اکادمی ادبیات پاکستان ۔ ایک بہتر مستقبل کی امید
Saturday, 03.27.2010, 11:04am (GMT+1)
رپورٹ ؛ آغا نور محمد پٹھان ۔ ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ۔اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ سندھ کراچی۔(پریس ریلیز) سنہ ٢٠١٠ میں اکادمی ادبیات پاکستان ایک بین الاقوامی کانفرنس '' لٹریری اینڈ کلچرفیسٹیول2011'' کے نام سے اسلام آباد میں منعقد کرے گی ۔
اس سلسلے میں ادب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیات کو شرکت کی دعوت دی جائے گی اور ادب اور ثقافت کے موضوع پر مباحث ہوں گے ۔ یہ کانفرنس بھی ''صوفی ازم اور امن کانفرنس'' کی طرح اہم مقاصد کے پیش نظر منعقد کی جائے گی ۔ اس کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ ''صوفی ازم اور امن کانفرنس'' کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی خواہش کے پیش نظر کیا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار فخرزمان، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے''صوفی ازم اور امن'' پر منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس کی کامیابی اور اکادمی کے آئندہ منصوبوں کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فخر زمان نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس برائے'' صوفی ازم اور امن'' کا مقصد پاکستان کے سوفٹ امیج کو اُجاگر کرنا تھا ۔ اس کانفرنس میں شریک ہونے والے غیر ملکی مندوبین پاکستان کے حوالے سے جو ایک سوفٹ امیج لے کر گئے ہیں اُس کے بارے میں اپنے اپنے ملکوں کے اخبارات و جرائد میں تحریر کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا بنیاد ی مقصد بھی یہی تھا کہ تمام مندوبین پاکستان کی اصل تصویر جو محبت، اخوت اور بھائی چارے پر مبنی ہے اپنی تحریروں کے ذریعے اُجاگر کریں ۔ بین الاقوامی صوفی ازم اور امن کانفرنس میں 35ممالک سے 80دانشور، ادیب اور شاعرشریک ہوئے ہیں ۔ اسی طرح پاکستان سے بھی تقریباً 200دانشوروں اور ادیبوں نے اس کانفرنس میں شرکت کی ۔اس لحاظ سے بھی یہ ایک کامیاب کانفرنس رہی ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر اکادمی نے متعدد کتابوں کی اشاعت کا بھی اہتمام کیا تھا جس کا اعلان پچھلی پریس کانفرنسوں میں کیا گیا تھا ۔ فخر زمان نے اکادمی کے آئندہ منصوبوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ منصوبوں میں ایک بہت اہم بین الاقوامی کانفرنس زیر غور ہے جس پر کارروائی کا آغاز ہو چکاہے ۔پچھلی پریس کانفرنسوں میں ادبی ٹی وی چینل اور ایف ایم ریڈیو کے حوالے سے بھی اعلان کیا گیا تھا یہ ایک بڑا منصوبہ ہے جس پر مرحلہ وار کام کا آغاز کیا جا چکا ہے اور اکادمی کی کوشش ہے کہ آئندہ تین ماہ کے اندر اس منصوبے کو پایہ تکمیل پہنچایا جائے ۔ اکادمی نے ایف ایم ریڈیو اور ادبی چینل کے قیام کا جو اعلان کیا تھا اس سلسلے میں صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی صاحب کا تعاون بھی حاصل ہے اور ان کی بھی خواہش ہے کہ پاکستان میں ایک ادبی اور ثقافتی چینل کا قیام عمل میںلایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے 2011کو فیض کا سال قرار دینے کا اعلان کیا تھا، اس حوالے سے /13فروری 2011ء کو فیض کی یوم پیدائش کے موقع پر ایک قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی جس میں ملک بھر سے دانشوروں اور ادیبوں کو مدعو کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان نے اپنے احاطے میں فیض احمد فیض آڈیٹوریم کی تعمیر کا کام شروع کیا تھا جوکہ جلد ہی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اکادمی ادبیات پاکستان کے تحت اگلے تین ماہ میں صوبائی دارالحکومتوں'' صوفی کانفرنسز '' کا انعقاد کیا جا رہا ہے جن میں ملک کے تمام صوفیاء کے حوالے سے مقالات پیش کیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی پریس بریفنگ میں اعلان کیا گیاتھا کہ اکادمی دیگر ممالک کے ساتھ رائٹرز ایکسچینج پروگرام شروع کرے گی۔ بین الاقوامی صوفی ازم اور امن کانفرنس کے موقع پر اس سلسلے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے اور سویڈن ، آسٹریا ،اٹلی، مراکو، الجیریا، نیپال ، آذربائیجان اور تاجکستان کے مابین ایکسچینج پروگرام کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جا چکا ہے اور جلد ہی ان ممالک کے ساتھ رائٹرز ایکسچینج پروگرام کا آغاز ہو جائے گا ۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے فخر زمان نے کہا کہ پاکستان میں اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہو سکا ،یہ ایک بنیادی نوعیت کا کام ہے جس پر بھرپور توجہ دی جائے گی تا کہ ہماری آئندہ نسل بھی ادب کی طرف راغب ہو سکے ۔ اکادمی ادبیات پاکستان بچوں کے ادب کے حوالے سے جن منصوبوں کا آغاز کررہی ہے اس سلسلے کے پہلے مرحلے میں پاکستانی زبانوں پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی،سرائیکی، ہندکو ، براہوئی اور شمالی علاقہ جات کی زبانوں میں بچوں کے ادب کے حوالے سے کام کرنے والے ادیبوں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اکادمی ادبیات پاکستان کی طر ف سے ہر زبان کے ایک ایک ادیب کو ایوارڈ پیش کیا جائے گا۔ رپورٹ ؛ آغا نور محمد پٹھان ۔ ریزیڈنٹ ڈائریکٹر ۔اکادمی ادبیات پاکستان صوبہ سندھ ۔ کراچی۔
اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©
|