خصوصی تحریر : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ڈنمارک میں اقتصادی بحران کے سبب جو سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے اوررائے دھندگان جس طرح حکومت اور خاص کر وزیر اعظم پر اپنے عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔
پچھلے ایک آدھ ہفتے سے ملک کی سب سے بڑی حزب اختلاف کی سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی چیئرپرسن ، ھیلے تھورنگ شمتھ کے خاوند کے ٹیکس معاملات کے حوالے سے اگرچہ تھورنگ شمتھ کی سیاسی حیثیت پر اُن کے مخالفین نے سوالیہ نشان لگانے کی کوشش کی تھی لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق، ھلیے تھورنگ شمتھ نہ صرف اپنے خلاف اس سیاسی دلدل سے باہر نکل چکی ہیں بلکہ اُن کی اپنی سیاسی شخصیت کی مقبولیت جوں کی توں اپنی پہلے والی حیثیت پر دوبارہ بر قرار ہو چکی ہے اور رائے دھند گان کی ایک بڑی اکثریت ، اگلے انتخابات کے بعد انھیں ملک کی نئی وزیر اعظم کے طور پر مسند اقتدار پر دیکھنا چاہتی ہے۔
ڈنمارک میں اگلے سال ۲۰۱۱ ء میں پارلیمانی انتخابات کرائے جانے والے ہیں ۔ اور ملک کی موجودہ اقتصادی و سیاسی صورت حال کو مد نظر رکھتے ہوئے سیاسی پنڈتوں نے ابھی ہی سے پشینگوئیاں شروع بھی کر دی ہیں کہ ان انتخابات کے دوران دائیں بازو کی حکومتی پارٹیاں اور بائیں بازو کی حزب اختلاف کیا انتخابی حکمت عملی اختیار کریں گی کہ وہ کامیاب ہو جائیں ۔
ڈینش سیاسی پنڈتوں اور انتخابی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگلی انتخابی تحریک کے دوران حکومت دانستہ طور پر ڈینش اقدار کی سیاست پر زور دے گی اور تہذیبی و تمدنی اقدار کے حوالے سے غیر ملکیوں اور بالخصوص مسلمان تارکین وطن کو نشانہ بنائے گی لیکن اس بار یہ طریقہ حکومت کی انتخابی کامیابی کے لیے اس طرح کا گر شاید ہی ثابت ہو جیسا کہ پچھلے دو انتخابات میں ہوتا آیا ہے ۔ حکومتی پارٹیاں ، وینسٹرا اور کنزرویٹوو تو صرف ڈینش اقدار کے تحفظ و فروغ تک ہی محدود رہ سکتی ہیں لیکن ، حکومت کی حامی انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست اور خود اپنے آپ کو مسلمانوں کے خلاف قرار دینے والی اور ان کے دین ، بودوباش اور طرز معاشرت پر تنقید کرتے رہنے والی اور غیر ملکیوں کو ڈینش سماج کے لیے ناسور سمجھنے والی، ڈینش پیپلز پارٹی اس معاملے میں ، اپنی بہن، ہالینڈ کی ، فریڈم پارٹی ، کی پیروی کرتے ہوئے، انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں مخالف سخت رویہ اختیار کر سکتی ہے ۔ اور چونکہ اقتصادی بحران کی وجہ سے ڈینش اقدار و رسوم کے بارے میں اب ذرئعے ابلاغ میں کچھ خاص سامنے نہیں آرہا لہٰذا جب ڈینش پیپلز پارٹی اس بارےمیں انتخابات کے موقع پر منہ کھولے گی تو ممکن ہے اس کی آواز سنی بھی جائے گی ۔ اور یہ ہالینڈ کی متعصبانہ ، فریڈم پارٹی کی طرح پہلے سے کہیں زیادہ پیشرفت بھی کر سکتی ہے ۔
دوسری طرف عرب نژاد، متنازع سیاست دان، کنزرویٹوو پارٹی کے پارلیمانٰ رکن اور امور خارجہ کے ترجمان ، ناصر خضر نے ابھی ہی سے، دائیں بازو کی پارٹیوں کو جھنجھوڑ کرجگانے کی کوشش کرتے ہوئے آوازہ لگایا ہے کہ وہ خواب سے بیدار ہوں اور ہالینڈ میں، فریڈم پارٹی کی کامیابی سے کچھ سیکھنے کے لیے ابھی ہی سے کوششیں شروع کردیں ۔
ناصر خضر نے ڈینش قومی نیوز ایجنسی، رٹزاؤ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی تحریک کے موقع پر، دائیں بازو کے بلاک کو ڈینش اقدار و روایات کے حوالے سے نہ صرف اپنی تحریک کے آغاز کے لیے ابھی ہی سے بیدار ہوجانا چاہیے بلکہ ان اقدار کو سامنے لانے اور ان کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کے ٹھوس و مدلل اور قابل اعتبار و یقین جوابات بھی تیار رکھنے چاہئیں ۔
