تحریر : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ڈینش حکومتی پارٹی اور پارٹی کی وزیر انٹگریشن کے درمیان دراڑ پر سیاسی مبصرین کے مطابق “ نہ رویا جا سکتا ہے نہ ہنسا جا سکتا ہے “ البتہ حکومت کی حامی انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست، ڈینش پیپلز پارٹی اس پر اپنے دوٹوک مؤ قف کا اظہار کر رہی ہے ۔
حکومتی پارٹی، وینسٹرا اور اُس کی وزیر انٹگریشن کے درمیان اس دراڑ کی وجہ ، پارٹی کے انٹگریشن امور کے ترجمان کارسٹن لاؤرٹزن کی وہ تجویز ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ “ نئے ڈینشوں کو ( بازار روزگار میں ) انٹگریٹ کرنے کے لیے “ تنخواہوں کا ایک خصوصی قانون بنایا جائے اور (غیر ملکی پس منظر کے حامل) نئے ڈینشوں کو بازار روزگار میں رائج الوقت کم سے کم تنخواہوں کی بجائے ان کا صرف نصف بطور تنخواہ ادا کیا جائے ۔ بدیگر الفاظ انہیں پچاس کرونا فی گھنٹہ تنخواہ دی جائے “۔
وینسٹرا پارٹی کے امور انٹگریشن کے ترجمان ، کارسٹن لاؤرٹزن کی اس تجویز کو جہاں کئی ایک حلقے “ احمقانہ و فضول تجویز “ قرار دے کر اس کا تمسخر اُڑا رہے ہیں وہاں خود، وینسٹرا پارٹی کی انٹگریشن کے امور کی وزیر ، بریتھے راؤن ھارنبیخ نے بھی اس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
انہوں نے ڈینش خبر رساں ایجنسی ریٹزاؤ کو بتایا کہ وہ نہ صرف اس تجویز پر حیران ہیں بلکہ اسے یکسر مسترد کرتی ہیں کہ نئے ڈینشوں کی انٹگریشن کے لیے خصوصی تنخواہوں کا قانون بنایا جائے ۔ بریتھے راؤن ھارنبیخ نے صاف کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے انٹگریشن امور کے ترجمان کی پیش کردہ متذکرہ بالا تجویز، بذات خود، حکومت کی سرکاری انٹگریشن پالیسیوں کے خلاف ہے ۔
انہوں نے یاد دلا بے کہ ، انٹگریشن کے معاملات کی ذمہ دار وہ خود ہیں ۔ وزیر انٹگریشن نے یہ بھی کہا ہے کہ متذکرہ تجویز “ سبھی تارکین وطن (اور نئے ڈینشوں ) کو ایک ہی کھاتے میں ڈالنے اور انہیں داغدار کرنے کے مترادف ہے “۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وینسٹرا پارٹی کی متذکرہ تجویز کو ، جیسا کہ روزنامہ Berlingske Tidende نے اپنی ہفتے کی اشاعت میں لکھا ہے، حکومت میں شامل ، کنزرویٹوو پارٹی کی حمایت بھی حاصل ہے ۔
حکومتی پارٹی وینسٹرا کے انٹگریشن امور کے ترجمان کی “ نئے ڈینشوں کی تنخواہوں “ بارے تجویز اور اس پر حکومت میں شامل کنزرویٹوو پارٹی کی جانب سے حمایت کا اظہار جہاں، موسم گرما میں گرما گرم سیاسی بحث مباحثے کا سبب بنی ہوئی ہے وہاں کئی ایک سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ تجویز، وینسٹرا پارٹی کی جانب سے غیر ملکیوں مخالف چھوڑا گیا ایک ایسا “ سیاسی منافقانہ و متعصبانہ میزائل ہے ، جو چلنے سے پہلے ہی ٹھس ہو گیا ہے “ ۔ اور یہاں تک کہ حکومت کی زبردست حامی اور غیر ملکیوں کے خلاف سخت رویہ رکھنے اور خود کو مسلمانوں کے خلاف قرار دینے والی قومیت پرست، ڈینش پیپلز پارٹی نے بھی اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اس کا سیاسی تمسخر اُڑایا ہے ۔
نئے ڈینشوں یعنی غیر ڈینش پس منظر رکھنے والوں کے حوالےسے، حکومتی پارٹی کے امور انٹگریشن کے ترجمان کی تجویز کی وجہ سے، پارٹی کے اندر پیدا شدہ دراڑ پر تبصرہ کرتے ہوئے، خود حکومت کی حامی اور غیر ملکیوں مخالف سخت معاندانہ رویہ رکھنے والی، ڈ ینش پیپلز پارٹی نے بھی اچنبے کا اظہار کیا ہے ۔
ڈینش پیپلز پارٹی کے Søren Espersen سے میڈیا میں ایک بیان منسوب کیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ “ وینسٹرا پارٹی اور پارٹی کی وزیر انٹگریشن بریتھے راؤن ھارنبیخ کے درمیان جو “ کھلی سیاسی دراڑ “ پیدا ہو گئی ہے وہ اتنی بچگانہ ہے کہ یہ سمجھ نہیں آتی کہ اس پر رویا جا ئے یا ہنسا جائے “۔
