
روزگار کے لیے ڈنمارک آنے والے غیر ملکیوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور اس کی وجہ جہاں ایک طرف ڈنمارک میں اقتصادی بحران کا ہونا ہے وہاں دوسرے جانب یہاں ٹیکس کا سب سے زیادہ وصول کیا جانا بھی بتایا جاتا ہے ۔
یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ ہی ساتھ دوسرے ممالک سے ، سنہ ٢٠٠٩ میں ڈینش روزگار کی منڈی میں آنے والوں کی تعداد آٹھ ہزار پانچ سو اسی تھی ۔
سنہ دو ہزار آٹھ میں یورپی یونین نے اپنے شہریوں کے لیے رکن ممالک میں جب روزگار کے نئے قوائد و ضوابط متعارف کرائے تو تب ڈنمارک آنیوالے غیر ملکیوں کی تعداد تئیس ہزار چار سو تیرہ تک جا پہنچی تھی ۔
کوپن ہیگن یونیورسٹی میں بازارروزگار سے متعلقہ امور کے محقق، پروفیسر ڈاکٹر، کلاؤس پیڈرسن کا کہنا ہے کہ نئے آنے والے غیر ملکیوں اور غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں کمی کو ڈنمارک میں جاری حالیہ اقتصادی بحران کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔ اس بحران کی وجہ سے کئی ایک حلقوں میں جہاں پیداواری پیشرفت میں کمی رونما ہوئی ہے وہاں “ تعمیراتی حلقے “ ایک طرح سے بلکل جمود کا شکار ہو گئے ہیں ۔
انھوں نے مزید کہا کہ روزگار کے لیے ڈنمارک آنےوالے غیر ملکیوں کی تعداد میں اگرچہ کمی دیکھی جا رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اقتصادی بحران کے باوجود ، یورپی یونین کے رکن مشرقی یورپی ممالک کے افراد کے لیے ڈنمارک ابھی تک مقناظیسی کشش رکھتا ہے اور یورپی یونین کے نئے آسان ضوابط کے تحت وہ ڈنمارک آنے اور روزگار تلاش کرنے کو غنیمت سمجھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک میں شامل، مشرقی یورپی ممالک کے کارکن ابھی تک ڈنمارک کا رخ کرتے ہیں اور ان میں پولینڈ کے شہری سر فہرست ہیں ۔