Saturday, 09.04.2010, 08:42pm (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
خبریں (News)
 
ڈنمارک : گھریلو تشدد میں اضافہ
Tuesday, 06.29.2010, 07:29pm (GMT+1)

رپورٹ :  نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔

ڈنمارک میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے کی وجہ سے مدد مانگنے والی عورتوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔  تشدد و مارپیٹ یا گھریلو ازواجی زندگی میں سخت گڑ بڑ کی ماری ہوئی وہ عورتیں جو اپنے اپنے ، عورتوں کے لیے پناہ کے ہنگامی مراکز سے ممد کے لیے رجوع کرتی ہیں، پچھلے پانچ سال میں ان کی تعداد  دوگنا زیادہ ہو گئی ہے ۔اور صرف  سنہ ۲۰۰۹ میں ایسی عورتوں کی تعداد، ایک ہزار نو سو تھی ۔

دارالحکومت کوپن ہیگن میں عورتوں کے لیے  ہنگامی پناہ و مدد کے مرکز، Danner  کی ڈائریکٹر ، ویبی کلارُپ وئیٹمان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ تشدد کی ماری ہوئی عورتوں کی اتنی بڑی تعداد کا ان کے ادارے سے رابطہ کرنا اور اپنے لیے مدد مانگنا،  اس رجحان  کی نشاندھی کرتا ہے کہ عورتیں گھریلو تشدد کے خلاف، روائتی چپ کو ٹور کر، امدادی مراکز سے رجوع کرنے اور مدد مانگنے کو ترجیح دینے لگی ہیں اور اس سلسلے میں انہیں اب  زیادہ جانکاری حاصل ہو رہی ہے کہ وہ اپنا تحفظ کیسے کر سکتی ہیں ۔

 

ہنگامی پناہ کر مراکز سے مدد کے لیے براہ راست رابطہ کرنے کے علاوہ بیشتر عورتیں، پچھلے سال متعارف کرائے گئے ایک خصوصی مشاورتی نظام کے تحت ، انٹرنیٹ پر بھی ان مراکز سے رابطہ پیدا کرتیں اور اپنے  تحفظ کے لیے مشورے لیتی ہیں ۔Danner  نامی کوپن ہیگن میں عورتوں کےلیے سب سے بڑے ، شلٹر ہاؤس سے اس طرح انٹرنیٹ پر رابطہ کرنے والی عورتوں کی تعداد، اس سال اب تک اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے ۔ انٹرنیٹ پر مدد طلب کرنے والی تشدد زدہ عورتیں اپنا نام و پتہ چاہیں تو صیغہ راز میں رکھ سکتی ہیں یعنی اپنی شناخت کو خفیہ رکھ سکتی ہیں ۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
غریب ممالک کے لیے امداد کے نام پر ڈینش حکومت کی خود سے دھوکا دہی (06.29.2010)
ڈینش پیپلز پارٹی حکومت میں شامل ہوگی (06.27.2010)
وزارت عظمیٰ کی امیدوار ھیلے تھورنگ شمتھ پر اعتماد کو دھچکہ (06.27.2010)
امام عبد الواحد پیڈرسن کی امن کاوشیں (06.26.2010)
حکومت میں شامل کنزرویٹوو پارٹی سیاسی بھنور کی زد میں (06.25.2010)
چودہ ہزار ڈینشوں پر پچھلے دو سال سے فرد جرم عائد ہے (06.25.2010)
گھر کے اندر یا باہر غیرقانونی آتشیں اسلحہ رکھنے پر ایک جیسی سزائیں (06.25.2010)
جکارتا میں ڈینش سفارتخانے کو بم سے اڑانے کے ایک منصوبے کا انکشاف (06.24.2010)
یورپی کونسل: برقع پر پابندی لگائے جانے کے خلاف متفقہ سفارش (06.23.2010)
غیر ملکی پس منظر کے حامل صرف چالیس فیصد افراد ووٹ دیتے ہیں (06.23.2010)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 
::| Hot News
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس
دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری
پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے
ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے
ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
اگلے سال مزید چونتیس ہزار افراد پنشن پر
ڈنمارک نے افغانستان جنگی طیارے بھیجنے کے لیے نیٹو کی درخواست مسترد کر دی
ڈینش شہری دنیا کے ایک سو چونسٹھ ممالک میں بغیر ویزا جا سکتے ہیں
ڈینش میرے والد کا مذاق اُڑاتے اور اُن پر انگلیاں اُٹھاتے ہیں ۔ ولیعہدفریڈرک کا غصہ
دوہری مصبیت کا شکار پاکستانی عیسائیوں کے لیے ڈینش امداد

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]