اُمید ِ سحر ، اور میرا تا ثر
از: اسحاق ساجد،جرمنی
یوں تو شاعری میں زمانہ ماضی سے لیکر آج تک بے شمار لوگوں نے شاعری کی ہے لیکن جن حضرات کے نام دنیائے ادب میں آج تابندہ اور زندہ ہیں ان کی تعداد کچھ زیادہ نہیں شاعری اہلِ علم و ادب کی نظر میں سوئے ہوئے جذبوں کو بیدار کرنے اور انہیں پیکرِ خیالی عطا کرنے کا نام ہے۔ایک آزر اپنی حسین سنگ تراشی سے،ایک مصور اپنے رنگوں کے خوبصورت امتزاج سے اور ایک موسیقار اپنی دکش راگ راگنیوں اور سُروں سے پیکر تراشتا ہے اور یہی کمالِ فن اس کی تخلیق کردہ اصناف میں شاہکار کی صورت میں نظر آتا ہے اورپھر جس نے اپنی فکر سے کوئی خاص کارنامہ انجام دیا ہو اور اچھا ادب تخلیق کیا ہو اسی کو یاد رکھا جاتا ہے۔اور میرے نزدیک اس قسم کی شاعری سیّد اقبال حیدر کے مزاج کا خاصہ ہے۔ان کا لب و لہجہ جدید و قدیم کا حسین امتزاج ہے۔
سیّد اقبال حیدر کی شخصیت اور شاعری پر دنیائے ادب کے بلند پایہ شخصیتوں نے اظہارِ خیال کیا ہے میںاپنے آپ کو اس قابل
نہیں سمجھتا کہ ان کی شاعری کے بارے میں کوئی نئی بات کہہ سکوں ہاں البتہ انکی کتاب '' امیدِ سحر'' (شعری مجموعہ) پڑھ کر انکے من موہنےاشعار سے مستفیض ہو کر مجھے حقیقتاً سرور حاصل ہوا ہے انکے فکر انگیز کلام کا مجموعہ ''امیدِ سحر'' واقع اتنا دلکش ہے کہ اس کی قدر و منزلت ہماریٍ ادبی تاریخ میں سدا بہار رہے گی۔میں اکثر فرصت کے لمحات میں ان کے اشعار پڑھ کر لطف اندوز ہوتا ہوں اور محسوس کرتا ہوں جیسے ان کے سدا بہار اشعار میرے دل کی دھڑکن میں جذب ہو رہے ہیں۔
آپ کو رمزیت اور ایمانیت کے پردے میں بات کرنے کا سلیقہ آتاہے۔آپ اپنے شعروں میں سادہ زبان استعمال کرنےکا ڈھنگ بھی جانتے ہیں،آپ کے اشعار میں نرمی ہے، گھلاوٹ ہے، نغمگی ہے،آپ کی غزلیںغنائیہ بھی ہیں اور فکری بھی۔آپکی شاعری اس معنی میں سچی اور کھری ہے کہ آپ نے کسی کی تقلید کا اپنے آپکو پابند نہیں کیااور اس میں انفرادیت بھی محسوس ہوئے بغیر نہیں رہتی۔اقبال حیدر صاحب نے اپنی شاعری میں درد مندی اور گہرے دُکھ کی طرف اشارے بھی کئے ہیں،آپکی شاعری سب کو پسند آنےوالی شاعری ہے۔سبب یہی ہے کہ آپ ایک اچھے شاعر ہیں،سنجیدگی و شائیستگی،اعلیٰ ظرفی و کشادہ دلی آپ کے مزاج کا ایک خاص حصہ ہے۔
جناب اقبال حیدر اس دور کے اُن منفرد شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جن کے قلم میں توانائی اور اس عہد کی نزاکتیں پوشیدہ ہیں۔میں نے اقبال صاحب کی شاعری کا مطالعہ بہت گہرائی میں جا کر کیا ہے اور یہ تاثر اپنی جگہ قائم کیا ہے کہ ان کا ہر شعر ایک طاقتور ذریعہ ابلاغ ہے۔اس میں پرواز کی طاقت بھی ہے اور انسانی ذہن پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے کی قوت بھی اور یہ حقیقت ہے کہ جناب اقبال حیدر اپنے غزلوں میں مسائلِ حیات و کائینات نہائت خوبی سے بیان کرتے نظر آتے ہیں۔اچھی شاعری کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس میں احتجاج تو ہو مگر لب و لہجہ تلخ نہ ہو اور اقبال حیدر صاحب کی شاعری میں یہ مثال شامل ہے۔آپ ایک ذہین اور پڑھے لکھے شاعر ہیں،خدا وند تعالیٰ اقبال حیدر صاحب کو صحت اور طویل عمر عطا فرمائے ۔
جیسے کہ عام رواج ہے کی کسی کی شاعری پہ لکھتے ہوئے ان کےاشعار ضرور مضمون میں شامل کئے جاتے ہیں لیکن میں آخر میں اُن کے چند شعر اپنے بیان کی صداقت کے لئے پیش کرتا ہوں۔
کیا خوب کہتے ہیں.......
جہاں رُک جائے میرے دل کی دھڑکن وہیں پہ منزلِ عمر ِ رواں ہے
ان کو دیکھا تو یہ محسوس ہوا جیسے صدیوں کے بعد ان سے ملے
آج کی سب کرنیں ہیں تمھاری کل کا سورج اپنا ہوگا
ماضی کی تاریخ پہ مت جا اس میں اکثر جھوٹ رہا
عمر ِ دراز مل گئی یہ اور بات ہے لمحہ حیات کا تو کوئی معتبر نہیں
اسحاق ساجد
فرینکفرٹ،جرمنی