<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>گفتگو</title>
	<atom:link href="http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://www.urduhamasr.dk/blog</link>
	<description>گفتگو انسان دوستی کو فروغ دیتی ہے</description>
	<lastBuildDate>Fri, 11 Nov 2011 13:27:28 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>fa</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>تغیّر</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=165</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=165#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 11 Nov 2011 13:27:02 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=165</guid>
		<description><![CDATA[ایک اور ظالم ماہ ختم ہوا، لیکن
ہمارے لیے چھوڑ گیا ہے بے کفن لاشوں کے انبار
حتیٰ کہ سانس لینا بھی موت ہے
اورپانی پینا بھی مرگ حیات ہے ۔
میں اتنی اموات سے دُ کھی نہیں ہوں، لیکن
میرا وطن اتنے قبرستانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا
ہمیں اب وسیع اجتماعی قبریں کھودنا چاہیئے
جہاں ہم اپنے امن کے خوابوں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>ایک اور ظالم ماہ ختم ہوا، لیکن<br />
ہمارے لیے چھوڑ گیا ہے بے کفن لاشوں کے انبار<br />
حتیٰ کہ سانس لینا بھی موت ہے<br />
اورپانی پینا بھی مرگ حیات ہے ۔<br />
میں اتنی اموات سے دُ کھی نہیں ہوں، لیکن<br />
میرا وطن اتنے قبرستانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا<br />
ہمیں اب وسیع اجتماعی قبریں کھودنا چاہیئے<br />
جہاں ہم اپنے امن کے خوابوں اور امیدوں کو دفن کر سکیں۔<br />
ہمارا مستقبل تو آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے<br />
خون کی اُن ندیوں میں جو آئے دن پہاڑوں سے،<br />
میدانوں کی جانب بہتی آتی ہیں، اور<br />
سب کچھ ساتھ بہا لے جاتی ہیں ۔<br />
نصر ملک  ۔  کوپن  ہیگن<br />
یکم اکتوبر ٢٠١١ ء</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=165</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اپنے ہی گھر کی تعمیر</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=151</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=151#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 07 Jun 2011 19:35:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=151</guid>
		<description><![CDATA[اپنے ہی گھر کی تعمیر
ایک بڑھئی جسے ایک ٹھیکدار کے ہاں کام کرتے اور لوگوں کے لیے گھر تعمیر کرتے ہوئے عرصہ گزر چکا تھا، اس نے اب کام چھوڑ دینے اور اپنی باقی زندگی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ بسر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔  اُس نے اپنے اس فیصلے سے جب ٹھیکدار [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h2 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">اپنے ہی گھر کی تعمیر</span></h2>
