Thursday, 09.09.2010, 05:49am (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
متفرقات (Misc:)
 
کوپن ہیگن میں “ اقبال ڈے “ پر شاندار تقریب
Friday, 05.28.2010, 08:13pm (GMT+1)

رپورٹ ؛ اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے
 کوپن ہیگن -  حسب روایت، “ اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا“  کے زیر اہتمام ، “  یوم اقبال “ کے حوالے سے، ٹاسٹروپ کلچرل ہال میں ایک پر وقار اور عظیم الشان تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستانیوں اور خاص کر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں زیر تعلیم نوجوان پاکستانی لڑکے لڑکیوں کی کثیر تعداد نے شمولیت کی ۔

تقریب میں شامل خواتین

صحافتی پیشہ وارانہ فوٹو گرافی میں متعدد عالمی ایوارڈ یافتہ، اور اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا کے متحرک رکن، عادل انصاری نے اس موقع پر اپنے خطاب میں “ خود انحصاری “  کے حوالے سے  فرموادت اقبال پر عمل کرنے کی ضرورت پر توجہ مبذول کراتے ہوئے زور دیا کہ ہمیں زندگی میں کامیابیوں کے لیے “ اندر و باہر سے ایک ہونا چاہیے“۔ انہوں نے کہا  کہ ہمیں اپنے قول و فعل سے ثابت کرنا ہے کہ ہم جو کچھ باہر سے دکھائی دیتے ہیں اندر سے بھی وہی ہیں اور ہمارے قول و فعل میں کوئی فرق نہیں۔ عادل انصاری نے کہا کہ ایک سچے محب وطن کی یہی شان اور نشانی ہے کہ “ اندر و باہر سے ایک ہو“ اور اقبال کو خراج تحسین پیش کرنے کا یہی وہ بہترین طریقہ ہے کہ بحیثیت انسان اور پاکستانی ہمارے قول و فعل  میں کوئی فرق نہ ہو۔

جناب باشی قریشی خطاب کرتے ہوئے

ڈنمارک اور یورپ بھر میں تارکین وطن برادریوں کے حقوق کے لیے متحرک اور اس سلسلے میں، برسلز میں قائم، یورپی تارکین وطن کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیم، “ اینار “ کے بانی اور چیئرپرسن، باشی قریشی نے، اپنے خطاب میں “ قائد اعظم کا پاکستان “ کے عنوان سے ایک پر مغز مقالہ پیش کیا ۔ ان کے اس مقالے کو تقریب میں شامل نوجوان پاکستانیوں نے بڑے غور سے سنا کیونکہ باشی قریشی نے تحریک قیام پاکستان سے لے کر اب تک کے حالات پر جس طرح روشنی ڈالی وہ ان کے لیے ایک طرح سے پاکستان کی گزشتہ ساٹھ سالہ تاریخ کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کو موقع تھا، جسے پیش کرتے ہوئے،  باشی قریشی نے لاریب کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی تھی ۔ انہوں نے اس سلسلے میں قائد اعظم محممد علی جناح کی قیادت اور مسلمانان ہند اور ان کے لیے ایک وطن کے قیام کے سلسلے میں، خدمات پر بغور خاص روشنی ڈالی ۔

جناب سروش اعلمگیر خطاب کرتے ہوئے

اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا کے ایک بہت ہی متحرک رکن  اور دانشور، سروش عالمگیر نے ، “ اقبال کا (تصور ) پاکستان “ کے حوالے سے اپنے بہت ہی مدلل اور  موضوع  کا بھرپور احاطہ کرنے والے خطاب میں ان تصورات و خیالات کو عیاں کیا جو  اقبال مسلمان ہند کے لیے ایک الگ وطن کے متعلق رکھتے تھے ۔  انھوں نے اقبال کے تصور ریاست اور انتظام مملکت کے حوالے سے سیر حاصل خطاب کرتے ہوئے، سماجی و ثقافتی اور سیاسی امور بارے اقبال کے نظریات اور کسی ایک اسلامی ریاست کے لیے، اسلامی اساس کی ضرورت اور اس سلسلے میں اسلام کو بطور نظام اپنائے جانے بارے اقبال کے فلسفے کی انتہائی خوبصورت عکاسی کی ۔

