رپورٹ : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
وزیر اعظم ، وینسٹرا پارٹی کے لارس لکے راسموسن نے ، خلاف معمول انتہائی سخت غصے کا اظہار کرتے ہوئے جہاں حزب اختلاف کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی اور اُس کی اتحادی ایس ایف پارٹی کو خوب لتاڑا وہاں انھوں نے ، اقتصادی بحران پر قابو پانے کے لیے ان دونوں پارٹیوں کے پیش کردہ اس مشترکہ منصوبے کو ایک بغاوت سے تعبیر کیا جس منصوبے کو ، منصفا نہ حل کا نام دیا گیا ہے ۔
منگل کی شام ، ٹی وی ٹو کی خبروں میں اپنے ایک انٹرویو میں وزیر اعظم لارس لکے راسموسن نے کہا کہ حزب اختلاف ( سوشل ڈیموکریٹ اور ایس ایف ) نے جو منصوبہ بنایا ہے وہ انہیں ، بغاوت کی یاد دلاتا ہے ۔
بغاوت کے حوالے سے یہ اصطلاح دوسری جنگ عظیم کے دوران ڈنمارک پر قابض جرمن نازی فوجیوں کے ساتھ تعاون کرنے والے ڈینشوں کے لیے استعمال کی جاتی تھی اور اب بھی اس سے وہی تاثر لیا جاتا ہے جو اس وقت سیاسی طور پر لیا جاتا تھا ۔
وزیر اعظم نے بڑی ڈھٹائی سے الزام لگایا کہ یہ دونوں ، سوشل ڈیموکریٹ اور ایس ایف پارٹیاں قومی مفادات کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دونوں پارٹیاں، اقتصادی بحران میں اپنی ذمہ داریوں کا حصہ نہیں اٹھا رہی ہیں اور ان دونوں نے اپنی تمام پر قوتیں اور کوششیں صرف ، اگلے انتخابات میں فتح حاصل کرنے پر لگا رکھی ہیں ۔ یہ انتخابات اگلے سال، نومبر ۲۰۱۱ ء میں کرائے جانے والے ہیں ۔
ٹی وی ٹو کی خبروں میں اپنے اس انٹرویو کے دوران، وزیر اعظم ، وینسٹرا پارٹی کے لارس لکے راسموسن نے اقتصادی بحران سے باہر نکلنے کے لیے حزب اختلاف کے ، منصفانہ حل ، نامی منصوبے کو ، ووٹ حاصل کرنے کے لیے دنیا کی سب سے بڑی دغا بازی قرار دیا ۔
سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کے پارلیمانی گروپ کی نائب چیئرپرسن ، میٹےفریڈرکسن نے ، ٹی وی ٹو کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کویاد رکھنا چاہیے کہ وہ صرف اپنی پارٹی، وینسٹرا کے نوجوانوں کی تحریک ہی کے چیئرمین نہیں بلکہ وہ ملک کے وزٰر اعظم ہیں لہٰذا وہ اس کے ذمہ دار ہیں کہ ڈنمارک کو بحرانوں سے باہر نکالیں ۔
انھوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے اس طرح کے متنفرانہ بیانات اور آتش بیانی ( قوم کو ) متحد کرنے کی بجائے منقسم کردے گی اور اس کے ذمہ دار وزیر اعظم خود ہی ہوں گے ۔ میٹے فریڈرکسن نے تسلیم کیا کہ ان کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی اور ایس ایف پارٹی کے پیش کردہ منصوبے پر، اقتصادی ماہرین اورکاردھندگان کے ساتھ ساتھ بعض مزدور تنظیموں بھی اس بارے میں کچھ تحفظات ہیں کہ ڈنمارک کو اقتصادی بحران سے کیسے باہر نکالا جائے ۔ انہوں نے کہا حکومت چاہتی ہے کہ اس کے لیے بچت شدہ رقوم کو استعمال کیا جائے جب کہ ہم یعنی سوشل ڈیمو کریٹ چاہتے ہیں کہ بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں خود کام کرنا چاہیے ۔