نیلاہٹ میں سفر ۔ اردو میں ترجمہ کیا گیا پہلا ڈینش ناول ۔
ڈینش ادیب و شاعر ہانس کرسچیئن اینڈرسن کی زندگی پر مشتمل، اردومیں شائع کیا گیا پہلا ڈینش ناول ۔
معروف شاعر و ادیب، محقق و دانشور، ماہر لسانیات، مسعود منور،اوسلو، ناروے ۔ کی نظر میں ۔
نیلاہٹ میں سفر، ڈینش زبان سے اردو تک کا لسانی سفر ہے۔ ہم تیسری دنیا کے تارکینِ وطن ایک فعال ذولسانیت کے سماجی مظہر سے منسلک ہیں۔ یہ ہمارا فعال حال ہے کہ ہم دو مختلف لسانی نظاموں سے بہ یک جنبشِ لب مستفید ہوتے ہیں۔ادب اعلیٰ انسانی قدروں کا امین تو ہے ہی مگر کسی ایک زبان کے ادبِِ معلیٰ کو کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا دو تہذیبی دھاروں کا یکجا کرنے اور دو مختلف نظام ہائے فکر کو باہم مربوط کرنے کا ہنر ہے۔ اور زیرِ نظر کتاب ، نیلاہٹوں کا سفر ، میں یہ فن اپنے شباب پر نظر آتا ہے۔اور اس دشوار گزار اور پرپیچ گھاٹی کو عبور کرنے کا سہرا اسد ملک کے سر ہے۔

سکنڈے نیویا کا ادبِ عالیہ بلا شبہ اس عالمی ادب کا ایک جزوِ لا ینفک ہے ، جس نے انسانی تہذیب و ثقافت کے بیش قیمت خزانوں کو سمعی و بصری شعبوں کی مدد سے محفوظ کر دیا ہے۔
ڈنمارک میں بالک کہانیوں کے عظیم مصنف ایچ ۔ سی۔ اینڈرسن کی اپنی زندگی اُن کی کہانیوں کی طرح اسرار کی دھند میں لپٹی ہے اور کلائمکس در کلائمکس کئی ڈرامائی واقعات پر عبارت ہے۔ اینڈرسن کی زندگی کی کہانی پر مبنی ، ڈینش مصنف سَٹیی ڈیلیئر کا وہ شہرہ ء آفاق ناول ہے، جو سوانحی نالوں میں بہت بلند پائے کا حامل ہے۔
سَٹیی ڈیلیئر نے ڈینش میں نثر کی جو سطح دریافت کی اور اپنے ناول میں اُسے جس طرح برتا، وہ اپنی جگہ ایک نویکلا تجربہ تھا۔ اس تحریر کو اردو میں منتقل کرتے ہوئے مترجم اسد ملک نے پوری مشاقی، زیرکی اور درں بینی سے متن کی اصل روح کو اردو کے قالب میں ڈھالنے کی پوری کوشش کی ہے جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے ہیں اور اپنی اس فنی صلاحیت کی بنا پر داد و تحسین کا استحقاق رکھتے ہیں۔
اس وقت اردو میں جو نثر لکھی جا رہی ہے وہ کئی بنا پر قواعد و ضوابط کی اغلاط سے بھری ہے۔ مرکب جملوں میں اضافت کا استعمال بالعموم جملے میں غلط مقام پر ہوتا ہے۔ چونکہ اس بحث کا تعلق اردو قواعد انشا یعنی گرامر سے ہے، اس لیے اس کا ذکر یہاں مناسب نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کی مثالیں یہاں دینے کی کوئی گنجائش ہو گی۔
اس ترجمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہاں اس نقطے کا ذکر ضروری ہے کہ اردو نثر کو جس نئی سطح اور فیشن کی طلب ہے، وہ اس نوع کے تراجم ہی کے ذریعے اردو میں داخل ہو سکتی ہے۔ اب تک اردو نثر کا وہی معیار رہا ہے جسے سن اُنیس سو پینتیس میں ترقی پسندوں کی تحریک نے رواج دیا تھا اور جو قرۃ العین حیدر، سجاد ظہیر، کرشن چندر، بیدی اور منٹو کے ذریعے قبولِ عام کی سند پاتی رہی ہے لیکن اب وہ لہجہ اتنا پرانا ہو چکا ہے کہ نئے عہد کے نئے مزاج کو اس میں ٹھہرے ہوئے پانی کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے اور اسد ملک جیسے لوگ اس ٹھہرے ہوئے پانی میں نئے انداز سے پتھر پھینک کر ہلچل مچا رہے ہیں۔ یہ کتاب ترجمہ سہی لیکن یہ ہماری نئی اردو نثر کا اشارہ نما ہے اوراس کا مطالعہ ہمیں ایک نئی جہت دکھاتا اور نثر کے ایک نئے فیشن کو رواج دینے کا خواب نظر آتا ہے۔
اسد ملک، یہ نثر مبارک ہو
اسد ملک کا ترجمہ کردہ ڈینش ناول “ نیلاہٹ میں سفر“ ، ایم پبلیکیشنز ، دین پلازہ ، جی ٹی روڈ، گوجرانوالہ، پاکستان “ سے شائع کیا گیا ہے ۔
اسد ملک سے مندرجہ ذیل ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔
asadm80@hotmail.com
© اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے