وی آئی پی کلچر سے جان چھڑانا مشکل ہے
طارق محمود مرزا ،سڈنی
کئی برس قبل پاکستان میں خالد معراج مرحوم عبوری وزیراعظم تھے۔ مرحوم پاکستان کے روایتی سیاستدانوں کے برعکس سادہ مزاج کے عوامی سیاست دان تھے۔ وزیراعظم بن کر بھی ان کا چلن وہی رہا ۔وزیراعظم بنتے ہی انہوں نے حکم دے دیا کہ جب میں باہر نکلوں تو میرے لئے عام ٹریفک روک کر راستہ صاف کرنے کا اہتمام نہ کیا جائے۔ میں بھی عوام کا حصہ ہوں اور اسی ٹریفک سے گزر کر جائوں گا جس سے عام لوگ گزرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے آگے پیچھے چلنے والی چالیس پچاس گاڑیوں کی سیکورٹی اور پروٹوکول کا سلسلہ بھی ختم کر دیا۔
ایک دن جب وہ راولپنڈی کی مری روڈ پر جارہے تھے تو ان کے راستے میں ٹریفک بلاک تھی۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ پنجاب کے گورنر طارق رحیم کے گزرنے کے لئے عام ٹریفک بلاک کر دی گئی ہے۔ خالد معراج نے طارق رحیم کو فون ملایا اور کہا '' طارق رحیم کچھ شرم کرو!کیا تمہیں علم ہے کہ تمہاری وجہ سے جو ٹریفک بلاک ہے اس میں میں بھی پھنسا ہوا ہوں'' طارق رحیم نے قہقہ لگایا اور فون بند کر دیا۔
پاکستان میں جس طرح کا وی آئی پی کلچر ہے اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی ۔ تقریبات میں تو ساری توجہ وی آئی پی پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ لوگ وی آئی پی کے ساتھ فوٹو بنوا کر اتنا خوش ہوتے ہیں جیسے انہیں جنت کا پروانہ مل گیا ہو۔ایک وی آئی پی کے لئے سیکڑوں لوگوں پر مشتمل تقریب کئی گھنٹوں کی تاخیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ لوگ وزیروں اور سیاست دانوں کے ساتھ فوٹو بنوانے کے لئے جنازے تک روک کر رکھتے ہیں۔دوسری جانب وی آئی حضرات پابندیِ وقت کو کسرِ شان سمجھتے ہیں۔پندرہ بیس لوگ ان کے ساتھ نہ ہوں تو گھر سے نہیں نکلتے۔
پاکستان نیوی ڈاکیارڈکی مسجد میں ایک دفعہ عصر کی نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا ۔ نماز کا وقت ہوگیا ،کئی سو نمازی نماز ختم کرکے اپنے اپنے کاموں پر جانے کے لئے بے تاب بیٹھے تھے۔ امام مسجد جو نیوی کے ہی ملازم تھے، بار بار گھڑی دیکھ رہے تھے۔ لیکن وقت ہو جانے کے باوجود جماعت کھڑی ہونے کا اشارہ نہیں دے رہے تھے۔ بالاآخر کمانڈر ڈاکیارڈ مسجد میں داخل ہوئے ۔ انہیں دیکھتے ہی امام نے جماعت کھڑی ہونے کا سگنل دے دیا۔
١٩٩٢ء میں اسلام آباد میں ملازمت کرتا تھا اور میری رہائش راولپنڈی میں تھی۔ ایک دن میں کام پر تھا کہ گھر سے فون آگیا۔گھر میں کچھ ہنگامی صورت حال تھی۔ میں نے موٹر سائیکل نکالی اورفوراََگھر کے لئے روانہ ہوگیا ۔ فیض آباد کے نزدیک ٹریفک بلاک تھی۔ معلوم ہوا کہ حاکمِ وقت محترم نوازشریف صاحب تشریف لانے والے ہیں۔ ان کے اعزاز میں پورے علاقے کی ٹریفک روک دی گئی ہے۔ دن کے بارہ بجے کا وقت تھا اور لوگ کام کاج کے لئے ادھر ادھر آ جارہے تھے، ہر کسی کو جلدی تھی۔ پولیس افسر ٹریفک روک کر خود ایک طرف کھڑے گپ شپ میں مصروف تھے ۔ مجھے گھر کی فکر لگی تھی۔ میں نے واپسی کا قصد کیا تاکہ کسی اور راستے سے گھر جا سکوں، لیکن واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں ملا۔ دور تک پھنسی ٹریفک میں سے موٹر سائیکل آہستہ آہستہ نکالتا ہوا میں آگے لے گیا۔ موٹر سائیکل روک کر میں ایک پولیس آفیسر کے پاس گیا اور اسے اپنی مجبوری بتا کر وہا ںسے جانے کی اجازت چاہی، لیکن مجال ہو کہ ان صاحب کے کانوں پر جوں تک رینگی ہو ۔کہنے لگے ''میں کچھ نہیں کر سکتا، جب تک وزیراعظم گزر نہیں جاتے ہم کسی کو یہاں سے گزرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ''
میں نے کچھ عرض کرنے کی کوشش کی تو فرمانے لگے ''میں نے کہہ دیا نا! کہ میں کچھ نہیں کر سکتا،ہمیںاپنی نوکری عزیز ہے''
''چاہے کسی کی جان چلی جائے'' میں نے برہم ہو کر کہا
''جاتی ہے تو جائے '' یہ کہ کر وہ بے نیازی سے ایک طرف چل دئیے۔
یہ الفاظ تھے اس وزیرِ اعظم کی سیکورٹی کے جو اپنے آپ کو عوامی وزیرِ اعظم کہتا تھا۔
پورے پینتالیس منٹ کے بعد وزیراعظم کا قافلہ وہاں سے گزر نا شروع ہوا ،جو پندرہ منٹ تک گزرتا رہا ۔ اس طرح ایک گھنٹے تک میں اور سینکڑوں دوسرے لوگ دھوپ اور گرمی میں وہاں پھنسے رہے اور عوام کے منتخب کردہ عوامی وزیراعظم وہاں سے ایسے گزرے جیسے وہ آسمانی مخلوق ہوں۔ اگر ان کے راستے میں معمولی سی رکاوٹ آ جاتی تو قیامت آ تی۔ جبکہ سڑکوں اور گلیوں میں موجود عام لوگ محض کیڑے مکوڑے ہوں، ان کے لئے وقت کی کوئی اہمیت نہیں۔اسلام آباد اور راولپنڈی میں ایسے مناظر عام دکھائی دیتے ہیں۔ اب تو ان وزیروں کے پاس دہشت گردی کا بہانہ بھی ہے لہذا وہ عوام کو گھنٹوں سڑکوں پر کھڑا رکھتے ہیں۔ دوسری طرف سڑکوں اور تقریبات میں لوگ بھی ان سیاست دانوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے ایسے بے تاب نظر آتے ہیں جیسے ثواب کا کام ہو۔ گویا پورا معاشرہ ہی وی آئی پی کلچر کے دائرے میں رنگا ہواہے۔
میں لکھنے یہ بیٹھا تھا کہ پاکستان میں جو وی آئی پی کلچر ہے اس کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ آسٹریلیا اور یورپ جیسے جمہوری ممالک میں آکر بھی ہم پاکستانیوں کے ذہن و دل میں وہی کلچر رچا بسا ہے۔ ہم یہاں آ کر بھی اس کلچر سے جان نہیں چھڑا پائے۔ پاکستان میں اس کلچر کی ایک آدھ جھلک دکھانی مقصود تھی لیکن کئی مثالیں ذہن میں در آئی ہیں۔ اگر سب لکھنا شروع کر دیں تو صفحے کے صفحے سیاہ ہو جائیں گے لیکن یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا ،اس لئے پاکستان سے آسٹریلیا آتے ہوئے ،یہاں ہم سب وی آئی پی کے گرد جس طرح پھیرے لگاتے ہیں، اس پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔
main stream آسٹریلین لوگوں میں وی آئی پی کلچر بالکل نہیں ہے۔ عام لوگ سیاست دانوں اور سرکاری افسروں کی بالکل پرواہ نہیں کرتے، تاہم کھلاڑیوں، گلوکاروں اور مشہور فنکاروں کی بہت قدر کرتے ہیں۔ یہاں سڈنی کے جس علاقے میں، میں رہتا ہوں ،یہاں کا فیڈرل پارلیمنٹ ممبر لیری فرگوسن میرا جاننے والا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تقریبا روزانہ سٹی سے ایک ہی ٹرین سے گرین ول (Granville)آتے ہیں ۔گرین ول ہی وہ علاقہ ہے جہاں سے لیری پچھلے بیس سال سے مسلسل انتخابات جیتتا آرہا ہے لیکن پھر بھی بہت کم لوگ لیری کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ پارٹی کوووٹ دیتے ہیں کسی ایک شخص کو نہیں ۔ گرین ول سٹیشن اور اس کے راستے میں درجنوں لوگ لیری کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی شخص کو لیری سے ہائے ہیلو کرتے بھی نہیں دیکھا۔ لیری ملگجا سا سوٹ پہنے سٹیشن سے نکلتا ہے، سامنے والے ہوٹل کے بار پر جا کر کھڑا ہوتا ہے، وہاں مستقلبیٹھنے والے لوگوں سے پندرہ بیس منٹ گپ شپ لگاتا ہے، ایک آدھ بیئر پیتا ہے اور قریب ہی واقع اپنے گھر چلا جاتا ہے۔ اس کے گھر پر بھی نہ تو عام لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے اور نہ ہی کسی قسم کی سیکورٹی نظر آتی ہے۔ حالانکہ لیری فیڈرل ایم پی کے علاوہ ملٹی کلچرل افیئر کمیٹی کا سربراہ بھی ہے۔
چند ہفتے قبل جب ہم گرین ول سٹیشن پر اُترے تو اوپر جانے کے لئے میں سیڑھیوں کی بجائے لفٹ میں سوار ہو گیا۔ میرے علاوہ بہت سے دوسرے لوگ بھی لفٹ میں گھسے تو وزنی ہونے کی وجہ سے لفٹ نے ہلنے سے انکار کر دیا۔ ایک عورت نے تقریباََ چلاتے ہوئے کہا'' ایم پی! تم بہت وزنی ہو، لفٹ سے باہر نکلو ۔'' لیری خاموشی سے لفٹ سے نکلا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
اسی طرح ہم نے بار ہا دیکھا کہ آسٹریلیا کا وزیراعظم، نیوسائوتھ ویلز کا پریمیئر اور دوسرے وزیر عام بسوں ٹرینوں اور ٹیکسیوں میں سفر کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے لئے ٹریفک بلاک کرنا تو درکنار انہیں لوگ لفٹ تک نہیں کراتے اور یہ لوگ قطاروں میں کھڑے ہو کر اپنا کام کراتے ہیں۔انہیں اس کام میں کوئی عار بھی نہیں ہے۔اسی لئے وزارت اور سرکاری عہدے یہاں اتنے پرکشش نہیں ہیں۔ لوگ دورانِ وزارت استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ جاتے ہیں۔
یہ تو تھا مقامی آسٹریلین کا وی آئی پی کے بارے م میں عمومی رویہ !اب اسی آسٹریلیا میںہم پاکستانی کس طرح رہتے ہیں اس کی چند جھلکیاں بھی آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔ چند ماہ قبل ہفتے کی ایک شام مجھے اور میری اہلیہ کو تقریباََ ایک ہی وقت میں منعقد ہونے والی دو تقریبات میں شمولیت کی دعوت موصول ہوئی ۔ پہلی تقریب یومِ پاکستان کے سلسلے میں تھی جس میں میں بحیثیت مقرر مدعو تھا۔ اس تقریب کا اہتمام سڈنی کے ایک سرگرم سماجی کارکن نے کیا تھا،جو اتفاق سے میرے دوست بھی ہیں۔ میں ان کو منع کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ دوسری تقریب میرے ایک قریبی دوست کی بیٹی کی شادی کی تھی، جنہوںنے بہت ہفتے قبل ہمیں مدعو کر رکھا تھا اور ان سے ہم نے وعدہ بھی کر رکھا تھا۔ لہذا ہم نے دونوں تقریبات میں جانے کا ارادہ کر لیا ۔میرا خیال یہ تھا کہ پاکستان کے سلسلے میں ہونے والی تقریب میں چھ سے ساڑھے سات بجے تک رہیں گے اور اس کے بعد شادی میں چلے جائیں گے۔ اتفاق سے ان دونوں تقریبات میں پاکستان کی سفیر محترمہ فوزیہ نسرین بھی مدعو تھیں اور وہ بھی ہماری طرح دونوں پروگراموں میں شرکت کر رہی تھیں۔