ڈنمارک ریڈیو کی اردوسروس کے مدیر اور ڈنمارک کی اسٹیٹ لائبریری کے لینگویج کنسلٹنٹ معروف ادیب و شاعر، نصر ملک نے اقبال کے کلام میں عظمت انسان کے لیے عالمگیر پیغام کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقبال کو محض “ پاکستان کا قومی شاعر، یا شاعر مشرق “  کہہ کر کسی خاص خطے یا قوم کے لیے وقف یا محدود نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اقبال، صرف پاکستانیوں اور مسلمانوں ہی کے شاعر نہیں بلکہ ان کی کلام کی افاقیت پوری نسل انسانی کے لیے ہے اور وہ آنے والے ہر دور میں انسانوں کی فلاح و رفاع کا درس دیتے ہیں ۔
نصر ملک نے اقبال کے فلسفہ خودی کے حوالے سے کہا کہ اقبال نے جس طرح فرد کو مقام آدمیت دلوانے کے لیے “ خودی “ سے ہمکنار ہونے اور اس کے “ سرنہاں “ کو پانے اور اس سے جڑے رہنے کا درس دیا ہے اسی میں انسانیت کی بقا و تحفظ ہے ۔

جناب نصر ملک خطاب کرتے ہوئے

نصر ملک نے کلام اقبال کے ڈینش زبان میں تراجم کے حوالے سے بتایا کہ اقبال کی کئی ایک نظمیں سنہ انیس سو باون میں ڈینش زبان میں ترجمہ کی گئی تھیں اور یہ مختلف علمی و ادبی ڈینش جرائد میں شائع ہوتی رہیں اور پھر انیس سو ستاسٹھ میں مرتب کی کئی گئی “  عالمی شاعری کی ایک انتھیالوجی میں بھی شامل کی گئیں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کوپن ہیگن یونیورسٹی میں علوم شرقیہ کے پروفیسر یس آسموسن کے اس مقالے کا بطور خاص ذکر کیا جو انھوں نے اقبال کے فلسفہ خودی پر لکھا اور شائع کیا تھا اور جس کی وجہ سے پاکستان کی حکومت نے انہیں “ گولڈ میڈل “ سے نوازا تھا ۔
 نصر ملک اس موقع پر یہ بھی انکشاف کیا کہ  اقبال کا ڈنمارک سے ایک گہرا علمی و ادبی ربط اس طرح سے بھی کہ  علوم شرقیہ کے معروف ڈینش عالم و پروفیسر آنجہانی آرتھر کرسٹنسن کی مشہور زمانہ کتاب “ دی ہسٹری آف بخارا“  کا اردو ترجمہ  علامہ اقبال نے تب کیا تھا جب وہ اورنٹیل کالج لاہور میں پروفیسر تھے اور اقبال کی ترجمہ کردہ ڈینش پروفیسر کرسٹنسن کی یہ کتاب “ انجمن ترقی اردو دہلی “ نے سنہ انیس سو اکیالیس میں شائع کی تھی ۔
 
نصر ملک نے اپنے خطاب کے اختتام پر ایک  قرار دار پیش کرتے ہوئے، پاکستاں کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ “ اقبال اکاڈمی اسکینڈینویا “ کی جانب سے ڈنمارک ، سویڈن اور ناروے میں اقبال کے حوالے سے کیے جانے والے تحقیقی اور علمی و ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر اور ان خدمات کو جاری رکھنے والوں کے سربراہ جناب غلام صابر کی خدمات پر انہیں کسی قومی ایوارڈ سے نوازتے ہوئے ان کی ان بے لوث خدمات کا اعتراف کرے ۔ نصر ملک نے اس سلسلے میں  اکاڈمی کے بانی و سربراہ جناب غلام صابر کی  ایک انگریزی تصنیف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں جناب غلام صابر نے اقبال اور ڈینش فلاسفر سؤرن کرکیگورڈ کے “ انسانیت کے لیے نظریات “ کا تجزیہ کرتے ہوئے جس طرح ان دونوں میں مماثلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے وہ ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور غلام صابر صاحب اپنے اس کارنامے پر بھی حکومت پاکستان اور اقبال اکاڈمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کے شکریے کے بھی مستحق ہیں اور ان کی اس کوشش کو بھی پاکستانی کی طرف سے سرکاری سطح پر پزیرائی ملنی چاہیئے ۔  نصر ملک کی پیش کردہ اس قرار دار کو سبھی مندوبین اور حاضرین جلسہ نے متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے امید ظاہر کی پاکستان کی حکومت اور متعلقہ سرکاری ادارے، اس قراردار پر عمل کرتے ہوئے “ حقدار کو اس کا حق دیں گے“۔

