چار جولائی اور پانچ جولائی کا فرق
تحریر : ، اختر چوہدری، ڈپٹی سپیکر نارویجن قومی اسمبلی
پانچ جولائی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ چار جولائی امریکا کا قومی دن ہے اور اس قوم کی تاریخ کا روشن ترین دن مانا جاتا ہے۔ اس کی وجہ دونوں قوموں کا مزاج اور ان کا اداروں کی تعمیر اور تکریم سے تعلق ہے۔
پچھلے دنوں امریکی کمانڈر، جنرل مکرسٹل، کو امریکی صدر اوباما نے واشنگٹن میں ایک ملاقات کے بعد ان کے عہدے سے برخواست کر دیا۔ جنرل مکرسٹل کوئی معمولی جنرل نہ تھَے۔ جنرل مکرسٹل افغانستان میں امریکی اور ناٹو افواج کے کمانڈر جنرل تھے۔ جنرل مکرسٹل افغانستان میں امریکی فوجی پالیسی کے آرکیٹیکٹ اور اس کے اطلاق کی علامت اور ضمانت تھے۔ امریکی صدر اوباما نے انہیں ۲۰۰۹ میں افغانستان بھیجا تھا جہاں حالات اس وقت قابو سے باہر ہو رہے تھے۔ جنرل مکرسٹل نے امریکی صدر کو ۳۰۰۰۰اضافی فوجی افغانستان بھیجنے پر مجبور کیا تھا۔
صدر اوباما نے جنرل مکرسٹل کی ،،کوائین سٹریٹیجی،، کی تصدیق کر کے انہیں انتہائی با اختیار بنایا تھا۔ جنرل مکرسٹل کا احترام تمام ناٹو ممالک میں کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ امریکہ کے اتحادیوں نے، جن کی افواج جنرل مکرسٹل کی کمان میں افغانستان میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہی ہیں، علی الاعلان صدر اوباما سے یہ درخواست کی تھی کہ جرنل مکرسٹل کو برخواست نہ کیاجائے۔
افغان حکومت نے بھی تمام سفارتی اور سیاسی اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر جنرل مکرسٹل کی حمایت کی۔
بالفاظ دیگر جنرل مکرسٹل افغانستان میں ایک طاقتور جنرل، اور بقول شخصے، خود امریکہ تھے۔ لیکن شاید یہی بات جنرل مکرسٹل کے تنزل کی وجہ بھی بنی۔ مذکورہ جنرل نے ایک امریکی جریدے کو انٹرویو کے دوران امریکی نائب صدر، افغانستان میں امریکی سفیر اور پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اور ان کے خیالات کے بارےتوہین آمیز تبصرات کیے۔ جنرل نے کے ریمارکس میں بین السطور امریکی صدر اور سول انتظامیہ کی افغانستان پالیسی پر عدم اعتماد کا اظہار تھا۔
ان تبصرات کے سامنے آنے کے فوراً بعد امریکی پریس میں خصوصاً اور دنیا بھر کے پریس میں عموماً یہ تجزیات سامنے آنے لگے کہ صدرباراک اوباما کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ جنرل مکرسٹل کو ان کے عہدے سے برخواست کر دیں۔ یہ بات تصور سے خارج تھی کہ ایک امریکی صدر، جو امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل بھی ہیں،ایک جنرل کی طرف سے اس امر کا عندیہ بھی برداشت کریں کہ ایک فوجی سول انتظامیہ کے فیصلوں، ان کی پالیسیوں اور سب سے بڑھ ان کے اختیار، جسے ہم مینڈیٹ کہتے ہیں، کو چیلنج کر دے۔ اگر امریکی صدر اْن توہین آمیز تبصروں سے صرفِ نظر کرتے تو اس کی واضح تفسیر یہ تھی کہ فوج اور فوجی سول انتظامیہ سے بالا تر ہیں اور سول انتظامیہ کے پاس یا تو اتنی اہلیت نہیں کہ وہ فوجی قیادت کی اپنی حدوں سے باہر نکلنے کی خواہش اور کوشش کو دیکھ سکیں، یا پھر اس کے پاس اس خواہش اور کوشش کو دیکھنے کا وقت نہیں۔ اورآخری اور سب سے خطرناک تفسیر یہ تھی کہ ان میں ان خواہشات اور کوششوں کو دیکھنے کی اہلیت اور وقت تو ہے لیکن ان میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ ایک طاقتور فوجی جنرل کو فارغ کر سکیں۔
کوئی امریکی صدر اور کوئی امریکی انتظامیہ اس آخری تفسیر کو قبول نہیں کرسکتی۔ امریکہ، اور دنیا بھر کے جمہوری معاشروں میں، یہ طے شدہ اصول ہے کہ فوج عوامی اور منتخب قیادت کے ماتحت ہے۔ قطع نظر اس کے کہ فوج کو اس انتظامیہ کی پالیسیوں سے اختلاف ہو۔ حتی کہ یہ کہ اگر یہ بھی طے ہوکہ عوامی نمائندوں کی پالیسیاں ناقص ہیں، تب بھی فوج کے پاس ا سکے علاوہ کوئی راستہ نہیں کہ وہ ان کوعملی شکل دینے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیات کو بروئے کارلائے۔ کسی جمہوری ملک میں کسی فوجی افسر کا عوامی قیادت پر عدم اعتماد قابلِ قبول نہیں ہوتا۔