جب ہم پہلے فنکشن میں پہنچے تو صدر دروازے کے باہر پارکنگ میں حبیب بینک کے سابق مینجر ظفر عالم اور ان کی اہلیہ سے ملاقات ہوگئی ان کے ساتھ ہی ہم ہال کی طرف بڑھے۔ دوسری طرف سے ہائی کمشنر فوزیہ نسرین بھی آگئیں اور ہم ا کٹھے ہوگئے۔ سفیر کو دیکھتے میزبانوں کا پورا ٹولہ ان کی طرف بڑھا۔ چھوٹے، بڑے، مرد اور عورتیں سب ان کے گرد اکھٹے ہوگئے۔ ہماری طرف کسی نے توجہ نہیں دی ۔ ظفر عالم کہنے لگے'' لگتا ہے ہم غلط جگہ آگئے ہیں''
میں نے کہا'' نہیں غلط وقت پر آئے ہیں''
ہم نے خود ہی ہال ڈھونڈا اور جو خالی سیٹ نظر آئی وہیں بیٹھ گئے۔ بعد میں میزبان ہمارے پاس آئے معذرت بھی کی اور خوش آمدید بھی کہا۔ ان کا قصور بھی نہیں تھا کیونکہ پاکستانی تقریبات کا چلن ہی کچھ ایسا ہو گیا ہے۔ دوسری طرف سرکاری افسروں اور سیاست دانوں کی عادتیں بھی ہم نے بگاڑی ہوئیں ہیں۔ وہ ہم پاکستانیوں سے تو پورا پروٹوکول مانگتے ہیں چاہے لیکن مارکیٹ میں جا کر آلو پیاز سے لدی ٹرالی ایسے دھکیل رہے ہوتے ہیں جیسے یہی کا م کرتے ہوں۔
یہ تقریب ابھی جاری تھی کہ ہم میزبان سے اجازت لے کر وہاں سے اٹھ آئے۔ آدھ گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد شادی ہال میں داخل ہوئے تو ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ بہت کم سیٹیں خالی تھیں۔ داخلی دروازے پر ہماری رہنمائی کے لئے کوئی فرد موجود نہیں تھا اور نہ ہی ہمیں علم تھا کہ ہر مہمان کے سیٹ مختص ہے۔ لہذا ہم اپنی مدد آپ کے تحت خالی سیٹ کی تلاش میں ادھر ادھر نظر دوڑانے لگے۔ اتفاق سے ہمارے سامنے والی میز پر دوسروں کے علاوہ پاکستان کی سفیر فوزیہ نسرین( جو ہم سے پہلے اٹھ کر آگئیں تھیں) اور ممبر پارلیمنٹ لیری فرگوسن موجود تھے۔ ان دونوں نے ہمیں ان کی میز پر موجود خالی کرسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہیں وہاں بیٹھنے کی دعوت دی لہذا ہم ان کے پاس جا بیٹھے۔
تھوڑی دیر بعد مقامی کونسل کی میئر ہال میں داخل ہوئیں۔ اس دفعہ پھر میزبانوں کا ٹولہ ان کے استقبال کے لئے آگے بڑھا۔ میئر کو لے کر وہ ہماری ہی میز پر آئے جو اتفاق سے وی آئی پی میز تھی اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا۔میزبان نے ہمیں یہ بتائے بغیر کہ ہماری میز کون سی ہے، میئر کے لئے کرسی خالی کرنے کی درخواست کر دی ۔ لہذا میں وہاں سے اٹھ آیا، کافی تلاش کے بعد ایک خالی سیٹ نظر آئی اور وہاں جا بیٹھا ۔ وی آئی پی کو خوش کرنے کے چکر میں سیاست کی چکا چوند سے تازہ تازہ آشنا ہونے والے ہمارے میزبان یہ بھی بھول گئے کہ ہمیں دعوتی کارڈ بھیج کر وہاں مدعو کیا گیا ہے اور ہم بھی ان کے مہمان ہیں۔