ڈینش پیپلز پارٹی کے سؤرن ایسپرسن نے متذکرہ تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئی جہاں یکسر مسترد کر دیا ہے وہاں انہوں نے اس تجویز کو “ متعصابہ اور غیر ملکیوں کو ایک ہی ٹوکری میں پھینکنا “ قرار دیا ہے ۔
وینسٹرا پارٹی کے امور انٹگریشن کے ترجمان کی تجویز اور اُس پر حکومت کی وزیر انٹگریشن، بریتھے راؤن ہارنبیخ، جو خود بھی وینسٹرا پارٹی ہی سے تعلق رکھتی ہیں ، اُن کی تنقید کو ہم بخوبی سمجھتے ہیں ۔ وینسٹرا پارٹی کے ان دونوں ارکان کی آراء میں تضاد کی وجہ سے پارٹی کے اندر دکھائی دینے والی دراڑ کوئی نئی نہیں ۔ بریتھے راؤن ہارنبیخ جو پارٹی کی سخت ترین ایمیگریشن پالیسوں کی سختی سے پیروی کرتے ہوئے کبھی کبھی تارکین وطن کے متعلق اپنے دل کی بات بھی کہہ دیتی ہیں اور اپنے اس عمل سے وہ خود بھی تنقید کا نشانہ بن جاتی ہیں ۔ اور اس معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا بے کہ پارٹی کے انٹگریشن امور کے ترجمان اور حکومت کی وزیر انٹگریشن کے درمیان “ سیاسی لے دے “ چل رہی ہے۔
اب وینسٹرا کی متذکرہ تجویز پر، تارکین وطن مخالف، ڈینش پیپلز پارٹی نے جس رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے، اسے ایک “ متعصابہ “ تجویز قرار دیا ہے ، اس پر ہم بھی حیران ہیں ۔
ہماری نظر میں ڈینش پیپلز پارٹی کا یہ کہنا کتنی ہی صاف نیتی پر مبنی کیوں نہ ہو ، یہ بلکل “ سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی “ کے مترادف، سمھجا جا سکتا بے ۔ کون نہیں جانتا کہ غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کو ڈینش معاشرے کی ہر برائی کی جڑ قرار دینے والی حکومت کی حامی، ڈینش پیپلز پارٹی اپنے قیام سے لے کر اب تک غیر ملکیوں اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف کس کس طرح کا متعصباہ و منافقانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے ۔ اور پچھلے ایک آدھ سال سے ڈینش پیپلزپارٹی کے غیر ملکیوں مخالف اسی رویے کی وجہ سے پارٹی کے چند ایک ارکان یہ کہتے ہوئے پارٹی سے کنارہ کش ہوگئے تھی کہ “ اب انتہا ہو چکی ہے۔“
ہماری نظر میں وینسٹرا کی متذکرہ تجویز پر ڈینش پیپلز پارٹی کا رد عمل، در اصل اپنے ناراض ارکان کو یہ تاثر دینے کی ایک بھونڈی کوشش کے سوا کچھ نہیں کہ پارٹی غیر ملکیوں کے متعلق ایسی نہیں جیسا ناراض ارکان اُس کے بارے میں سوچنے لگے ہیں ۔
ہم جانتے ہیں کہ اب انتخابات قریب آتے جا رہے ہیں اور سیاسی پارٹیاں بھی اپنے ڈھول بجانے اور غیر ملکیوں کے حوالے سے وہی پرانی راگنیاں الاپنے کی تیاریاں کر رہی ہیں اور وینسٹرا و کنزرویٹو حکومتی پارٹیوں کی متذکرہ بالا تجویز اور اس پر حکومت کی ہی حامی ڈینش پیپلز پارٹی کا رد عمل انہی پیشگی تیاریوں کا ایک حصہ ہے ۔
ہم حکومتی پارٹی کی اس تجویز پر بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹ اور اُس کی اتحادی سوشلسٹ پیپلز پارٹی ( ایس ایف ) اور ریڈیکل کی خاموشی کو بھی سمجھنے سے قاصر ہیں اور یہ کہنے میں حق نجا نب ہیں، کہ ان کی خاموشی، اس تجویز پر اُن کی “ نیم رضا مندی “ سمجھی جا سکتی ہے ۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ پارٹیاں ، غیر ملکیوں کو کم سے کم تنخواہوں پر روزگار دینے بارے، وینسٹرا و کنزرویٹوو کی تجویز کی اگر کھل کر مذمت نہیں کرتیں تو کم سے کم اس پر اپنا رد عمل تو ظاہر کریں تاکہ، غیر ملکی یہ تو جان سکیں کہ ان پارٹیوں کا مؤقف کیا ہے۔
حزب اختلاف کی یہ پارٹیاں اگر ایسا نہ کر سکیں تو غیر ملکی اور خاص کر مسلمان تارکین وطن یہ سمجھنے میں حق بجانب ہونگے کہ ڈینش معاشرے میں اُن کا کوئی ساتھی نہیں اور سیاست دان انہیں محض “ سستی افرادی قوت “ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور چاہتے ہیں کہ انہیں کم سےکم اجرتوں پر“ غلاموں “ جیسا بنا کر فیکٹریوں کی بھٹیوں تک ہی محدود رکھا جائے ۔