نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
آپ سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہالم میں ہوں یا اس کے مضافاتی شہروں میں آپ کو روزانہ اخبار خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ آپ کے پڑھنے کے لیے آپ کو مفت میں کئی اخبار یومیہ مل سکتے ہیں ۔
سیکنڈینیویا کا سب سے پہلامفت تقسیم ہونے والا، روزنامہ میٹرو سن ۱۹۹۵ میں یہیں سٹاک ہام سے شایع ہو نا شروع ہوا تھا اور اس کے بعد ناروے کے دارلحکومت اوسلو اور ڈنمارک کی راجدھانی کوپن ہیگن سے اس نے اپنی اشاعت کا آغاز کردیا جس کے بعد ان تینوں ملکوں میں مفت تقسیم ہونے والا یہ سب سے بڑا روزنامہ ہے ۔
آج بارہ سال بعد سویڈن میں صبح کے ایسے پانچ اخبار یومیہ شائع ہوتے اور مفت تقسیم کئے جانے ہیں اور ان پانچوں مفت اخبارات کے بارہ بارہ ایڈیشن ہیں ۔ جن کی تعداد ایک ملین سےاوپر اور ان کے قارئین کی تعداد بھی اتنی ہی ہوتی ہے ۔
ان پانچوں مفت تقسیم ہونے والے اخبارات پر سویڈن عوام اتنا ہی اعتماد و یقین رکھتے ہیں جتنا کہ کسی قیمتا فروخت ہونے والے روزنامہ پر کیا جاتا ہے ۔
مفت تقسیم ہونے والے روزنامہ میٹرو کو سن 1995 میں اپنے آغاز کے ابتدائی سال جہاں سات ملین ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑا وہاں اس سال اسے تیرہ ملین ڈالر کا منافع ہوا ہے ۔
روزنامہ میٹرو کی طرح دو اور مفت تقسیم ہونے والے یومیہ اخبار سٹاک ہالم سٹی اور پونکٹ سی دونوں بڑے کامیاب جا رہے ہیں اور ان کی بالترتیب تعداد اشاعتتین لاکھ تراسی ہزار اور دو لاکھ ترانوے ہزار یومیہ ہے ۔
ان مفت تقسیم ہونے والے اخبارات کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر آپ صبح سویرے سٹاک ہالم کے مرکزی اسٹیشن پر کھڑے ہوں تو آپ کو ہر دوسرا فرد مفت تقسیم ہونے والے پانچ اخبارات میں سے کوئی نہ کوئی ایک اخبار پڑھتا ہوا دکھائی دے گا یا اس نے تھام رکھا ہو گا ۔ یہی حال مرکز میں چلنے والی بسوں اور زیر امیں ریل گاڑیوں کے مسافروں کا ہے ۔
ناروے ‘ جاپان ‘ اور فن لینڈ کے بعد نو ملین نفوس کی آبادی والے ملک سویڈن میں ہر دس میں سے نو افراد ہر روز اپنا اخبار پڑھتے ہیں ۔ لوگوں میں صبح کا خبار پڑھنے کی ایک روایت اور عادت ہے جو کئی نسلوں سے چلی آرہی ہے ۔ اور ان کی پسند کا اخبار‘ جس کے وہ خریدار ہوتے ہیں ان کے گھروں پر الصبح چھ بجے تک لازمی پہنچ جاتا ہے ۔ اس طرح روزانہ اخبار خرید کر پڑھنے والے ان اخبارات میں سے بھی کسی ایک کا ہر زور ضرور مطالعہ کرتے ہیں جو مفت تقسیم ہوتے ہیں ۔
قیمتا فروخت ہونے والے روایتی سویڈش اخبارات کے مقابلے میں ‘ مفت تقسیم ہونے والے اخبارات کے قارئین میں عورتوں اور نوجوان لڑکے لڑکیوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے اور اس کی شائد یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اپنے نجی بجٹ کا زیادہ دھیان رکھتے ہیں ۔

ایک سویڈن میڈیا محقق کا کہنا ہے کہ ملک میں مفت تقسیم ہونے والے اور قیمتا فروخت ہونے والے اخبارات میں قارئیں کو خبروں کی ترسیل میں سخت مقابلہ بازی کا سامنا ہے اور فی الحال دونوں قسم کے اخبارات قارئین کو مطمئن رکھنے اور اپنی اپنی تعداد اشاعت قائم رکھنے اور اسے بڑھانے کی فکر میں سرتوڑ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اور ان اخبارات کی اس مقابلہ بازی کا فائدہ قارئیں ہی کو مل رہا ہے اور انہیں ملک سیاسی ‘ اقتصادی ‘ سماجی اور عالمی صورت حال کے بارے میں ایک سے ایک بڑھ کر مصدقہ اور تازہ ترین معلومات مہیا ہو جاتی ہیں ۔ مفت تقسیم ہونے والے روزنامہ میٹرو کے بعد اب پنکٹ سی روزنامہ نو جوانوں میں کافی مقبولیت حاصل کر رہا ہے ۔ یہ اخبار ملک کے ایک بڑے اور قیمتا فروخت ہوتے والے روزنامہ آفتن بلڈٹ کی ملکیت ہے ۔
قارئین آپ شاید سوچ رہے ہوں کہ ملین کے حساب سے شائع ہونے اور بروقت تقسیم ہونے والے ان سویڈن اخبارات کی طباعت و اشاعت اور ترسیل و تقسیم کے اخراجات کیسے پورے کئے جاتے ہونگے تو اس کے لیے بس اتنا ہی عرض ہے کہ بڑی بڑی صنعتوں ‘ بنکوں ‘ سپر مارکیٹوں ‘ اور دیگر وسامی و سرکاری بلدیاتی اداروں کے اشتہارات سے نہ صرف ان اخبارات کی طباعت و اشاعتی اخراجات پورے کئے جاتے ہیں بلکہ ان کے سینکڑوں کارکنوں کی تنخوایہں بھی ادا کی جاتی ہیں ۔ تو کہیے ہوئی نا بات ۔