چار جولائی اور پانچ جولائی میں یہی فرق ہے۔
پانچ جولائی انیس سو ستتر کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے اپنے منتخب وزیر اعظم، ان کی منتخب حکومت اور ملک کی منتخب اسمبلی کو بر طرف کر دیا۔ قطع نظر اس امر کے کہ وہ حکومت ملک میں کیسی پالیسایاں نفاذ کر رہی تھی، جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء پاکستان میں جمہوریت کے سفر کے لیے ایک نئی رہزنی تھی۔ یہ ملک کے آئین کی خلاف ورزی تھی۔
ملک ابھی چھ سال قبل ہی فوجی آمریت سے نکلا تھا۔ جنرل یحیا اور جنرل ایوب کی فوجی حکومت میں بھی وقت کا زیادہ فاصلہ نہ تھا۔ اور جنرل ایوب تو دنیا بھر کی تاریخ میں شاید وہ واحد جنرل تھے جو بیک وقت کمانڈر انچیف بھی تھے اور وزیرِ دفاع بھی۔ یہ تماشہ بھی صرف پاکستان نے دیکھا۔
پاکستانی جنرلوں نے بارہا ملک کی منتخب حکومت کی توہین کی ہے، اس کی حکم عدولی کی ہے اور حتی کہ عوامی نمائندوں کو قید و بند اور موت کا نشانہ بنایا ہے۔ جب ملک کے منتخب وزیرِ اعظم نواز شریف ہندوستانی وزیرِ اعظم سے لاہور میں ہاتھ ملا کر دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے، جنرل اپنے وزیرِ اعظم کی اجازت اور ان کو بتائے بغیر کارگل میں فوج کشی کر رہے تھے۔ انہیں نواز شریف کو وہ دن بھی دیکھنا پڑا کہ جب انہوں نے اپنے اختیارات کو بروئے کارلاتے ہوئے پاکستانی فوج کے چیف آف آرمی سٹاف کو برطرف کرنے کی کوشش کی تو خود ان کی اپنی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا۔
پاکستان میں کمانڈر انچیف خدا ہوتا ہے- یہ الفاظ پاکستان کے ایک ایسے سیاستدان کے ہیں جو کئی مرتبہ قومی اسمبلی کا رکن اور وفاقی وزیر رہا ہے۔ ان کی صداقت کی سند مانگنا قطعاً ضروری نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس کی کھلی شہادت ہے۔
سوال یہ ہے کہ پاکستا ن کے سیاستدانوں نے فوج پر عوامی اختیار مسلط کرنے کے لیے کیا کیا ہے؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ پانچ جولائی اور نو اکتوبر کے سیاہ دنوں میں ان کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا ان جنرلوں کا جنہوں نے پاکستان کے آئین کو بار بار پامال کیا؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا جواب نوشتئہ دیوار ہے۔
جدید جمہوری معاشروں میں ہی نہیں، اگلے زمانوں میں بھی سیاستدان فوج کو عوامی اختیار کے دائرے میں رکھنے کے لیے اپنے اختیار کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ کا خالد بن ولید کو ان کے عہدے سے علیحدہ کرنا مسلم تاریخ میں ایک واضح مثال ہے۔ قدیم یونان میں سیاستدان فوجی افسروں کو زیادہ مدت تک ایک ہی علاقے اور ایک ہی یونٹ کی کمان میں نہیں رہنے دیتے تھے۔ لیکن اس کے لیے لازم تھا کہ سیاستدان ذہین، محنتی اور عوامی اعتماد کے حامل ہوں۔
پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ اس مشکل دور میں جہاں ملک اندرونی اور بیرونی خطرات سے دوچار ہے، جہاں ملک کے اندر دہشت گرد انسانی زندگیوں اور حکومت کے اختیار سے کھیل رہے ہیں، اور بیرونی طور پر جہاں پاکستانی سرحدوں کی ہر روز پامالی ہو رہی ہے، ملک کی سیاسی اور عوامی قیادت کے مابین بہتر اشتراکِ عمل کی ضرورت ہے۔ ملک کی عسکری اور سیاسی قیادت کو ایک ساتھ مل کر ان مسائل کا سامنا کرنا ہے۔ لیکن اس میں یہ ہمیشہ واضح رہنا چاہیے کہ افسر کون ہے اور ماتحت کون۔ پاکستان کے سترہ کروڑ باشندے اور پاکستان کا مستقبل اس امر کا تقاضہ کرتا ہے کہ ادارے اپنے اپنے مقام کو پہچانیں اور ایک دوسرے کو استحکام فراہم کریں نہ کہ ایک دوسرے کو کمزور کریں۔ پاکستان میں اداروں کا استحکام ہی پاکستان کے استحکام کی ضامنت ہے۔ عوامی اداروں کو اپنے استحکام کا خیال کرنا ہو گا۔ تب ہی پاکستان پانچ جولائی سے نکل کر چار جولائی کے روشن دور میں داخل ہو سکے گا۔
مضمون نگار، اختر چوہدری، ڈپٹی سپیکر نارویجن قومی اسمبلی