اسی طرح کچھ عرصہ پہلے ایک فنڈ ریزنگ ڈنر میں شرکت کا موقع ملا یہ فنڈ ریزنگ ایک اسلامک سنٹر کے قیام کے لئے ہو رہی تھی۔ جس میں پاکستان سے ایک وفاقی وزیر بھی شرکت کر رہے تھے۔ وزیر کی آمد سے پہلے ایک پاکستانی سرکاری افسر ہال میں آئے۔ مجھے دیکھا تو سیدھا میری میز کی طرف چلے آئے، جہاں پہلے ہی چند دوست میرے ساتھ بیٹھے تھے۔ سرکاری افسر کو وہاں بیٹھتا دیکھ کر ایک صاحب جو وی آئی پی کے ساتھ فوٹو بنوانے اور بنانے کے انتہائی شوقین ہیں ہماری طرف آئے اور سرکاری افسر کو فرنٹ لائن میز پر آنے کے لئے کہا تاکہ اس کے ساتھ بیٹھ کر'' روحانی تسکین'' حاصل کر سکیں۔ افسر نے انہیں ایک دفعہ ٹال دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ دوبارہ آئے اور ان کے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگے اس دفعہ پھر سرکاری افسر نے کہا آپ چلیں میں آجائوں گا۔ اب یہ صاحب اگلی میز پر اکیلے بیٹھے سرکاری افسر کے انتظار میں سوکھے جارہے تھے۔ ان صاحب کا خیال تھا کہ وفاقی وزیر آئے گا تو وہ بھی اسی فرنٹ میز پر بیٹھے گا۔ اس طرح ان کو فوٹو بنانے اور بنوانے اور وی آئی پی کے ساتھ بیٹھنے کی ان کی دیرینہ حسرت پوری ہوگی۔
لیکن ہوا یہ کہ وزیر جب ہال میں داخل ہوئے تو انہیں فرنٹ لائن میز کی بجائے سیدھا سٹیج پر بٹھایا گیا اور وہ سرکاری افسر بھی سیدھا سٹیج پر جابیٹھے۔ ادھر یہ صاحب ابھی تک اسی میز پر حسرت و یاس کی تصویر بنے بیٹھے تھے۔
وی آئی پی کے ساتھ تصاویر بنوانے کے شوقین حضرات کی حرکتیں بھی انتہائی دلچسپ ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں نے اس شوق کو پالنے کے لئے اپنے اخبار نکالے ہوئے ہیں وہ ہر خبر کا حصہ اس طرح بن جاتے ہیں کہ خود ان کی بلکہ ان کے اہل خانہ کی تصویر اس میں ضرور شامل ہوتی ہے چاہے ان کا اس خبر سے دور پار کا کوئی تعلق نہ ہو۔
میں جب اپنا اخبار نکالتا تھا تو فوٹو چھپوانے کے ایسے شوقین خواتین و حضرات سے اکثر واسطہ پڑتا رہتا تھا۔ ان میں سے بعض ایسی ایسی مضحکہ خیز حرکتیں کرتے تھے کہ خواہ مخواہ ہنسی آجاتی ہے۔ مثلا ایک صاحب جو ٦٥برس کے ہو کر ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں انہوں نے اپنے سکول کے دور کی ایک تصویر چھاپنے کے لئے بھجوائی جس میں وہ کھیلوں میں کوئی انعام حاصل کر رہے تھے۔
اسی طرح ایک دفعہ ایک تقریب میں ایک مقرر کا فوٹو نہیں بن سکا ،لہذا چھپنے سے رہ گیا ،حالانکہ خبر کے متن میں ان کی تقریر کا ذکر موجود تھا۔ لیکن وہ صاحب اتنا ناراض ہوئے کہ آج تک راضی نہیں ہو سکے۔ حالانکہ اس کے بعد دوسری کئی تقریبات کے ان کے فوٹو متواتر شائع ہوتے رہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلی والی تقریب میں فوٹو ایک وی آئی پی سیاستدان کے ساتھ بننا تھا ،جبکہ دوسری تقریبات میں ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔
نہ جانے لوگ ان وی آئی پی کے ساتھ فوٹو بنوا کر اتنا خوش کیوں ہوتے ہیں، حالانکہ سیاست دان اور حکومتیں آنی جانی چیز ہیں۔ اصل چیز ہمارا اپنا کردار اور ہمارا اپنا کام ہے۔ انہی سے انسان کی پہچان ہوتی ہے
اور انہی سے انسان زندہ جاوید رہتا ہے۔بقول حکیم الامت:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نوری ہے نہ ناری