<h3 style="text-align: right;">ایک بڑھئی جسے ایک ٹھیکدار کے ہاں کام کرتے اور لوگوں کے لیے گھر تعمیر کرتے ہوئے عرصہ گزر چکا تھا، اس نے اب کام چھوڑ دینے اور اپنی باقی زندگی اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ بسر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔  اُس نے اپنے اس فیصلے سے جب ٹھیکدار کو مطلع کیا تو ٹھیکدار نے اُسے بہت سمجھایا اور کام جاری رکھنے کو کہا لیکن جب بڑھئی نہ مانا تو ٹھیکدار نے اسے اپنی اک یادگار چھوڑجانے کے لیے صرف ایک آخری مکان تعمیر کرنے کی درخواست کی ۔  ’’یہ مکان تمھاری نشانی ہو گا اور مجھے اور اس  مکان میں رہنے والوں کو تمھارے بے مثال ہنر کی یاد دلاتا رہے گا ‘‘۔  ٹھیکدار نے اُس سے کہا ۔<br />
بڑھئی نے ٹھیکدار کے کہنے پر مکاں کی تعمیر تو شروع کردی لیکن چند ایک دن میں اُس کا دل کام کرنے بھر سےگیا اور جس قسم کا بھی سمینٹ، اینٹیں، لکڑیاں اور دوسرا سامان ِتعمیر اسے ملا اُس نے کوئی چھان بین کیے بغیر اسے مکان کی تعمیر میں لگا دیا۔ وہ جلد سے جلد اس کام سے فارغ ہو جانا چاہتا تھا ۔ زندگی بھر دوسروں کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ مکانات تعمیر کرنے والے ایک نامی گرامی بڑھئی کے لیے اس طرح جلد بازی اور بے دلی سے مکان تعمیر کرنا ایک بدقسمتی تھی ۔<br />
جب مکان تعمیر ہو گیا تو ٹھیکیدار اُس کے معائینے کے لیے آیا اور اُسے اندر و باہر سے دیکھ کر مکان کے بڑے دروازے پر آن کھڑا ہوا ۔ بڑھئی ابھی اُس سے پوچھنے ہی والا تھا کہ اسے مکان کیسا لگا کہ ٹھیکیدار نے مکان کے بڑے دروازے کی کنجی اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’  یہ مکان دراصل میرے لیے تمھاری خدمات کے عوض ایک تحفہ ہے، جاؤ اپنے بال بچوں کو لے آؤ اور یہاں رہو۔‘‘<br />
بڑھئی وہاں بے حس و حرکت ایک بت بنا کھڑا تھا۔</h3>
<h3 style="text-align: right;"><span style="color: #800000;">کیا آپ بتا سکتے ہیں کیوں؟</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #800000;"><a href="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/TARKHHAN.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-152" src="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/TARKHHAN.jpg" alt="" width="159" height="157" /></a><br />
</span></h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=151</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>محبت اور وقت</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=148</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=148#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 23 May 2011 08:09:31 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=148</guid>
		<description><![CDATA[محبت اور وقت
از :  نصر ملک

قدیم زمانے کی بات ہے، ایک بہت ہی خوبصورت چھوٹے سے جزیرے پر سبھی  ’’  احساسات و جذبات ‘‘ ،  خوشی ، غمی، دانش  اور بہت سے دوسرے جن میں محبت بھی شامل تھی ، ایک ساتھ اکٹھے رہتے تھے ۔ ایک دن ان سب کو بتایا گیا کہ جزیرہ ڈوبنے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h2 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">محبت اور وقت<br />
<span style="color: #800000;">از :  نصر ملک</span></span></h2>
<h3 style="text-align: right;">
قدیم زمانے کی بات ہے، ایک بہت ہی خوبصورت چھوٹے سے جزیرے پر سبھی  ’’  احساسات و جذبات ‘‘ ،  خوشی ، غمی، دانش  اور بہت سے دوسرے جن میں محبت بھی شامل تھی ، ایک ساتھ اکٹھے رہتے تھے ۔ ایک دن ان سب کو بتایا گیا کہ جزیرہ ڈوبنے والا ہے لہٰذا وہ اپنے  بچاؤ کے لیے کشتیاں تیار کر لیں ۔ اُن سب نے ایسا ہی کیا اور پھر اپنی اپنی کشتی پر سوار ہو کر جزیرہ چھوڑگئے، لیکن محبت نے نہ کشتی بنائی اور نہ ہی جزیرے کو چھوڑا ۔<br />
