Saturday, 09.04.2010, 08:35pm (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
اداریہ (Editorial)
 
افغانستان میں جمہوریت ؟ ڈنمارک جوابدہ ہے ۔
Sunday, 07.18.2010, 09:18am (GMT+1)

تحریر ؛ نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔

ڈنیش فوجیوں کو افغانستان میں گئے عنقریب ہی دس سال پورے ہو جائیں گے اور چند ہی ماہ میں ڈینش سیاستدانوں کواس بارے میں فیصلہ کرنا ہے کہ ڈینش فوجیں افغان صوبہ ھلمند میں جہاں وہ اب متعین ہیں، وہیں رکھی جائیں گی یا انہیں ملک کے کسی دوسرے حصے میں منتقل کردیا جائے گا یا پھر انہیں واپس ڈنمارک بلا لیا جائے گا؟

 

سنہ دو ہزار دو میں، ڈنمارک نے جب اپنی فوجیں افغانستاں بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا تو تب سیاست دانوں اور خاص کر تب کے وزیر اعظم، وینسٹرا پارٹی کے آنڈرس فوگ راسموسن کا مؤقف تھا کہ “ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغان عوام ایک مظبوط حمہوریت یعنی جمہوری نظام حاصل کریں“۔

 

تب کے وزیر اعظم  اور نیٹو کے موجودہ سیکریٹری جنرل، آنڈرس فوگ راسموسن نے سنہ دو ہزار چھ میں تین اکتوبر کے پارلیمانی اجلاس میں اپنی افتتاحی تقریر کا کم و بیش نصف حصہ افغانستان میں جمہوریت، وہاں کے شہریوں کے حقوق اور آزادی کے لیے جنگ کے بارے میں استعمال کیا تھا ۔ اُن کی تقریر کا نقطہ آغاز یہی تھا کہ، امریکہ پر گیارہ ستمبر سنہ دو بزار ایک کو کیے گئے دہشتگردی کے حملے نے، عالمی اقدار کی ایک جنگ شروع کردی ہے اور اقدار کی یہ جنگ ثقافت و دین کے مابین جنگ نہیں بلکہ یہ روشن خیالی اور بیناد پرستی کی تاریکی کے مایبن جنگ ہے ، یہ جمہوریت اور آمریت کی درمیان اور آزادی و ظلم کے درمیان جنگ ہے  ۔

 

سنہ دو بزار نو میں، عالمی جمہوریت کے حوالے سے، ڈینش سیاست میں ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی جہاں ، دائیں بازو کی حکومت، حزب اختلاف کی سوشل ڈیموکریٹ اور قومیت پرست ڈینش پیپلز پارٹی سبھی نے ، افغانستان کے لیے جمہوری منصوبوں کو یہ کہہ کر ایک طرف پھینک دیا کہ “ اب افغانستان میں معاملہ امن و تحفظ سے تعلق رکھتا بے اور افغانستان میں سیکورٹی کا ایسا بندوببست  لازم ہے کہ ملک دوبارہ طالبان کے ہاتھوں میں نہ جا گرے ۔ ڈنمارک کے اس نئے موقف کی وجہ سے، افغانستان میں جمہوریت کی بحالی کا عمل نہ صرف پس پشت ڈال دیا گیا بلکہ وہاں ایک کھلی جنگ میں حصہ لینے لے لیے اعلان  بھی کردیا گیا جو اب تک جاری ہے اور ڈنمارک اس میں اپنا حصہ مسلسل ڈال رہا ہے ۔

 

افغانستان میں جمہوریت اور ایک منصفانہ نظام حکومت کے قیام کے نام پر جس جنگ کا آغاز نو سال قبل کیا گیا تھا اور جس میں ڈنمارک برابر کیا شریک ہے، وہاں اس جموہریت کا نام و نشان تک نہیں جب کہ جنگ کے شعلے چاروں طرف پھیلےہوئے ہیں۔ نو سال سے جاری اس جنگ میں شامل دیگر مغربی اقوام کو چھوڑ کر، امریکہ ، برطانیہ ، جرمنی اور ڈنمارک نے اب تک، 1.900 ارب ڈالر جنگی مقاصد کے لیے صرف کیے ہیں اور یہ رقم، اس رقم سے نو گنا زیادہ ہے جو اسی عرصے کے دوران، جنگ سے تباہ شدہ افغانستان کی دوبادہ آباد کاری اور جمہوری اداروں کی تشکیل اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وہاں صرف کی گئی ہے ۔

 

اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے اور “ انٹگریٹی واچ افغانستان “ نامی تنظیم کی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، سنہ دو ہزار سات سے اب تک، افغانستان میں رشوت دوگنا زیادہ بڑھ چکی ہے ۔ متذکرہ تنظیم کی جانب سے کی گئی ایک ملک گیر تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ ہر ساتواں افغانی باشندہ براہ راست سرکاری حکام کو رشوت دینے میں ملوث ہے ۔ ڈنمارک افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے، اپنے ٹیکس دھندگان سے وصول کردہ رقوم میں سے، ساڑھے چار سو ملین کرونا سالانہ رقم ادا کرتا ہے جو یقینی بات بے کہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال تو ہوتی ہی ہوگی لیکن اس کا کافی حصہ رشوت کی نذر بھی ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ اس کا جواب تو ڈینش و افغان حکام ہی دے سکتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ مقاصد جن کے لیے ڈنمارک امریکہ کہ پیروی کرتے ہوئے جنگ میں کود پڑا تھا کیا پچھلے نو سال میں اُن کا ایک فیصد بھی حاصل کیا جا چکا ہے ۔ بالکل نہیں، ایسا نہیں ہو پایا ۔ جمہوریت کا نام و نشان نہیں اگرچہ حامد کرزئی کی حکومت قائم ہے لیکن اس کا دائرہ اختیار صرف دارالحکومت کابل بلکہ صدارتی محل تک ہی محدود ہے ۔ اور بمباری سے تباہ شدہ افغانستان میں کسی ترقیاتی پیشرفت کا بھی کوئی خاص نشان ابھی تک سامنے نہیں آیا ۔ پورا ملک “ میدان جنگ “ بنا بوا ہے اور ڈینش فوجی بھی مارے جا رہے ہیں ۔

 

افغانستان میں جنگ اب جہاں اپنے دس سال پورے کرنے والی ہے اور کئی ایک ممالک وہاں سے اپنی فوجوں کی واپسی  یا ان کی تعداد کم کر دینے کے لیے کھلم کھلا اشارے دے رہے ہیں ۔ ہالینڈ جس کی پیروی کرنے میں ڈنمارک فخر سمجھتا ہے، اس نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ وہ  اگست میں افغان صوبہ ارضگان میں متعین اپنے دو ہزار فوجیوں کو وہاں سے نکال لے گا ۔ ہالینڈ کا موقف ہے  اسے جو کرنا تھا  وہ افغانستان میں کر چکا  ہے اور اب مزید کچھ نہیں جو وہ کر سکے ۔

 

سوال یہ ہے کہ ڈنمارک کب تک اپنے ٹیکس دھندگان کے پیسے افغانستان کی بے سود و بے مقصد جنگ میں جھونکتا رہے گا اور کب تک وہاں جنگ میں مارے جانے والے ڈینش فوجیوں کی میتیں گھر لاتا رہے گا؟ اب وقت آگیا ہے کہ ڈنمارک اپنی پوزیشن واضح کرے کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ڈینش سیاست دانوں نے، افغانستان کی جنگ میں شمولیت سے پہلے ، ایک مستحکم و جمہوری افغانستان قائم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ نو سال کی جنگی جدوجہد  اور ہزاروں انسانی جانوں کو جنگ کی بھینٹ چڑھا دیئے جانے کے باوجود ابھی تک نہ پورا ہو سکا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اس کے پورا ہونے کے کوئی آثار ہیں ۔ اب جب کہ کئی ملک افغانستان سے اپنی فوجوں کو نکال لینے کا عندیہ دے رہے ہیں، ہماری نظر میں لازم ہے کہ ڈنمارک بھی اب اپنا دوٹوک موقف سامنے لائے اور اسی میں ڈنمارک اور ڈینش ٹیکس دھندگان کا فائدہ ہے کہ جنتی جلدی ممکن ہو ڈینش افواج کو افغانستان سے گھر واپس لایا جائے ۔ اور ایک مستحکم جمہوری افغانستان کے قیام  کے نام پر مزید ڈینش فوجیوں کو ہلاک ہونے سے بچایا جائے ۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
غیر ملکیوں کو پچاس کرونا فی گھنٹہ پر ملازم رکھا جائے ۔ وینسٹرا پارٹی (07.12.2010)
ڈینش پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں اور سیاسی پارٹیوں کا ممکنہ رویہ (07.08.2010)
ڈینش وزیر اعظم، قوم کو متحد رکھنے سے زیادہ منقسم کر رہے ہیں (04.04.2010)
مسلمانوں سے معافی مانگنا، ڈینش اخبار کا ایک چھوٹا لیکن اہم قدم (03.13.2010)
ڈینش پیپلز پارٹی کی احمقانہ حرکتیں اور متعصبانہ رویہ (09.27.2009)
ڈنمارک میں حجاب کا معاملہ اور عوام کا رویہ (09.27.2009)
تصادم ! حکومت اور بلدیات ۔ (09.27.2009)
مسلمان مہاجرین اور ڈنمارک کا متعصبانہ رویہ (09.27.2009)
ڈنمارک کا غیر ملکیوں کو دوہری شہریت دینے سے انکار (09.27.2009)
ڈینش شہریت دیئے جانے کا غیر مساویانہ طریقہ ۔ (09.27.2009)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]