ناصر خضر نے اگرچہ ہالینڈ کی فریڈم پارٹی کے متعصب اور اسلام دشمن رہنما ولڈرز کو بڑے محتاط طریقے سے ایک شدت پسند تو قرار دیا لیکن اس کے ساتھ ہی ناصر خضر نے دائیں بازو کی سیاسی پارٹیوں پر زور دیا کہ وہ، ڈینش اقدار پر مبنی، انتخابی تحریک یوں چلائیں کہ لوگ یعنی رائے دھندگان جوق در جوق انکے ساتھ آ ملیں ۔
اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈینش سیاست واقعی میں اپنے ماضی کی جانب رخ موڑ رہی ہے ؟
کیا انتخابی تحریک کے دوران پھر سے تیسری بار،تارکین وطن ، اسلام ، مسلمان ، دہشت گردی اور برقعہ و حجاب ہی انتخابی بحث مباحثوں کا موضوع ہوں گے ؟ اور سماج کو درپیش، اقتصادی بحران ، بیزورگاری اور معاشری بہبود کو لاحق انحطاط پزیری جیسے مسائل پس پشت ڈال دئیے جائیں گے؟
وینسٹرا و کنزرویٹوو، دونوں حکومتی پارٹیوں اور ان کی حامی، قومیت پرست ڈینش پیپلز پارٹی کے لیے ڈینش اقدار کے نام پر انتخابی تحریک فائدہ مند ہو سکتی ہے ۔ یہ تینوں اصل سماجی و سیاسی مسائل پر انتخابی تحریک چلانے سے کنی کترانے کی لازمی کوشش کریں گی کیونکہ ، حال ہی میں حکومت کی جانب سے قومی اقتصادیات کو بحال کرنے کے لیے ، ڈینش پیپلز پارٹی کے سیاسی اشتراک و تعاون سے منظور کیا گیا ، اقتصادی پیکیج ، ان تینوں پارٹیوں کی عوامی مقبولیت کے لیے اب تک خطرہ بنا ہوا ہے ۔ رائے عامہ کے حالیہ سبھی سروے متذکرہ تینوں پارٹیوں کے رائے دھندگان میں مسلسل کمی ہوتی ظاہر کر رہے ہیں اور خاص کر وینسٹرا و کنزرویٹوو کے کئی پکے حامی تو ان پارٹیوں سے سیاسی کنارہ اختیارکشی کر رہے ہیں ۔
دوسری جانب، کچھ تھوڑے بہت تحفظات کے ساتھ ، حزب اختلاف، سوسم گرما کی دھوپ کا لطف لے رہی ہے اور اس کے رائے دھندگان کی شرح میں دن بدن بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ قتصادی بحالی کے لیے، حز ب اختلاف کو ساتھ لیے بغیر حکومت کے منظور کردہ پیکیج نے ، رائےے دھندگان کی بڑی اکثریت کو، بائیں بازو کی سوشلسٹ پیپلز پارٹی ( ایس ایف ) کے چیئرمین ولی سوینڈال اور سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کی چیئرپرسن، ھیلے تھورنگ شمتھ کی گود میں ڈال دیا ہے ۔
حکومت ابھی تک امید لگائے بیٹھی ہے کہ اس کی جانب سے کی گئیں مالی سختیاں اور سرکاری وسماجی بہبود کے علاوہ تعلیمی حلقوں میں کی گئیں بچتیں اور کٹوتیاں، اگلے انتخابات کے موقع تک اپنا رنگ دکھائیں گی اور اس کے خلاف پائے جانے والے عوامی غیض و غضب میں خاصی کمی آجائے گی ۔ مثلاً حکومت کو توقع ہے کہ بیروزگاری کی شرح جو اب تک ( ایک طرح ) سے پہلے کے مقابلے میں کم ہے اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہو گا ۔ جو اس کے لیے ایک مثبت بات ہو گی ۔
اب وقت بہت کم ، کڑا اور سخت ہے ۔ ہر دو اطراف اپنی انتخابی مہم کی تیاری میں مصروف دکھائی دیتی ہیں ۔ حکومتی پارٹیوں کے پاس سابقہ انتخابات کے دوران ، تارکین وطن اور خاص کر مسلمانوں کے خلاف استعمال کیے گئے، تعصب و منافرت کے بارود سے بھرپور کارتوسوں کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے ہر چند کہ وہ ڈینش اقدار و رسومات کے تحفظ کے لیے ، ہالینڈ کی فریڈم پارٹی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی اسلحے کی نئی گھیپ حاصل بھی کر سکتی ہے کیونکہ اس میں اس کا سیاسی دفاع مضمر ہے ۔ لیکن سیاسی پنڈتوں کے نزدیک اس غبارے سے ہوا نکلنے میں دیر نہیں لگے گی اور بہت کم رائے دھندگان حکومت کی اس نئی راگنی کو سنیں گے اور اس کی ڈگڈگی پر کان دھریں گے ۔