اب جزیرے پر صرف محبت ہی تھی جو رہ گئی تھی اور وہ جہاں تک ممکن تھا، آخری لمحے تک وہیں رہنا چاہتی تھی ۔<br />
جب جزیرہ کم و بیش ڈوب گیا تو محبت نے مدد کے لیے پکارا ۔<br />
عین اُسی لمحے ’’ امارت ‘‘ قریب ہی سے اپنی بڑی کشتی میں سوار گزر رہی تھی ۔<br />
محبت نے اُسے دیکھا تو زور سے آواز دی، ’’ امارت بہن کیا تم مجھے اپنے ساتھ لے چلو گی؟ ‘‘۔<br />
’’ نہیں، میں تمھیں اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتی ۔ میری کشتی میں بیشمار سونا ، چاندی  اور جواہرات لدے ہوئے ہیں ۔ یہاں تمھارے لیے کوئی جگہ نہیں‘‘۔  امارت نے کہا ۔<br />
محبت نے ’’ تکبر ‘‘ سے پوچھا،  ’’ تکبر بھائی میری مدد کرو، مجھے اپنے ساتھ لے چلو‘‘۔<br />
’’ نہیں میں تمھاری مدد نہیں کرسکتا‘‘۔ تکبر اپنی خوبصورت کشتی کو آگے بڑھاتا ہوا بولا ۔  ’’ تم پوری طرح بھیگی ہوئی ہو اور میری کشتی کو نقصان پہنچا سکتی ہو‘‘۔<br />
اپنی کشتی میں سوار ’’ خوشی ‘‘ جونہی محبت کے قریب سے گزری اُس نے اُس سے بھی وہی سوال کیا لیکن،  خوشی اپنے آپ میں یوں خوش تھی کہ اُس نے محبت کی آواز ہی نہ سنی ۔<br />
محبت نے  قریب سے کشتی میں گزرتی ہوئی ’’ اُداسی ‘‘  سے کہا کہ وہ  اُسے اپنے ساتھ اپنی کشتی میں سوار کرلے ۔<br />
’’اوہ، پیاری محبت! میں ایسا نہیں کر سکتی، میں خود اتنی اداس ہوں کہ میں اپنے آ پ ہی میں رہنا چاہتی ہوں‘‘۔<br />
پھر اچانک وہاں ایک آواز آئی ، ’’ محبت آؤ ! ادھر آؤ ، میں تمھیں اپنے ساتھ  لے چلتی ہوں ‘‘۔  یہ ایک بوڑھی آواز تھی ۔ محبت کی جان میں جان آئی اور وہ خوشی میں یہ جاننا بھی بھول گئی کہ وہ کس کی آواز تھی اور وہ اُسے کہاں لے جا رہی تھی ۔ جب وہ  خشک زمین پر پہنچیں تو  بوڑھی نے اپنی راہ لی اور اچانک غائب ہو گئی ۔ محبت سوچتی ہی رہ گئی کہ وہ بوڑھی کا شکریہ کیسے ادا کرے ۔<br />
محبت نے ایک اور بوڑھی  ’’ دانش ‘‘  سے پوچھا کہ اگر وہ جانتی ہو کہ کہ اُس کی مدد کس نے کی تھی؟<br />
’’ یہ ’’ وقت ‘‘ تھا ‘‘ ، دانش نے جواب دیا ۔<br />
’’ وقت؟‘‘ ، محبت نےحیرانی سے پوچھا ۔ ’’ لیکن وقت نے میری مدد کیوں کی ؟ ‘‘۔<br />
دانش نے مسکراتے ہوئے ایک گہری حکیمانہ سانس لی اور بولی، ’’ کیونکہ یہ صرف وقت ہی ہے جو سمجھ سکتا ہے کہ ’’ محبت ‘‘  کتنی قیمتی ہے‘‘ ۔</h3>
<h3 style="text-align: right;"><span style="color: #800000;">قارئین کرام! کہا آپ بھی ’’وقت ‘‘  سے متفق ہیں کہ ’’محبت ‘‘ سے بڑھ کر کوئی اور قیمتی شے ہو ہی نہیں سکتی؟</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #800000;"><a href="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/LOVE.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-149" src="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/LOVE.jpg" alt="" width="203" height="223" /></a></span></h3>
<p style="text-align: right;"> </p>
<p style="text-align: right;"> </p>
