رپورٹ : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ڈنمارک میں گھریلو تشدد کا نشانہ بننے کی وجہ سے مدد مانگنے والی عورتوں کی تعداد میں آئے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ تشدد و مارپیٹ یا گھریلو ازواجی زندگی میں سخت گڑ بڑ کی ماری ہوئی وہ عورتیں جو اپنے اپنے ، عورتوں کے لیے پناہ کے ہنگامی مراکز سے ممد کے لیے رجوع کرتی ہیں، پچھلے پانچ سال میں ان کی تعداد دوگنا زیادہ ہو گئی ہے ۔اور صرف سنہ ۲۰۰۹ میں ایسی عورتوں کی تعداد، ایک ہزار نو سو تھی ۔
دارالحکومت کوپن ہیگن میں عورتوں کے لیے ہنگامی پناہ و مدد کے مرکز، Danner کی ڈائریکٹر ، ویبی کلارُپ وئیٹمان نے کہا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ تشدد کی ماری ہوئی عورتوں کی اتنی بڑی تعداد کا ان کے ادارے سے رابطہ کرنا اور اپنے لیے مدد مانگنا، اس رجحان کی نشاندھی کرتا ہے کہ عورتیں گھریلو تشدد کے خلاف، روائتی چپ کو ٹور کر، امدادی مراکز سے رجوع کرنے اور مدد مانگنے کو ترجیح دینے لگی ہیں اور اس سلسلے میں انہیں اب زیادہ جانکاری حاصل ہو رہی ہے کہ وہ اپنا تحفظ کیسے کر سکتی ہیں ۔
ہنگامی پناہ کر مراکز سے مدد کے لیے براہ راست رابطہ کرنے کے علاوہ بیشتر عورتیں، پچھلے سال متعارف کرائے گئے ایک خصوصی مشاورتی نظام کے تحت ، انٹرنیٹ پر بھی ان مراکز سے رابطہ پیدا کرتیں اور اپنے تحفظ کے لیے مشورے لیتی ہیں ۔Danner نامی کوپن ہیگن میں عورتوں کےلیے سب سے بڑے ، شلٹر ہاؤس سے اس طرح انٹرنیٹ پر رابطہ کرنے والی عورتوں کی تعداد، اس سال اب تک اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہے ۔ انٹرنیٹ پر مدد طلب کرنے والی تشدد زدہ عورتیں اپنا نام و پتہ چاہیں تو صیغہ راز میں رکھ سکتی ہیں یعنی اپنی شناخت کو خفیہ رکھ سکتی ہیں ۔