جناب حادی خان خطاب کرتے ہوئے

اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا کے نڑے متحرک رکن حادی خان نے اقبال کے فلسفہ اجتہاد پر مدلل خطاب کرتے ہوئے اور  اسلام میں تحریک “  کے بارے میں اقبال جو نظریات رکھتے تھے اور اجتہاد کے عمل کو جس طرح اپنانے اور قابل عمل بنانے کے خواہشمند تھے، اس پر بڑی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی ۔

اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا کی جانب سے منائے گئے  “ اقبال ڈے “  کی اس تقریب میں اپنے اختتامی خطبے میں اکاڈی کے بانی اور اقبال پر لکھے کئی مقالہ جات اور دو اہم کتابوں کے مصنف و محقق اور اقبال شناس جناب غلام صابر نے،  مقررین کے خطابات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تقریب میں آج کے مقررین نے اقبال کے حوالے سے اپنے جن خیالات کو پیش کیا ہے  وہ قابل ستائش ہیں۔
جناب غلام صابر نے کہا کہ مقررین نے  مسلمان امت میں “ اتحاد “ اور “ اجتہاد “ کے ساتھ ساتھ روزمرہ کی عمومی زندگی اور دین اسلام کی  “ اساس “ کے لیے اقبال کے پیغام کو جس طرح پیش کیا ہے اس سے خود مقررین کی اقبال سے محبت اور امت کے لیے فرمودات اقبال کی اہمیت و افادیت اور ان کو اپنانے  کی ضرورت کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔

اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا کے بانی و چیئرمین جناب غلام صابر خطاب کرتے ہوئے

اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا کے بانی اور چیئرمین جناب غلام صابر نے کہا کہ اجتہاد کے احیا کا بہترین اور درست ترین راستہ یہی ہے کہ  اس کے لیے ایسی مقننہ یا قانون ساز اسمبلی ہو جو امت کے اعلیٰ ترین علما اور منتخب نمائندوں پر مشتمل ہو اور وہی فیصلہ کرے کہ کن قوانین میں اصول اجتہاد کے تحت تبدیلی کی کیوں ضرورت ہے اور یہ تبدیلی کیسے لائی جا سکتی ہے ۔ اپنے خطاب کے آخیر پر جناب غلام صابر نے انتہائی خوبصورت ترنم کے ساتھ کلام اقبال پیش کرتے ہوئے، حاضرین محفل کے دلوں کو گرما دیا ۔
اقبال اکاڈمی اسکینڈینیویا کی تقریب میں نظامت کے فرائض انجم صابر نے بڑی ہی خوش اسلوبی سے ادا کیے وہ اقبال ہی کے شعروں سے محفل میں رنگ بھرتی رہیں۔ تقریب کے آغاز پر قرآن پاک کی تلاوت کا اعزاز اکاڈمی کے رکن محمد کامل نے حاصل کیا جبکہ ایک بچے نے اقبال کی نظم “ ہمدردی“  سنائی ۔

تقریب میں شامل فدائین اقبال
 تقریب میں وقفے کے دوران تمام حاضرین کے لیے خوردو نوش کا بہت ہی اعلیٰ اہتمام کیا گیا تھا اور حاضرین نے بھی اس سے لطف اندوز ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی تھی ۔


 

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
تخلیقی بین الاقوامیت میں اسد ملک کا کردار (04.01.2010)
اکادمی ادبیات پاکستان ۔ ایک بہتر مستقبل کی امید (03.27.2010)
آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی ؛ ڈینش ناولوں کے اردو تراجم کی تقریب تعارف (12.17.2009)
نومبر کی ایک شام، سفیر اردو کے نام ۔ از: ناصر شمسی ۔ کراچی (12.13.2009)
اخلاقی بغاوت۔ (09.25.2009)
ڈنمارک ، حقائق اور اعداد و شمار کے آئینے میں ۔ (09.23.2009)
ڈنمارک میں مسلمان اور عیسائی تارکین وطن کی تعداد برابر ہے۔ (09.23.2009)
سویٹزر لینڈ : مختلف مذاہب کو ایک دوسرے پر فوقیت کیوں؟ (09.23.2009)
یورپ میں مسلمان ۔ ایک مختصر جائزہ (09.23.2009)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]