<p style="text-align: right;"> </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=148</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>طوفان میں گھرا عقاب</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=142</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=142#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 22 May 2011 10:42:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=142</guid>
		<description><![CDATA[طوفان میں گھرا عقاب
از نصر ملک
کیا آپ جانتے ہیں کہ  عقاب کسی طوفان کی آمد سے بہت پہلے ہی آگاہ ہوجاتا ہے؟
طوفان کی آمد سے پہلے ہی عقاب بلندی پر پرواز کر تے ہوئے، طوفانی ہوا کے آنے کا انتظار کرتا ہے اور جب طوفان اُمڈ آتا ہے تو عقاب اپنے پنکھ کچھ یوں پھیلا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #800000;">طوفان میں گھرا عقاب<br />
<span style="color: #0000ff;">از نصر ملک</span></span></h3>
<h3 style="text-align: right;">کیا آپ جانتے ہیں کہ  عقاب کسی طوفان کی آمد سے بہت پہلے ہی آگاہ ہوجاتا ہے؟<br />
طوفان کی آمد سے پہلے ہی عقاب بلندی پر پرواز کر تے ہوئے، طوفانی ہوا کے آنے کا انتظار کرتا ہے اور جب طوفان اُمڈ آتا ہے تو عقاب اپنے پنکھ کچھ یوں پھیلا دیتا ہے کہ ہوائیں اُسے نیچے سے اُوپر اٹھا کر ، طوفان سے بہت اوپر لے جاتی ہیں تب طوفان اُس کے نیچے سے گزر رہا ہوتا ہے۔ اور عقاب اُس کے اوپر  بلند پرواز کرتے ہوئے ’’ اوج ‘‘ پر پہنچ چکا ہوتا ہے ۔<br />
عقاب طوفان کی آمد کو روک نہیں سکتا اور نہ ہی اِس سے بچ سکتا ہے لیکن وہ طوفان کو یوں استعمال کرتا ہے کہ وہ اُسے ’’اوج‘‘ پر پہنچا دیتا ہے  اور وہ اُن ہواؤں کے اُوپر محو پرواز رہتا ہے جو طوفان لاتی ہیں ۔<br />
زندگی کا طوفان جب ہمیں آن گھیرتا ہے تو ہم عقاب کے اس اصول کو آزما اور اپنا سکتے ہیں ۔ ہم  اپنے اعتقاد و یقین  اور ذہن کو مضبوط و پختہ بنا کر ان طوفانی ہواؤں اور طوفان پر حاوی ہو سکتے ہیں اور اِن سے اوپر ، پرواز سکتے ہیں ۔ خود کو طوفانی جھکڑوں سے نکال کر ’’ عروج‘‘ پر جانے  کے لیے، ہم قدرتی قوتوں کو ، جو خود ہمارے ہی اندر ہوتی ہیں،  بروئے کار لا سکتے ہیں ۔<br />
ہم اپنی قوت ایمانی سے،  طوفانوں کی اُن بلاؤں پر قابو پا سکتے ہیں جو ہماری زندگیوں میں بیماریاں، سانحے، ناکامیاں اور مایوسیاں لاتی ہیں۔ ہم طوفانوں سے بالا،  ’’ اوج ‘‘ پر پہنچ سکتے ہیں ۔<br />
یہ زندگی کا بوجھ نہیں ہوتا جو ہمیں نیچے دبا دیتا ہے  بلکہ یہ تو وہ طریقہ ہوتا ہے جو ہم اس بوجھ کو اتارنے کے لیے اپناتے ہیں ۔</h3>
<h3 style="text-align: center;"> تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب<br />
یہ تو چلتی ہے تجھے اُونچا اُڑانے کے لیے</h3>
<h3 style="text-align: center;"> <a href="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/EAGLE1.jpg"><img class="aligncenter size-medium wp-image-146" src="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/EAGLE1-300x213.jpg" alt="" width="300" height="213" /></a></h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=142</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>صدائے  باز گشت</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=137</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=137#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 21 May 2011 23:06:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=137</guid>
