تحریر ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ڈنمارک میں دائیں بازو کی حکومت کی زبردست حمائتی ڈینش پیپلز پارٹی نے ایک بار منافقانہ روش اختیار کرتے ہوئے، اپنے احمقانہ پن کو ظاہر کردیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ حکومت کو اپنی سیاسی حمایت سے برقرار رکھنے والی یہ پارٹی ، ڈینش آبادی کے ایک بڑے طبقے اور مذہبی اعتبار سے ڈنمارک کی دوسری بڑی دینی برادری یعنی مسلمانوں کی نہ کبھی دوست رہی ہے اور نہ ہی دوست ہو سکتی ہے ۔
ڈنمارک میں مسلمانوں کے خلاف اپنے کمینے پن، منافقت اور تعصب کے کھلے اظہار کے لیے ڈینش پیپلز پارٹی نے اب دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک بڑی مسجد کی تعمیر کے منصوبے کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کرتے ہوئے، ملک کے بڑے بڑے اخبارات میں پورے پورے صفحے کا ایک اشتہار چھپوایا ہے جس میں ، استنبول کی معروف ‘‘ نیلی مسجد ‘‘ کے گنبد پر ایک دوسری کو کراس کرتی ہوئی دو تلواریں دکھائی گئی ہیں اور ظاہر کیا گیا ہے کہ کوپن ہیگن میں مجوزہ مسجد تشدد و انتہا پسندی کا گڑھ ہو گی ۔
اس اشتہار میں ڈینشوں سے کیاگیا ہے کہ وہ مجوزہ مسجد کی تعمیر کے خلاف متحرک ہوں اور بلدیاتی عہدیدار اور شہری کونسل کے وہ اکژیتی ارکان جنہوں نے مذکورہ مسجد کی تعمیر کو شہری تعمیری کے منصوبے میں شامل کیا ہے وہ اس سوال پر ایک ریفرنڈم کرائیں ۔

خود اپنے آپ کو مسلمانوں کے خلاف قرار دینے والی، تارکین وطن مخالف، انتہائی قومیت پرست، حکومت کی حامی، ڈینش پیپلز پارٹی کے احمقوں کو آزادی اظہار کی مکمل آزادی کا جو لا یعنی حق حاصل ہے اس کی آڑمیں یہ پارٹی آئے دن ڈنمارک میں مسلمانوں کے شخصی و دینی تشخص کا مذاق اڑاتی رہتی ہے اور کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے خلاف، اس کی یہ حالیہ اخباری اشتہاری تحریک کوئی خاص اچنبھے کی بات نہیں لیکن، ڈینش پیپلز پارٹی نے اپنے متذکرہ اشتہار میں مسلمانوں کی ایک عظیم تاریخی مسجد یعنی استنبول کی ‘‘ نیلی مسجد ‘‘ کی تصویر دکھاتے ہوئے یہ تاثر دینے کی سراسر غیر اصولی حرکت کی ہے کہ کوپن ہیگن میں مجوزہ مسجد بھی اسی استنبول کی مذکوہ مسجد کی طرح ایک پر تشدد اور جنگ کی طرح کی صورت حال والی مسجد ہوگی، یہ بات قابل مذمت ہے، اور ہم اس کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔
ہم ڈینش سیاستدانوں اور خاص کر انسانی حقوق و انسانیت کی علمبرداری کے ڈھول پیٹنے اور ملکی آئین و دستور کی بالا دستی کے پرچارکوں سے یہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکتے ہیں کہ اگر دارالحکومت کوپن ہیگن کے “ آور لیڈی چرچ “ یعنی “ ہماری خاتون کے گرجا گھر “ کی اسی طرح تصویر پیش کی جائے جس طرح ڈینش پیپلز پارٹی کی قیادت، نیلی مسجد کی تصویر کشی کر رہی تو ان کا رد عمل کیا ہو گا؟
ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب بلدیاتی انتخابات نزدیک تر ہیں اور ڈینش پیپلز پارٹی کا مسلمان تارکین وطن اور اسلام دشمن رویہ، ڈینشوں کو ، ڈنمارک میں اس پرامن برادری کے خلاف مشتعل کرکے ، سوائے ووٹ بٹورنے کے اور کچھ معنی نہیں رکھتا۔
