Thursday, 09.09.2010, 06:18am (GMT+1)
  مرکزی صفحہ
  سوالات
  آر ایس ایس
  روابط
  سائیٹ کا نقشہ
  رابطہ
 
[Advance Search] ::| Keyword:      
پاکستان سے دو ڈینش خاتون صحافیوں کی ملک بدری، وزیر خارجہ کا اظہار تعجب و افسوس ; دارالحکومت کوپن ہیگن میں مسجد کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری ; پارلیمانی سپیکر رمضان کے عشائیے میں مداخلت نہیں کریں گے ; ڈینش وزیر اعظم اختتام رمضان کے ظہرانے میں شامل نہیں ہونگے ; ڈنمارک پاکستان کے لیے تین ایمرجنسی ہسپتال بھیج رہا ہے
 
All News  
  خبریں (News)
  کالم (Columns)
  مھمان کالم (Guest)
  اداریہ (Editorial)
  متفرقات (Misc:)
  مضامین (Articles)
  ::| Newsletter
Your Name:
Your Email:
 
 
 
مضامین (Articles)
 
بطیحا : کرپشن کا گرداب
Monday, 01.11.2010, 12:18am (GMT+1)

مسعود مُنّور ۔ اوسلو ۔ ناروے ۔
اس تحریر کا مخاطب میں خود ہو ں کیونکہ:
قدر اُلو کی اُلو جانتا ہے
ہما کو ،کب چغد پہچانتا ہے

پاکستان میں ہر شخص کے گلے میں کرپشن کا طوق ہے۔ بات ایسی ہے جس پر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے کہ ہر شخص دوسرے کے  گلے کا طوق تو دیکھ پاتا ہے مگر اپنی آنکھیں نشیبی منطقوں  کی جانب موڑ کر اپنے  گلے میں جھولتاطوق نہیں دیکھ پاتا ۔ لوگ اپنے اپنے عذاب خود کماتے ہیں ۔ انہیں ان مشکلات کا احساس بھی ہے۔ وہ ان مصائب سے جان بھی چھڑانا چاہتے ہیں ، وہ طوق اُتار کر پھینک دینا چاہتے ہیں مگر اپنی گردن کا نہیں ، بلکہ صرف دوسروں کا۔
جس معاشرے میں کرپشن شخصیت کا اٹوٹ انگ بن چکی ہو تو وہ فرد کا ذاتی، نجی اور کانفی ڈینشل معاملہ قرار پاتی ہے۔ اور اخلاقی اعتبار سے کسی کے پرائیویٹ معاملے میں دخل دینا بد تہذیبی ہے ۔
یہ کیفیت  ایک گرداب ہے ۔ سماجی برائیوں کا بھنور ہے۔ نحوست ، بدبختی اور تیرہ نصیبی کا شجر ہے ۔ اور قضا سے پاکستانی قوم اس گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔اس شجر پر لٹکی ہوئی ہے ۔ اور گذشتہ باسٹھ برسوں کی شدید جدوجہد اور خواہش کے باوجود مصیبت کے اس جال کو توڑ نہیں سکی۔
یہ گرداب ہمارے اپنے  منفی اعمال کا شاخسانہ ہے۔ یہ ایک ظلم ہے جو ہم نے من حیث القوم خود سے روا رکھا ہو اے۔اور ظلم کی علمی تعریف یہ ہے کہ اشیاء کو اپنی اصل اور موزوں جگہ سے ہٹا کر غلط جگہ رکھ دیا جائے۔ یہ وہ ظلم  ہے جو پاکستان میں ہر فرد ، ادارہ اور معاشرہ خود سے روا رکھے ہے۔
چنانچہ جس ملک ، معاشرت اور حکومت کی باگ ڈور کرپٹ حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو ، اُس ملک کے عوام بھی انہی کے پائوں پہن کر چلتے ہیں۔ کوئی کرپٹ معاشرہ کبھی بھی اسلامی نہیں ہوا کرتا کیونکہ امانت اور صداقت اور شہادت کے ثلاثہ عناصر کے بغیر  اسلامی معاشرہ یعنی متقی معاشرہ قائم نہیں ہو پاتا ۔
مولانا مصلح الدین سعدی شیرازی کا قول ہے :
الناس علیٰ دینِ ملوکہم ۔ کہ لوگ اپنے حاکم یا بادشاہ کے دین پر ہوتے ہیں ۔اس لیے جس قماش اور برانڈ کے حاکم ہوں ، اسی درجے کی عوام بھی ہوا کرتی ہے۔ یہ ایک اٹل قانون ہے۔ اعمالکم عمالکم ۔ لوگوں پر ویسے ہی حاکم مسلط کیے جاتے ہیں ، جیسے کہ وہ خود ہوتے ہیں۔
پاکستان میں کرپشن ایک قومی ادارہ ہے جو پاک و ہند کے بد نصیبوں کو گورے آقائوں کے خدام سے ورثے میں ملا تھا ۔ اس وراثت کی نگران اور امین نوکر شاہی  ہے جس نے ملک میں کرپشن کے قانون کو رواں دواں رکھا ہوا ہے ۔ اور وہ اس آئین کی اتنی حفاظت کرتی ہے کہ کوئی دوسرا آئین نافذ ہونے ہی نہیں دیتی۔
اس ملک میں کرپشن عدلیہ، فوج اور نوکر شاہی  کی  سازش سے نافذ ہوئی اور علما کی دعائوں سے پھلی پھولی ۔
کرپشن کا تشدد اور دہشت گردی سے خون کا رشتہ  ہے۔ کرپشن اپنی ماہیت کے اعتبار سے اقتصادی اور مالی تشدد ہوا  کرتی ہے ۔اس تشدد کی ماں مارشل لاء ، اور دائی عدلیہ ہے جن کی نگرانی میں اس کا جنم ہوا ۔ یہ سیاسی جماعتوں کے کارپرادازوں کے قرضوں کی معافی کی بھینسوں کا دودھ پی کر پلی ہے اور دانشوروں اور میڈیا اینکروں کے جھنجھنے کی آوازوں اور لوریوں کے سرگموں میں جوان ہوئی ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں تشدد اور دہشت گردی کی جو صورت نظر آتی ہے وہ پے در پے  مارشل لائوں کا تسلسل ہے ۔ مارشل لاء کے زقوم کا زہر ۔ مارشل لاء اصل میں سول کلچر کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے اطلاق کی پوشیدہ واردات ہوتی ہے
کسی ملک کی فوج کا اپنے ملک کو بار بار فتح کرنا ایک اعتبار سے سول وار  کا کنایہ ہے ۔ اس خانہ جنگی میں حملہ آور اور تحفظ کرنے والے دونوں ایک ہی قوم کے متحارب ادارے ہوتے ہیں ۔مارشل لاء کا نفاذ ایک طرح سے خانہ جنگی کا دیباچہ  ہوتا ہے ۔ آج وہ خانہ جنگی پل کر جوان ہوچکی ہے اور پا برہنہ گلی کوچوں میں نکل آئی ہے ۔
آج کا پاکستان خانہ جنگی کی خونچکاں تصویر بنا ہوا ہے ۔ یہ خانہ جنگی اگر چہ ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے مگر اس کی مرکزی کمان ایک ہے ۔ ٹارگٹ کلینگ یعنی ہدف بنا کر قتل کرنے سے لے کر خود کُش حملوں تک اس جنگ کے مختلف روپ ہیں ۔ اور پاکستانی قوم اس جنگ کے شکنجے میں قید ہے ۔

قائد اعظم ! دیکھ رہے ہو اپنا پاکستان

اس جنگ میں سب سے خطرناک رول اس متوازی اسلام کا ہے ، جسے قرآنی اسلام کی  جگہ رائج کر کے لوگوں کے ذہنوں میں بارود کی طرح بھر دیا گیا ہے ۔یہ اسلام اُس لالچی ٹولے کی ایجاد ہے جس کا خُدا ڈالر ہے۔ پروردگار ڈالر کے پجاری پاکستان کی نئی نسل کو جنت ، حوروں اور  کوثر و تسنیم کا لالچ دے کر خود کُشی کی صراط پر گامزن کر  رہے ہیں  اور  بد نصیب قوم کو اس گرداب سے نکلنے کا کوئی راستا نظر نہیں آ رہا ۔
 خُدا جانے ، پردہ ء غیب سے کیا ظاہر ہونے والا ہے۔

اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ©

Comments (0)        Print        Tell friend        Top


Other Articles:
ناروے کے انتہائی شمال میں آباد سامی قبائل میں بیاہ شادی کی رسومات ۔ (09.27.2009)
سویڈن : مفت اخبارات کا سیلاب (09.25.2009)
فرانس سے ناروے تک مسلمان تارکین وطن (09.25.2009)
ڈنمارک : اخبارات کا سیلاب‘ اطلاعات کا فقدان‘ مفروضوں کی بہتات ۔ (09.23.2009)
ڈنمارک ، کوپن ھیگن سے شائع ہونیوالے اردو جرائد (09.23.2009)
نیلاہٹ میں سفر ۔ اردو میں ترجمہ کیا گیا پہلا ڈینش ناول ۔ (09.23.2009)
کینیڈا میں اردو روشنی کے مینار: منیف اشعر ملیح آبادی (09.23.2009)
سویڈن میں ارد و، ایک مختصر جائزہ ۔ (09.23.2009)
کثیر المذہبی روایت کا نارویجین شاعر ورگیلاند (09.23.2009)
طارق محمود مرزا کی کتاب' خوشبو کا سفر' کی تقریب رونمائی (09.23.2009)



 
  ::| Events
September 2010  
Su Mo Tu We Th Fr Sa
      1 2 3 4
5 6 7 8 9 10 11
12 13 14 15 16 17 18
19 20 21 22 23 24 25
26 27 28 29 30    
 

 Huma Nasar  : Editor
[Top Page]