		<description><![CDATA[صدائے باز گشت
از : نصر ملک
ایک درویش اور اُس کا چیلا، پہاڑوں میں کہیں سفر کر رہے تھے ۔
اچانک چیلے کا پاؤں پھسلا اور وہ گر گیا ۔ اس طرح اُسے ایک سخت چوٹ لگی اور درد سے اُس کی چیخ نکل گئی ۔
وہ اپنی درد کی شدت تو بھول گیا لیکن حیران تھا کہ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h2 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">صدائے باز گشت</span></h2>
<h2 style="text-align: center;"><span style="color: #993366;">از : نصر ملک</span></h2>
<h3 style="text-align: right;">ایک درویش اور اُس کا چیلا، پہاڑوں میں کہیں سفر کر رہے تھے ۔<br />
اچانک چیلے کا پاؤں پھسلا اور وہ گر گیا ۔ اس طرح اُسے ایک سخت چوٹ لگی اور درد سے اُس کی چیخ نکل گئی ۔<br />
وہ اپنی درد کی شدت تو بھول گیا لیکن حیران تھا کہ اُسے اُسی طرح کی چیخ دوسری جانب سے، کہاں سے سنائی دی ۔<br />
اب وہ شوق میں چلایا،  ’’ تم کون ہو؟‘‘<br />
جواب میں اُسے بھی یہی سنائی دیا،  ’’ تم کون ہو؟‘ُ<br />
وہ پھر پہاڑ کی طرف منہ کرکے چلایا،  ’’ میں تمھاری تعریف کرتا ہوں!‘‘<br />
دوسری طرف سے بھی ہو بہو وہی صدا سنائی دی،  ’’ میں تمھاری تعریف کرتا ہوں!‘‘<br />
اس جواب پر وہ سخت غصے میں چلایا،  ’’ ڈرپوک سامنے تو آ! ‘‘<br />
اب دوسری جانب سے بھی یہی آواز سنائی دی، ’’ ڈرپوک سامنے تو آ! ‘‘<br />
اب چیلے کے صبر کا پیمانہ بھر چکا تھا، اُس نے اپنے گرو درویش کی جانب دیکھا اور پوچھا ، ’’ گرو یہ سب کچھ کیا ہے؟‘‘<br />
درویش مسکرایا اور بولا،  ’’ میرے بیٹے، میرے چیلے، دھیان دو ‘‘۔<br />
اب چیلے نے ایک زوردار آواز لگائی ،  ’’ تم اعلیٰ ترین ہو!‘‘۔<br />
دوسری جانب سے بھی یہی جواب ملا،  ’’ تم اعلیٰ ترین ہو! ‘‘۔<br />
اب چیلے کی پریشانی مزید بڑھ گئی تھی اور اُس کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب کچھ کیا ہے اور ایسا کیوں ہے کہ جو کچھ وہ خود کہتا ہے دوسری جانب سے اُسے وہی بات جواب میں ، ہو بہو دہرا دی جاتی ہے ۔ چیلا اس معاملے کو سلجھا نہ سکنے پر بہت پریشان اور رنجیدہ تھا ۔<br />
درویش نے چیلے کی یہ حالت دیکھی تو بولا،  ’’ یہ صدائے بازگشت ہے،  لوگ اِسے گونج بھی کہتے ہیں، یہ تمھیں ہر وہ شے ہو بہو واپس لوٹا دیتی ہے جو تم کہتے یا کرتے ہو۔ ہماری زندگی ہمارے اعمال کا  ’’ پر تُو ‘‘ ہے ۔ اگر تم دنیا میں زیادہ محبت چاہتے ہو تو  اپنے دل میں زیادہ محبت پیدا کرو۔  اگر تم اپنے سنگھیوں کی ٹولی میں زیادہ صلاحیت پیدا کرنا چاہتے ہو تو اپنی استبداد کو بہت بناؤ اور اُسے بڑھاؤ۔ یہ تعلق ، زندگی کے تمام پہلوؤں میں ، ہر شے پر لاگو ہوتا ہے ۔ زندگی تمھیں ہر وہ شے واپس لوٹائے گی جو تم اُسے دو گے ۔تمھاری زندگی محض  ’’ اتفاق ‘‘ نہیں ۔ یہ تمھارا ہی ’’ پَرتُو ہے !‘‘<br />
<span style="color: #0000ff;">جی تو قارئین، آپ کی کیا رائے ہے، اس باے میں؟</span></h3>
<h4 style="text-align: center;"><a href="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/1echo.jpg"><img class="aligncenter size-medium wp-image-138" src="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/1echo-300x237.jpg" alt="" width="300" height="237" /></a></h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=137</wfw:commentRss>
		<slash:comments>5</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>دو مینڈک</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=130</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=130#comments</comments>
		<pubDate>Fri, 20 May 2011 23:10:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=130</guid>
		<description><![CDATA[       مینڈکوں کی ایک ٹولی اپنی ہی دھن میں، جنگل میں کہیں جا رہی تھی کہ اچانک اُن میں سے دو مینڈک ایک گڑھے میں جا گرے ۔ دوسرے مینڈکوں نے جب جھانک کرگڑھے میں دیکھا کہ وہ کتنا گہرا ہے تو وہ ان دونوں مینڈکوں کو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ اُن [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h3 style="text-align: right;">       مینڈکوں کی ایک ٹولی اپنی ہی دھن میں، جنگل میں کہیں جا رہی تھی کہ اچانک اُن میں سے دو مینڈک ایک گڑھے میں جا گرے ۔ دوسرے مینڈکوں نے جب جھانک کرگڑھے میں دیکھا کہ وہ کتنا گہرا ہے تو وہ ان دونوں مینڈکوں کو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ اُن کے لیے ’’ زندہ و مردہ ‘‘ دونوں صورتیں اب ایک برابر ہیں ۔<br />
اُن دونوں مینڈکوں نے اپنے ساتھیوں کے  اس تبصرے کو نظر انداز کر دیا اور گڑھے سے باہر نکلنے کے لیے  اپنی پوری قوت کے ساتھ اوپر اچھلنا شروع کردیا تاکہ کود کر گڑھے سے باہر نکل سکیں۔ دوسرے مینڈکوں نے انہیں ایسا کرنے سے باز رہنے کو کہا کیونکہ اُن کے خیال میں وہ دونوں  مینڈک مردہ یا زندہ ایک برابر ہی تھے ۔ بلآخر اُن دونوں میں سے ایک مینڈک نے دوسرے مینڈکوں کی بات مان لی اور گڑھے سے باہر نکلنے کی اپنی کوشش روک دی ۔ اور وہ گر کر مر گیا ۔<br />
 دوسرے مینڈک نے گڑھے سے باہر نکلنے کے لیے اپنی کوشش جاری رکھی اور بڑی شدت سے اچھلتا کودتا رہا ۔ دوسرے مینڈک  شور مچاتے ہوئے اسے بھی اپنے ساتھی مردہ مینڈک کی طرح اپنی کوشش ترک کرکے مر جانے کے نعرے لگا رہے تھے ۔ لیکن اُس نے اپنی کوشش اور بھی تیز کردی اور بلآخر یہ مینڈک  گڑھے سے باہر کود جانے میں کامیاب ہو گیا۔  جب وہ گڑھے سے باہر نکل آیا تو  دوسرے مینڈکوں نے اُس سے پوچھا ’’  کیا تم نے ہماری آوازیں نہیں سنی تھیں؟ ‘‘  مینڈک نے جواب دیا،  ’’  میں تو بہرہ ہوں، میں یہی سمجھتا رہا کہ تم میری ہمت بڑھا رہے ہو‘‘۔<br />
آپ کیا سمجھے؟<br />
نتیجہ خود اخذ کیجیئے ۔</h3>
<h3 style="text-align: center;"><a href="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/frog1.jpg"><img class="aligncenter size-medium wp-image-134" src="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/frog1-300x192.jpg" alt="" width="300" height="192" /></a></h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=130</wfw:commentRss>
		<slash:comments>2</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایک بدعت گذار ستمکار کی موت</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=123</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=123#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 30 Mar 2011 13:50:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=123</guid>
		<description><![CDATA[نصر ملک، کوپن ہیگن
ایک بدعت گذار ستمکار کی موت
ایک نوجوان مبلغ یہ کہہ کر اپنی بستی کے لوگوں سے دور چلا گیا کہ اگر خداوند نے مجھے زندہ رکھا تو میں پچاس سال  بعد اپنی بستی میں آؤں گا ۔ اُس  نےبوقت رخصت اپنے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اس کے لیے دعا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h3 style="text-align: right;"><span style="color: #0000ff;">نصر ملک، کوپن ہیگن</span></h3>
<h2 style="text-align: right;"><span style="color: #ff0000;">ایک بدعت گذار ستمکار کی موت</span></h2>
<h3 style="text-align: right;">ایک نوجوان مبلغ یہ کہہ کر اپنی بستی کے لوگوں سے دور چلا گیا کہ اگر خداوند نے مجھے زندہ رکھا تو میں پچاس سال  بعد اپنی بستی میں آؤں گا ۔ اُس  نےبوقت رخصت اپنے لوگوں سے یہ بھی کہا کہ وہ اس کے لیے دعا کریں کہ وہ خداوند کے ابدی پیغام کو پھیلا سکے اور تبلیغ کے جس مشن پر وہ روانہ ہو رہا ہے ، خود خدا اُس کی نگہبانی کرے اور اسے کامیابی سے نوازے۔</h3>
<h3 style="text-align: right;">پچاس سال بعد، کڑاکے کی سردی میں، ایک رات ،ایک بہت ہی ضعیف و لاغر باریش فرد، پرانا جبہ  پہنے، اپنے گدھے کو ساتھ لیے، اسی بستی میں داخل ہوا اور اپنے گدھے کو بستی کے معبد کے باہر باندھ  کر خود سیدھا معبد میں داخل ہو گیا ۔ وہاں پر ہرشے ویسی ہی تھی جیسی پچاس سال پہلے تھی ۔ اُس نے  معبد کے مینار پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا ، “ میں آ گیا ہوں!، میں آ گیا ہوں!!‘‘جن لوگوں  نے اُس کی پکار سنی وہ معبد کی طرف بھاگے ۔ ہر کسی کے ہونٹوں پر ایک ہی سوال تھا ، “ یہ کون ہے؟ ‘‘۔<br />
اور جب وہ سب معبد میں اکٹھے ہوگئے تو اجنبی مینار سے نیچے اتر کر اُن کے درمیان آن کھڑا ہوا،  “ کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟‘‘  اُس<br />
نے اُن سے پوچھا ۔ اور پھر جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی اپنی کہانی سنا دی کہ کس طرح وہ پچاس سال پہلے اس بستی کو چھوڑ گیا تھا تاکہ خدا کے ابدی پیغام کو لوگوں تک پہنچا سکے۔<br />
بھیڑ میں موجود بڑے بزرگوں اور اُس کے ہمعمر لوگوں نے اسے پہچان لیا تھا اور اُس کی آمد کو اپنے لیے نیگ شگون قرار دے رہے تھے ۔  “ ہمیں اپنے سفر کے بارے میں بتاؤ‘‘،  اُن میں ایک جو ایک ہاتھ میں چراغ اور دوسرے میں مقدس کتاب تھامے ہوئے تھا بولا ۔ اپنے حلیے سے وہ بھی کوئی امام و مبلغ ہی دکھائی دے رہا تھا ۔<br />
 “ ہاں، ہاں! میں سب کچھ بتاتا ہوں‘‘ وہ مبلغ جو اب اسی پچاسی سال کا بوڑھا و ناتواں معمر دکھائی دیتا تھا بولا ۔<br />
 پھر وہ سب معبد کے اندر ایک دائرے میں بیٹھ گئے اور اُس معمر و ناتواں مبلغ نے بولنا شروع کیا ؛<br />
 “پچاس سال پہلے اپنی اس بستی کو چھوڑ کر میں کہاں کہاں گیا؟،  یہ تو ایک طویل قصہ ہے اور میرے ان پچاس سال کے سفر، تبلیغ اور لوگوں کے رویے کی داستان بھی بہت لمبی ہے، لیکن ایک بات جو میں اس وقت  آپ سب سے کہنا چاہتا ہوں، وہ میں خود اُن لوگوں سے سیکھ کر آیا ہوں جنہیں میں تبلیغ کرنے گیا تھا‘‘۔ <br />
اب اُس نے ایک گہری سانس لی اور پھر کہنے لگا،  “ میرے بزرگو، میرے ہم عمرو، میرے عزیزو، سنو! ، غور سے سنو، جو میں<br />
کہنے لگا ہوں یہی میرے پچاس سال کے تبلیغی سفر کا نچوڑ ہے‘‘۔  سبھی لوگ ہمہ تن گوش تھے اور معمر مبلغ کے فرمان کے منتظر تھے ۔<br />