ڈنمارک میں مسلمان اپنی تعداد کے لحاظ سے دوسری بڑی اسلامی برادری ہیں اور آئین مملکت کے تحت وہ ہر لحاظ سے وہی دینی حقوق رکھتے ہیں جو ہر خالص ڈینش النسل شہری رکھتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈینش پیپلز پارٹی اپنی اس مکروہ اشتہاری مہم سے اپنے کن ناپاک ارادوں کی تکمیل چاہتی ہے ؟ کیا وہ چاہتی ہے کہ مسلمان اس معاشرے میں انٹگریٹ نہ ہوں اور اس کا باقاعدہ حصہ نہ بنیں ؟ کیا ڈینش پیپلز پارٹی مسلمانوں کے شخصی و دینی، سماجی و سیاسی حقوق غصب کرنا اور انہیں اتنا تنگ کر دینا چاہتی ہے کہ وہ مار دھاڑ، توڑ پھوڑ پر اتر آئیں؟ اگر ایسا ہے تو ڈینش پیپلز پارٹی کے سیاست دان واقعی میں احمق ہیں اور ان کی یہ حالیہ احمقانہ حرکت ان کے عزائم پوری نہیں کر سکتی ۔ ڈنمارک کے مسلمان شہری ایسی احمقانہ حرکتوں سے تنگ تو پڑ سکتے ہیں لیکن مڈ بھیڑ کی راہ اختیار کرنے کے لیے سوچ بھی نہیں سکتے ۔ وہ جانتے ہیں کہ ڈنمارک اب ان کے لیے کوئی ایک اجنبی ملک نہیں بلکہ خود ان کا اپنا ملک بن چکا ہے اور اپنے اس نئے ملک کے قوانین و ضوابط کا احترام ان پر لازم ہے ۔ اور وہ ان کی پاسداری بھی کرتے ہیں ۔
ڈینش پیپلز پارٹی نے کوپن ہیگن میں ایک بڑی مسجد کی مجوزہ تعمیر کے منصوبے کے خلاف اپنی جو معاندانہ تحریک شروع کی ہے اس میں مسلمانوں کے بارے میں ‘‘ درگزر نہ کرنے، تشدد پر اترآنے اور متشددانہ روش رکھنے والے‘‘ جیسے غیر حقیقی رویوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ مجوزہ مسجد ان باتوں کو ہوا ہی نہیں دے گی بلکہ ان کا گڑھ بن جائے گی۔ اس احمقانہ یاواگوئی پر ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ ڈینش پیپلز پارٹی کے سیاسی پنڈت سؤرن کراروپ ، پیا کھیآسگورڈ اینڈ کمپنی ذرا اپنے ہی رویوں پر نظر ڈالیں اور بتائیں کہ اُن کے اپنے ہاں در گزر کا مادہ کتنا پایا جاتا ہے اور قومیت پرستی اور انتہا پسندی کی روش کیا ان میں نہیں ہے؟ ہماری نظر میں ڈینش پیپلز پارٹی کے احمقوں کے خمیر میں یہ سبھی عناصر کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف دشنام تراشی ان کا سیاسی وطیرہ ہے ۔
ہماری نظر میں ڈینش بحیثت قوم اتنے بے و قوف نہیں کہ انھیں بار بار احمق بنایا جا سکے۔ وہ ڈینش پیپلز پارٹی کے احمقوں کی راگنی میں ہاں ملائیں یا اسے مسترد کردیں اس کا فیصلہ تو نومبر میں کرائے جانے والے بلدیاتی انتخابات میں سامنے آ جائے گا کہ ڈینش رائے دھندگان کسے ووٹ دیتے ہیں ۔ فی الحال ہم سمجھتے ہیں کہ مسجد کی حمایت کرنا یا نہ کرنا ایک الگ معاملہ ہے اور جھوٹ، مکر و فریب اور اشتعالانہ الزام تراشیوں کے مقابلے میں حق و سچ کی حمایت کرنا الگ معاملہ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ڈینش پیپلز پارٹی کے تابڑ توڑ حملوں کے جواب میں حق و انصاف، انسانی بنیادی حقوق و مساوات کے دعویدار ڈینش عوام کس کا ساتھ دیتے
ہیں۔
© اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے