تخلیقی بین الاقوامیت میں اسد ملک کا کردار
Thursday, 04.01.2010, 01:22pm (GMT+1)
تخلیقی بین الاقوامیت میں اسد ملک کا کردار زیب اَذکار حسین ۔ کراچی ۔
تراجم کا کام جہاں غیر ملکی تخلیقات کو ان کی اصل صورتوں کے مطابق پیش کرنے کے تعلق سے خاصا کٹھن ہوتا ہے وہاں یہ ایک سطح پر تخلیقِ نو یا ری کریشین کا عمل بھی ہے۔ اس لئے کہ مترجم کو ایک مختلف زبان میں خلق کی گئی فنی صورت کو ایک دوسری زبان کا اظہار دینا ہوتا ہے اور یہ اظہار بھی اس طور پر ظہور پذیر ہو کہ اصل فن پارے کو اُس کی قیمت نہ چکانا پڑے۔ تو یہاں یہ سوال ایک اعتبار سے ''تخلیقی کرب'' کا سامنے آ جاتا ہے۔ اگر اس ''تخلیقی کرب'' سے ایک مترجم کا واسطہ نہیں ہے تو پھر ترجمے کا عمل ایک میکانکی صورت اختیار کر لے گا اور یہ میکانکی صورت ظاہر ہے نہ صرف یک رُخی اور غیر تخلیقی ہو گی، بلکہ اس میں کسی نہ کسی ''افادی مجبوری'' کی جھلک بھی دکھائی دیتے رہے گی۔ خیر اس میں کچھ مضائقہ نہیں ہے کہ آپ غیر ملکی زبانوں کے ادبیات کا ترجمہ اردو زبان میں کریں اور اپنے تیئں اردو زبان و ادب کو اینرچ کرتے جائیں۔ یقینا غیر ملکی ادبیات کے تراجم سے نہ صرف مقامی ادب کہیں نہ کہیں زبان و بیان کی مناسبت سے متاثر ہوتاہے، بلکہ معاشرتی ضوابط کی سطح پر بھی اثر قبول کرتا ہے۔ البتہ اس ترجمے کے کام میں اہم مسئلہ ''انتخاب'' کا ہے۔ یہاں انتخاب سے مراد وہ تقاضے ہیں جو تراجم کے لئے مہینہ کا کام آتے ہیں۔ مثال کے طور پر غیر ملکی ادبیات عالیہ سے آگاہی حاصل کرنا اور ان کا تعارف مقامی زبانوں میں کرانا، معاشرتی ابقاد کا کم کرنے کی کاوش کے طور پر، بھائی چارے کی ترویج کی خاطر اور مخصوص نظریاتی تصورات کا پرچار وغیرہ وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی عام طور پر تنقیدی مجبوریوں کی وجہ سے بھی بعض تراجم کے لئے کرائے جاتے ہیں۔ باالفاظ دیگر یہ جاننے کے لئے کہ مغرب میں ادب فرض کے ارتقاء کے پسِ پشت کیا عوامل کار فرما ہیں یا مغرب میں ادب و فن کو جانچنے کے کیا معیارات رائج ہیں اور کسی نوع کے اَدبی معیارات کیوں اور کن معنوں میں اَہم ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے بھی تراجم کی اَہمیت مسلم ہے۔ ہمارے ہاں،''ضرورت اِیجاد کی ماں ہے'' کے مصداق ترجمہ نگاری اور ترجمہ سازی کا کام جاری و ساری ہے۔ یہاں میں نہایت افسوس کے ساتھ اس امر کی نشاندہی بھی کروں گا کہ بعض تراجم بعض ''نامور'' ناقدین فن کے ہاتھوں اس طور پر بھی انجام پذیر ہوئے کہ جس میں فقط اپنی پسند کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا۔ گویا اپنی پسند کے چند صفحات غیر ملکی شاہکار فن پاروں سے ترجمہ کرائے گئے وہ بھی اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق اور ''قطرہ قطرہ'' جمع کئے گئے صخامتی دریا ''قارئین اردو ادب پر بھاری بھرکم کتابوں کی صورت میں لٹا دئیے گئے۔ اس طرح کے تراجم کو سٹیٹس کو کے نمائندہ ادبی تصورات اور تخلیقی (اگر ہے تو) مساعی کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہ کی جائے تو کیا کیا جائے؟ میرے ذاتی خیال میں جامد نقطہ نظر ہر اعتبار سے ادبی اور تخلیقی کام پر اپنے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ مثال کے طور پر جب آپ حکومت وقت کی سرپرستی میں ریاستی تقاضوں کے تحت تراجم کرتے ہیں تو آپ کی نگاہ ان تراجم کے مقاصد اور افادیت پر مرکوز رہتی ہے۔ یہ ''مقاصد اور افادیت پر مرکوز رہتی ہے۔ یہ ''مقاصد اور افادیت'' اپنے طو رپر سٹیٹس کو ہی کی نمائندگی سے مربوط ہوتے ہین اور یہ ارتباط یا نظم و ضبط محض ایک ریاست سے وابسطہ ''نظریاتی اہداف'' تک محدود نہیں ہے، یہ بوقت ضرورت عالمی سطح پر بھی اپنا ایک کردار متعین کرتا نظر آئے گا۔ اس کی واضح مثالیں، عالمی بحرانوں جنگوں اور دیگر سیاسی اور جغرافیائی چپقلشوں کے دوران کئے گئے ایک عالمی فیصلوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اب ذرا ماضی میں اردو زبان میں ہونے والے تراجم پر ایک نظر ڈالیں تو واضح طور پر ان میں اَپروچ کی تفریق دکھائی دے گی۔ کچھ تراجم تو ناگزیر ادبی اور فنی تقاضوں کے تحت کئے گئے اور ان میں ہمیں مترجم کی بھرپور تخلیقی صلاحیت اور فنی مہارت کا معترف ہوتا پڑتا ہے۔ البتہ وہ تراجم جو سیاسی پسند ناپسند اور دیگر ضروریات کی غرض سے کئے گئے ، ان میں کمٹمنٹ یا خلوص کی چاشنی اور بھرپور فنی مہارت کا ملنا ایک امرِ محال نظر آتا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کے تراجم کہیں نہ کہیں ایک خاص طرح کی تنگ نظری سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ یہ تنگ نظری انسان کے مقدر اور عالمی برادری کے مستقبل پر بے یقینی یا عدم یقین کی بدولت پیدا ہوتی ہے۔ ذات اور کائنات، گروہ اور معاشرہ، ملک اور ممالک، داخل اور خارج کی جدیت کو اپنے گروہی اور طبقاتی مفادات کے تابع گردانتا اور ''جس کی لاٹھی اُس کی بھینس''کی بظاہر قائم شدہ کلیت کی روشنی میں انسانی معاشرے کو دیکھتا درحقیقت ایک متعصبانہ نقطہ نظر یا دوسرے لفظوں میں ہے اور ادب و تخلیق اگر کہیں اور کسی بھی سطح پر اوپینین میکنگ میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں تو متعصبانہ نقطہ نظر کسی بھی طور پر انسانی برادری کے عالمی تصور سے ہم آہنگی اختیار نہیں کر سکتا۔ اسد ملک کے تراجم اس اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں کہ انہوں نے ان دو ناولوں کا انتخاب کیا جو انسان کے مستقبل اور مقدر سے مایوس نہیں ہیں۔ بلکہ مایوس کن صورت حال میں بھی مزاحمت کی صورتیں تراشتے نظر آتے ہیں۔ اسد ملک جو ایک اچھے شاعر اور تخلیق کار ہیں، یقینا انتخاب کے معاملے میں بھرپور فنی شعور کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہاں پر فنی شعور دراصل تخلیقی تصور اور کرب آگہی سے مشروط ہے۔ سیٹی ڈہلیئر اُس تخلیق کار کا قرض چکا رہا ہے جو دوسو برس قبل نازوا معاشرتی سلوک کے ہاتھوں اپنی پہچان نہ بنا سکا اور اپنی تمام تر تخلیقی قوت کے باوصف متعصبانہ معاشرتی رویے کا شکار رہا۔ یہ معاشرتی عدم توازن کے خلاف مزاحمت کی ایک شکل ہے۔ ایک تخلیق کار جس کا نام ہانس کرسچین اینڈرسن ( اپنی زندگی میں جن محرومیوں کا شکار رہا اور جدوجہد کے جن مراحل سے گزرا آج کے تخلیق کار سیٹی ڈیلئر نے اسے ڈینش زبان میں ایک ناول کے طور پر لکھا۔ ڈینش زبان میں اس ناول کا عنوان Rejse i blat
تھا، جس کا اردو ترجمہ اسد ملک، ''نیلاہٹ میں سفر'' کے طور پر کیا۔ اس ناول کا ڈینش سے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور پھر اسے انگریزی سے اردو کے قالب میں اسد ملک نے ڈھالا۔ ڈنمارک میں مقیم ، نصر ملک، جو افسانہ نگار، شاعر، صحافی اور خود مترجم بھی ہیں اس ناول کے ترجمے کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسد ملک نے ڈینش زبان میں لکھی گئی متذکرہ کتاب کے انگریزی ترجمے کو اردو کے روپ میں ڈھالتے ہوئے روایتی طور پر مروجہ طریق کار سے ہٹ کر جو نئی تکنیک استعمال کی ہے، وہ بذات خود اسی بات کی دلیل ہے کہ انہیں ترجمہ کرتے ہوئے الفاظ کی نشست و برخاست اور ان کے استعمال پر مکمل فنکارانہ عبور اور دسترس حاصل ہے۔ نصر ملک جو ریڈیو ڈنمارک کی اردو سروس کے ایڈیٹر اور اسٹیٹ ڈینش لائبریری کے لینگویج کنسلٹنٹ ہیں۔ ڈینش زبان پر عبور رکھتے ہیں اور اسد ملک کے برادر کلاں بھی ہیں۔ ان کیز بان پر دسترس کا اندازہ اس امر سے بخوبی ہوتا ہے کہ وہ ڈینش، اردو نعت پر کام کر رہے ہیںاور یہ نعت اپنی لغت اپنی اشاعت کے آخری مراحل میں ہے ۔ وہ اسد ملک کہ تراجم کے تعلق اس بات پر مکمل طور پر مطمئن ہیں کہ اسد ملک نے اصل تخلیقات کے ساتھ مکمل انصاف کیاہے۔ جہاں تک ان ناولوں میں زبان کے استعمال اور بیان کی باریکیوں کا تعلق ہے تو ظاہر ہے آپ اتفاق یا عدمِ اتفاق کا حق محفوظ رکھتے ہیں مگر اس امر میں کچھ شبہ نہیں ہے کہ اسد نے ان تخلیقات کو ایک سطح پر ریکرئیٹ )کیا ہے اور اس کے عمل سے اسد کے تخلیقی اور فنی اعتماد کا اظہار ہوتا ہے۔ ''نیلاہٹ کا سفر'' اگر ہانس کرسچین اینڈرسن کے جینئیس کو پہنچاننے اور شناخت کرنے کے لئے اس کو پوری زندگی کا تخلیقی احاطہ کرتا نظر آتا ہے تو ''جولائی کے دو دن'' کلازوان سٹافن برگ اور اس کے ساتھیوں کی ایک فاشسٹ حکمران سے نجات کی کوشش پر مبنی ناول ہے۔ ان ناولوں کا انتخاب ہی اسد مک کے گہرے انسانی اور عالمی شعور کا پتہ دیتا ہے۔ہمارے ہاں عام طور پر تراجم ایسی کتابوں کے کئے جاتے ہیںجن کے مصنّفین وفات پا چکے ہوتے ہین۔ مگر سیٹی ڈہلیئر ایک نسبتاً کم عمر تخلیق کار ہے اور اپنے فن اور فنی شعور کی بدولت دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان بنا چکا ہے۔ اسد ملک نے ایک اعتبار سے سیٹی ڈہلیئر کے ساتھ اپنے انسانیت پسندانہ شعور اور فنی و تخلیقی مہارت کو شیئر کیا ہے اور شیئرنگ کی اس کاوش پر جس میں انسانی برادری کے دکھوں پر ناخوشی کا اظہار جا بجا ملتا ہے اور جہاں کہیں ایک اجتماعی مسرت کا مقام آتا ہے یا اذیت میں مبتلا فرد کے ریلیف کا مرحلہ آتا ہے تو اس کا کامیاب تخلیقی اظہار اسد ملک کے اس خلوص اور درمندی کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اور اجتماعی کے خلاف روا رکھی گئی متعصبانہ شوخ اور منفی اقدامات پر غیر مطمئن ہے ان اقدامات کے خلاف بغاوت یا مزاحمت کو انسان کی فکری آزادی کا حصہ سمجھتا ہے۔ یہاں پر ''نیلاہٹ میں سفر'' اور ''جولائی کے دو دن'' کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرنا وقت کی کمی کے باعث مناسب نہیں ہے مگر ترجمے کے تعلق سے اسد ملک کے انسانی شعور اور فنی مہارت پر مبنی دونوں ناولوں کے چند ٹکڑوں کو پیش کرنا نامناسب نہیں ہو گا۔ ''نیلاہٹ میں سفر'' گاڑی میں اپنے پھٹے پرانے دیہاتی کپڑوں میں وہ بہت مسرور دکھائی دیتا ہے اور بارہ کے جواب میں دس بولتا ہے لیکن جب وہ گریٹ بیلٹ پر پہنچنا ہے تو ایسے جیسے کسی کشتی کے ہکلورے کھاتے رہنے سے حرکت کرتا رہا ہو، وہ خو د کو بہت تنہا محسوس کرتا ہے۔ ابھی بمشکل وہ ذی لینڈ پر اتیرے ہی تھے کہ دوڑ کر ایک چھپر کے پیچھے جاتا ہے اور اپنے گھٹنوں پر گر کر خدا سے مدد کرنے اور رہنمائی کرنے کی دعا مانگتا ہے۔ پورا دن اور اس سے اگلی پوری رات وہ دیہات میں سے اترتی سڑکوں پر چلتے رہے۔ رستے میں وہ کئی بار رکتے ہیں اور وہ گاڑی کے ساتھ ایک طرف اکیلا کھڑا ہو جاتا ہے اپنی روٹی کھاتے ہوئے دنیا میں کہیں بہت دور ہونے کو محسوس کرتے ہوئے، اس کے پیٹ میں مروڑ اٹھتا ہے وہ اپنی زبان دانتوں میں دبا لیتا ہے۔ اَب ''جولائی کے دو دن '' کا ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیے ۔ اور حکم آتا ہےاَلبرخت کے لئے کہ وہ آگے قدم بڑھانے والا پہلا آدمی ہے ہچکچاتے ہوئے اور اوپر ستاروں سے جڑے سیاہ آسمان جسے کئی سرچ لائیٹس لمبی چوڑی پلیٹوں میں تقسیم کر رہی ہیں کو دیکھتے ہوئے وہ چند قدم آگے چلتا ہے اور جہاں ہے وہ وہیں کھڑا رہتا ہے اس کے باز و کھچائو میں اکڑے ہوئے ہیں۔ ایک حکم چِلّایاجاتا ہے۔ سیاسی کلک کی ایک یکساں آواز کے ساتھ اپنے اپنے گھوڑے چڑھاتے ہیں… اور حکم… اور گولیاں چلتی ہیں۔ دیوار سے بازگشت پیدا کرتے ہوئے اور البرخت کو گراتے ہوئے جو آپ ہی آپ جھولتے ہوئے بازوئوں کے ساتھ نیچے گر جاتا ہے ۔ اُسی لمحے ہیفئین پریشانی سے سٹافن برگ کی کمر تھپتھپاتا ہے۔ سٹافن برگ مڑتا ہے… اُس کا کندھا خون سے تر ہو کر سیاہی مائل ہو چکا ہے اور وہ ہیفٹن اور مرٹز کو ایک زرد مسکراہٹ کے ساتھ گُھور کر دیکھتا ہے، ''پھر ملیں گے'' وہ کہتا ہے۔ (ختم شُد)
|