وینسٹرا و کنزرویٹوو اور ڈینش پیپلز پارٹی انتخابات کے دوران جہاں ڈینش اقدار کے تحفظ و فروغ کو انتخابی تحریک کی بنیاد بنانےوالی ہیں وہاں اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ انتخابی تحریک سے پہلے اور اس کےدوران ڈینش سیاستدانوں کو ، بیشک وہ دائیں بازو کے ہوں یا بائیں بازو کے ، انہیں یہ موقع نہ ملے کہ وہ کسی بھی بات کو جواز بنا کر تارکین وطن اور خاص کر مسلمانوں کی تہذیب و تمدن ، اُن کی دینی و سماجی اقدار و رسومات اور طزر بود و باش پر تنقید کرنے لگیں ۔ اس سلسلے میں نوجوان مسلمانوں کو جہاں نظم و ضبط سے کام لینا ہو گا وہاں پہلی نسل کے مسلمان تارکین وطن کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھیں اور حسب حال ان کی مشاورت کریں ۔ ابھی پچھلے دنوں دیکھا گیا ہے کہ کچھ مسلمان نوجوانوں نے ایک ڈینش پاپ سنگر ،، مدینا ،، پر اس کے ایک کنسرٹ کے دوران، ٹماٹر پھینکے اور اس کے خلاف نعرہ بازی کی کیونکہ ان مسلمان نوجوانوں کے بقول، اسے اپنا نام بدل دینا چاہیے کیونکہ یہ مسلمانوں کے مقدس شہر کا نام ہے اور نبی اسلام ( ﷺ ) یہاں مدفون ہیں ۔ اس واقعے پر سیاسی لیڈروں نے مسلمان نوجوانوں کے خلاف براہ راست اور دین اسلام کے بارے میں خوب تنقیدی کیچڑ اچھالا اور مسلمانوں کو برا بھلا کہا ۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک ٹھنڈا نہیں پڑا ۔
دائیں بازو کے سیاستدان ، یہاں تک کہ نائب وزیر اعظم کنزرویٹوو پارٹی کی لین ایسپرسن مسلمانوں کے خلاف اس تنقیدی آگ کو ابھی تک ہوا دے رہی ہیں ۔ یہی نہیں دوسری طرف حکمراں وینسٹرا پارٹی سے تعلق رکھنے والے، یورپی پارلیمنٹ کے رکن ینس روھڈے نے وہاں سے تازہ ہانک لگائی ہے کہ ، ڈنمارک میں مسلمان عورتوں کا برقعہ و حجاب ایک بڑا مسئلہ ہے اور یہ ایک عوامی بحث مباحثہ کرائے جانے کا متقاضی ہے اور اس کے لیے وقت آنے ہی والا ہے ۔ اُن کا کہنا ہے کہ سوال یہ نہیں کہ ڈنمارک میں کتنی عورتیں برقعہ یا حجاب اوڑھتی ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان عورتوں کو ایسی رسومات و اقدار سے پا بہ زنجیر رکھاجاتا ہے جو ڈینش سماج کا حصہ ہیں اور نہ کبھی ہو سکتی ہیں ۔
ہم یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اقتدار میں اتنے طویل عرصے سے چلے آنے اور ایمیگریشن قوانین میں آئے دن سختیوں پر سختیاں کر تے رہنے اور رفاع و بہبود کے حلقوں میں مراعات کو کم سے کم تر کر دینے کی وجوہات کی تمام تر ذمہ داری بھی غیر ملکیوں ہی پر ڈالی جاتی ہے اور حکومت کی یہ منافقانہ روش انتخابی مہم کے دوران بھی جاری رہ سکتی ہے ۔
اس ممکنہ صورت حال کے پیش نظر ضروری ہے کہ مسلمان حلقے بھی سیاسی پارٹیوں کی انتخابی تحریک کے لیے خود کو تیار کریں ۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے اپنے حلقے کے ممکنہ انتخابی امیدواروں سے انفرادی طور پر یا پھر اپنی اپنی تنظیموں، اداروں یا مراکز کی طرف سے اجتماعی ملاقاتیں کریں اور اُن پر اپنےشک و شبہات اور امیدوں کا برملا اظہار کریں ۔ صرف یہی نہیں ایسے متعلقہ پارلیمانی امیدواروں کو اسلامی مراکز میں مدعو کیاجانا چاہیے تاکہ وہ خود مشاہدہ کر سکیں کہ یہ اسلامی ادارے، مراکز اور تنظیمات سماج میں کس طرح ہاتھ بٹا رہی ہیں اور مسلمانوں کے لیے ان کا ہونا کتنا اہم ہے ۔
ہم سبھی تارکین وطن سے اور بالخصوص پاکستانی النسل رائے دھندگان سے سفارش کریں گے کہ وہ اپنے اپنے محلے، شہر اور علاقے کی سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیوں میں حصہ لیں، ان کے رکن بنیں اور ان کے چھوٹے بڑے اجتماعات میں حصہ لے کر انہیں اپنی موجودگی اور یوں سیاسی طور پر متحرک ہونے کا احساس دلائیں ۔ ممکن ہے اس طرح مسائل کا کوئی حل نکل آئے ۔