یہ مضمون ڈنمارک کے معروف و معتبر روزنامہ پولیٹیکن کے سابق مدیر اعلیٰ اور موجودہ اعلیٰ صحافی و تجزہ نگار، ہربرٹ پُنڈک نے لکھا ہے جس کا ترجمہ و تخلیص ، اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے ، کے قارئین کے لیے یہاں اس لیے پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ خود اندازہ لگا لیں کہ ڈینش میڈیا، افغانستان میں جنگ، اور اس کے پس منظر میں پاکستان و ہندوستان اور یوں خطے بھر کی سلامتی و تحفظ کے بارے میں کیا سوچ رکھتا اور اس کے حل کے لیے کیا مشورہ دیتا ہے ۔ ہمیں امید ہے ہمارے قارئین ہماری اس کاوش کو سراہیں گے ۔ ہم آپ کی رائے کو خوش ٓمدید کہتے ہیں ۔ ( ادارہ : اُردو ہمعصر ڈاٹ ڈی کے ) ۔
ترجمہ و تخلیص : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
پاکستان کسی بھی قیمت پر گوارا نہیں کرے گا کہ اس کا روایتی دشمن، ہندوستان، پڑوسی ملک افغانستان پر اپنا اثر و رسوخ جما ئے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان، طالبان کو مار بھگانے میں پیچھے ہے اور ان کی مکمل شکست نہیں چاہتا ۔
یہ بات ڈینش روزنامہ پولیٹیکن کے بڑے معتبر اور اعلیٰ صحافی و تجزیہ نگار، ہربرٹ پُنڈک جو اس اخبار کے مدیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں ، انھوں نے لکھی ہے ۔
انہوں نے لکھا ہے کہ “ پاکستان کی انٹیلیجنس سروسز طالبان کو اپنے لیے “ لائف انشورنس “ سمجھتی ہیں “ اور مزید کہ افغناستان میں جنگ ، افغانستان کے میدان جنگ میں ختم نہیں ہو گی بلکہ یہ جنگ پاکستان میں ختم ہوگی ۔
روزنامہ پولیٹیکن کے تجزیہ نگار کے مطابق، اگر پاکستان کی حکومت، طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہد میں حصہ لینے کا فوری فیصلہ نہیں کرتی اور اس پر بسرعت عمل نہیں کرتی اور اس کی بجائے اپنی وہی “ دوہری پالیسی “ جاری رکھتی ہے جو وہ پچھلے دس سال سے اپنائے ہوئے ہے تو ، اس کا سخت خطرہ ہے کہ ، یہ طوئل جنگ ، پاکستان کے بقول ، امریکہ کے لیے ایک عبرتناک اور ذلت آمیز ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ افغانستان میں اس کے اتحادی “ نیٹو “ کے لیے بھی ایک بہت بری شکست ہوگی ۔ اور اس کے خطرناک رد عمل کے طور پر امریکہ اور اُس کے مغربی اتحادی، مشرق میں اپنے اثر و رسوخ سے ہاتھ دھو لیں گے ۔
پاکستان کا دوہرا کردار ۔
ڈینش روزنامہ پولیٹیکن کے تجزیہ نگار کے مطابق، پاکستان کی حکومت سرکاری طور پر امریکہ کی اتحادی ہے لیکن ، پاکستان کی مسلح افواج ، اور سب سے پہلے انٹیلیجنس سروسز “ آئی ایس آئی “ میں ایسے عناصر ہیں جو افغانستان کے اندر، افغانی طالبان کو امریکی اور نیٹو ممالک کی افواج کے خلاف استعمال کے لیے، براہ راست اسلحہ ، پیسے اور خفیہ معلومات مہیا کرتے ہیں ۔
تجزیہ نگار کے مطابق، افغانستان کے اندر ہندوستانی مفادات کے خلاف حملوں میں پاکستان کی“ آئی ایس آئی “ براہ راست ملوث ہے ۔ تجزہ نگار نے لکھا بے کہ امریکی ٹیکس دھندگان ایک ایسے اتحادی ( پاکستان ) کو بھاری امدادی رقوم مہیا کرتے ہیں جس کی اینٹیلیجنس سروسز افغانستان میں امریکی فوجیوں کو قتل کر دیئے جانے میں مدد مہیا کرتی ہیں ۔
سنہ ٢٠٠٢ سے سنہ ٢٠٠٨ تک امریکہ نے پاکستان کو گیارہ بلین ڈالر سے زیادہ کی نقد ترقیاتی اور فوجی امداد مہیا کی ہے اور ابھی حال ہی میں امریکی کانگرسن نے اگلے پانچ سال کے لیے سات بلین ڈالر کی امداد پاکستان کو دینی منظور کی ہے ۔ تجزیہ نگار کے بقول، پاکستان کے لیے اس بھاری امریکی امداد کے پیچھے امریکہ کے وہ خدشات اور اپنے مفادات کے لیے وہ “ تحفظات “ ہیں جن کو فی الحال منظر عام پر نہیں لایا جا رہا ۔
امریکہ افغانستان کے حوالے سے ، پاکستان و افغانستان اور ان دونوں کے پس منظر میں پاکستان و ہندوستان کی صورت حال سے پوری طرح آگاہ ہے اور اسے بڑی سنجیدگی سے لیتا ہے ۔ اور سمجھتا بے کہ ان میں سے کسی ایک کا دوسرے کے خلاف متحرک اٹھ کھڑا ہونا، صورتحال کو دھماکہ خیز اور بد ترین بنا دے گا ۔
بھارت کا خطرہ
تجزیہ نگار کے بقول ، دنیا کے تمام ممالک کی اپنی اپنی فوج ہے لیکن ، پاکستان کی مثال الگ ہے ، پاکستان ایسا ملک ہے جس کی فوج نہیں بلکہ وہ فوج کا ملک ہے ۔ اسلام آباد میں “ سول حکومت “ ملک پر اور مسلح افواج کی قیادت پر بہت ہی محدود کنٹرول رکھتی ہے اور “ آئی ایس آئی “ پر تو اس کا کوئی کنٹرول ہی نہیں ۔ بلکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ “ آئی ایس آئی “ کیا کرتی ہے خود مسلح افواج کی قیادت اس سے کم و بیش بے خبر ہے اور یہ ایک کھلا سوال ہے کہ “ آئی ایس آئی “ کا کیا کردار ہے ۔
پاکستان میں فوجی ہی “ اقتدار کی کنجی “ ہے اور ملکی سول حکومت اسی کی بیساکھیوں پر کھڑی ہوتی ہے ۔ امریکی پاکستان کے استحکام کو خطرے سے خائف ہیں اور یہ پاکستانی مسلح افواج ہی ہیں جو ملک کے ایٹمی اسلحے پر کنٹرول رکھتی ہیں اور اس سلسلے میں صدر کا بلکل کوئی اختیار ہی نہیں
ملکی انٹیلیجنس سروسز “ آئی ایس آئی “ پاکستان کے اصل عسکری و سیاسی منظر نامے میں “ مرکزی کردار “ ادا کرتی ہے ۔ پاکستانی افواج اور امریکہ کے درمیان گہرے تعاون و اشتراک کے باوجود “ آئی ایس آئی “ انٹیلیجنس کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں الگ رکھتی ہے اور ان سرگرمیوں سے کوئی بھی آگاہ نہیں یہاں تک کہ فوجی قیادت بھی بیشتر اوقات ان سے بے خبر ہوتی ہے ۔
پاکستان اپنے خلاف ہندوستان کے روایتی انتہا پسندانہ جارہانہ اقدامات کے خوف میں مبتلا رہتا ہے اور سمجھتا بے کہ ہندوستان اسے نقصان پہنچانے اور اس کی سالمیت کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے لیے کوئی بھی موقع ضائع نہیں جانے دے گا ۔ اور امریکہ بھی، جیسا کہ پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات کے حوالے سے اب تک ہوتا آیا ہے ، افغناستان میں اگر طالبان کر سرکوبی کرنے اور ان کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو پاکستان سے رخ موڑ کر اور اس کی دست گیری جاری رکھنے کی بجائے ، بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو کہیں زیادہ مضبوط و ٹھوس بنانے اور انہیں فروغ دینے کی کوشش کرے گا ۔ بلکل جیسا کہ اس سے پہلے اُس نے ١٩٩٣ میں افغانستان سے طالبان کو مار بھگانے کے بعد ، ہندوستان سے تعلقات بڑھانے کے لیے کیا تھا ۔
مشرق میں ہندوستان سے ملحقہ اپنی سرحدوں پر پاکستان کو ہندوستان کے ساتھ ، سنہ انیس سو سنتالیس سے اب تک تین جنگوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور پاکستان ، اپنے مشرقی حصے کو مغربی پاکستان سے الگ کرکے “ نبگلہ دیش “ میں تبدیل کرنے کے لیے ہندوستان ہی کو ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ اور ہندوستان کے رہنما بڑی ڈھٹائی سے یہ ذمے داری ، سر عام بڑے مخریہ اندز میں قبول بھی کر چکے ہیں ۔
طالبان اگر جنگ ہار گئے تو افغانستان، ہندوستان کا اڈہ بن جائے گا ۔
افغانستان سے پاکستان کی ملحقہ مغربی سرحدیں، افغانستان میں طالبان کی شکست اور اس کے نتیجے میں وہاں ، ہندوستانی قدم جم جانے کے بعد بلکل محفوظ نہیں رہ سکتیں اور یہ اسلام آباد کے لیے ایک سخت خطرہ ہو سکتا ہے ۔ پاکستان پہلے ہی ، افغان صدر حامد کرزئی کو ہندوستان کا ایک “ ایجنٹ “ مانتا ہے ۔ حامد کرزئی اپنی جوانی میں ہندوستان تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اور بطور صدر وہ خود پر ہندوستانی اثرو رسوخ ہونے سے بلکل انکاری نہیں ہیں ۔
ڈینش روزنامہ پولیٹیکن کے سیاسی تجزہ کار کے مطابق، افغانستان جیسے ملک میں ہندوستان کے پانچ “ کونسلیٹ “ ہیں اور ایک مکمل سفارتخانہ دارالحکموت کابل میں الگ کام کرتا ہے ۔ یہ کونسلیٹ ، پاکستانی سرحدوں کے قریب ، افغان شہروں میں قائم ہیں ۔ ہندوستان نے اس جنگ ذدہ ملک میں اب تک ترقیاتی منصوبوں پر، ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر صرف کیے ہیں ۔
اس ہندوستانی پیشرفت کے پس منظر میں ، اگر طالبان کے خلاف امریکی جنگ کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کو خطرہ ہے کہ امریکہ اسے “ چلے ہوئے کارتوس کی طرح “ الگ پھینک دے گا اور ہندوستان کے ساتھ نئی علاقاتی حکمت عملی میں پاکستان کو الگ تھلگ کردیا جائے گا اوراس صورت حال میں ، پاکستان کو خطرہ ہے کہ بھارت اس کا محاصرہ کر رہا ہے جو پاکستان کسی بھی صورت گوارا نہیں کرسکتا ، امریکہ کے بارے میں یہ خیال تقویت رکھتا بے کہ وہ اگلے سال ، افغانستان سے اپنی افواج کا انخلاء شروع کر دے گا ۔
روزنامہ پولیٹیکن کے تجزیہ نگار اور سابق مدیر اعلیٰ کے تجزیئے کے مطابق، پاکستان، یہی وجہ ہے کہ طالبان کی فتح کی امید رکھتا ہے اور اسی بنیاد پر اسلام آباد ہر اس مطالبے کو مسترد کرتا چلا آ رہا ہے جس میں پاکستان کی حکومت پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ملک کے صوبہ بلوچستان میں موجود طالبان کے بڑے بڑے رہنماؤں کو گرفتار کرے ۔
پاکستان ، امریکہ ، ہندوستان
ڈینش روزنامہ پولیٹیکن کے تجزیہ نگار کے مطابق، “ طالبان پاکستان کے لیے لائف انشورنس ہیں “ ۔
افغناستان میں مستقبل کی کسی بھی حکومت کا پاکستان کا حمایتی ہونا اور اس کا ہندوستانی اثر و رسوخ کے خلاف اقدامت لینا ضروری ہے ۔ پاکستان کی طرف سے یہ مطالبہ امریکہ کے لیے ایک “ الٹی میٹم “ ہے ۔ اور اس کے پورا کرنے کے لیے لازمی ہے کہ حامد کرزئی بطور صدر ، اقتدار سے الگ ہو جائیں۔
امریکہ اگر کسی بھی صورت میں خود کو یہ مطالبہ پورا کرنے کا اہل نہیں سمجھتا یا کم سے کم اس کا کوئی ایک حصہ پورا نہیں کرتا تو، پھر پاکستان کی طرف سے افغانستان میں امریکہ کی جنگ بیشک طوئل سے طویل تر ہو جائے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
افغانستان پر ہندوستانی کنٹرول یا اثر و رسوخ کے ہونے کی بجائے ، یہ جنگ پاکستان کے لیے کہیں زیادہ سود مند ہے ۔ بذات خود طالبان ، پاکستان کے لیے کوئی مدد نہیں ہیں ، اور اگر پاکستان کی اپنی سلامتی و استحکام کا کوئی معاملہ ہو اور اس کے اپنے دفاع کے لیے ضروری ہو تو اسلام آباد طالبان کے لیے سخت شرائط بھی رکھ سکتا بے ۔
پاکستان، افغانستان میں بنیاد پرست، کٹر مذہبی، طالبان کا غلبہ رکھنے والی کسی حکومت کے قیام کے بھی حق میں نہیں ہے ۔ اس بارے میں پاکستان کی حکومت ، مسلح افواج اور یہاں تک کہ “ آئی ایس آئی “ تینوں ایک ہی مؤقف رکھتی ہیں اور وہ ایسی اسلامی قوتوں کی پشت پناہی ہر گز نہیں چاہتیں جو پاکستان میں اسلامی شرعی قوانین کے احیاء و نفاذ کا مطالبہ کریں اور جو پاکستانی اسلامی قوتوں کے ساتھ مل کر حکومت کے اداروں و عہدیداروں اور یہاں تک کہ فوج کو حدف بناتی رہیں ۔
سوال یہ ہے کہ، کیا واشنگٹن، ان چیلنجوں کو پورا کرنے پر تیار ہے کہ وہ ہندوستانی مفادات کے چنگل سے باہر نکلے اور پاکستان کےمفادات کا خیال رکھے اور انہیں تحفظ مہیا کرے ؟
پاکستان ، طالبان پکڑ سکتا اور امریکہ کے حوالے کر سکتا ہے ( وہ پہلے بھی ایسا کرچکا ہے اور بعض حالتوں میں اب بھی در پردہ ایسا کر رہا ہے ) ، لیکن کیا امریکہ ، ہندوستانیوں کے مفادات اور خاص کر پاکستان کے حوالے سے، افغانستان میں ہندوستانی عزائم سے دور ہٹ سکتا ہے یا انہیں ختم کر سکتا ہے ؟
افغانستان میں جنگ کا نتیجہ صرف اسی پر منحصر نہیں کہ کس کے پاس کنتا گولہ بارود ہے اور کون جدید ترین اسلحہ کے ذخائر رکھتا ہے ۔ جنگ کا خاتمہ صرف “ حمتی جنگ “ ہی سے ممکن نہیں اس کے دوسرا پہلو یعنی “ سفارتکا ری “ بہت ہی مضبوط اور ٹھوس عمل ہے، لیکن یہ “ عمل “ افغانستان کے میدان جنگ میں نہیں آزمایا جا سکتا بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے، ایجنڈے پر سب سے پہلے، سر فہرست، کشمیر کے تنازع کو رکھا جانا چاہیئے اور پاکستان و ہندوستان، امریکہ اور کشمیری نمائندگان کو ایک میز پر بیٹھ کر اس کا ایک منصفانہ ، ٹھوس اور پائیدار حل تلاش کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ اسی تنازع کے حل میں ، نہ صرف پاکستان و ہندوستان کے درمیان ایک ٹھوس و پائیدار اعتماد و دوستی اور امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ افغانستان میں بھی جنگ کا “ پر امن “ خاتمہ ہو سکتا ہے اور یوں جنوب ایشیا کا یہ علاقہ پورے خطے کے لیے “ امن کا گھر“ ثابت ہو سکتا ہے ۔