معمر مبلغ نے اپنا جبہ درست کیا اور اپنی دستار سر پر سجائی اور لمبی  ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اُن سے مخاطب ہوا،  “ میں ایک دن  دوردراز کے ایک ایسے گاؤں میں گیا جہاں لوگ ایک میت کو دفنانے جا رہے تھے ۔ میں بھی جنازے کے ساتھ ساتھ ہو لیا اور پھر قبرستان پہنچنے پر میت کو لحد میں اتارنے کے لیے میں بھی دوسروں کے ساتھ شامل ہو گیا ۔ یہی پر میں لوگوں کی نگاہ میں آگیا اور وہ ایک مبلغ ہونے کی میری حیثیت کو جان گئے اور مجھے عزت و تعظیم سے نوازا ۔  میت کو دفن کرنے کے بعد جب سب لوگ قبرستان سے واپس گاؤں جانے لگے تو مرحوم کے لواحقین نے مجھے بھی  اپنے ساتھ لے لیا اور اپنے ہاں شب بسری کی دعوت دی جو میں نے قبول کر لی ۔  میں اُن کے ہاں تین دن تک رہا لیکن میرے بزرگوں میرے ہمعمرو اور میرے عزیزو! اب جو کچھ میں تمھیں بتانے والا ہوں ، سنو گے تو کانپ جاؤ گے!،  وہ شخص جو میرا تھا وہ بڑا بدعتی اوربڑا ستمکار تھا۔ یہ بات مجھے اُس کے لواحقین کے پڑوسیوں نے بتائی تھی ۔ وہ نہ کبھی معبد میں جاتا تھا اور ہی اُس نے خداوند کے حضور کبھی کوئی قربانی دی تھی ۔ وہ گاؤں کے لوگوں کو ان کے عبادت گذار ہونے پر طعنے بھی دیا کرتا تھا، اور اب سنو!،  جب اُس کے لواحقین اسے دفنانے کے بعد دوسرے دن الصبح دستور کے مطابق اس کی قبر دیکھنے گئے تو انہوں نے اُس کی میت کو قبر کے باہر پڑا ہوا پایا، ارض خدا نے اس کی میت کو قبول نہیں کیا تھا ۔ اب لواحقین کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میت کے ساتھ کیا کیا جائے۔ بالآخر انہوں نے اسے قبرستان کے ساتھ بہنے والے دریا میں پھینک دینے کا فیصلہ کیااور یہ کام کر کے واپس گھر لوٹ آئے ۔  اب اگلے دن الصبح وہ دریا کے کنارے وہاں پہنچے جہاں سے انہوں نے میت کو دریا میں پھینکا تھا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے اور توبہ استفسار پڑھنے لگے کہ دریا نے بھی اس کی میت کو قبول نہیں کیا تھا اور اُسے کنارے سے باہر پھینک دیا تھا ۔ اب وہ بہت پریشان تھے کہ میت کو کہاں ٹھکانے لگائیں، زمین نے اسے قبول نہیں کیا تھا اور دریا نے بھی اسے باہر پھینک دیا تھا ۔ وہ اسی پریشانی کے عالم میں سوچ رہے تھے کہ اُن کے ایک برزگ نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ میت کو جلا دیں کہ یہی خداوند کی مرضی ہے ۔  پہلے تو وہ گبھرائے لیکن جب خاندان کے دو تین دوسرے بزرگوں نے بھی اس پراتفاق کیا تو انہوں نے ایک چتا جلائی اور میت کو اس میں پھینک دیا۔“ معمر مبلغ تھوڑی دیر کے لیے رکا، اپنا گلا صاف کیا اور پھر بولا؛  “ میرے بزرگو، میرے ہمعمرو، میرے عزیزو، جب انہوں نے میت کو چتا میں پھینک دیا تو جانتے ہو کیا ہوا!، چتا کی ساری لکڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں لیکن اس بدعتی کی میت جوں کی توں رہی، اسے آگ نے بھی قبول نہیں کیا تھا ۔ میرے بزرگو، میرے ہمعمرو، میرے عزیزو، تم سب اس سخت سردی میں اتنی رات گئے، میری پکار پر یہاں آئے ہو اور جاننا چاہتے ہو کہ میں  نے پچاس سال کے عرصے میں کیا تبلیغ کی ، کیا دیکھا اور کیا سیکھا،  توآج جب میں اسی پچاسی سال کا کمزور بوڑھا ہو گیا ہوں اور ابھی جو ایک سچااور چشم دید واقعہ میں نےآپ کو سنایا ہے، اُس کے نتیجے میں میری تبلیغ کا نچوڑ یہی ہے کہ ہم سب بدعت و ستم کاری سے دور رہیں، ان سے توبہ کریں، نیک و راستباز بنیں اور خدا کی مقدس کتاب اور اُس کے رسولوں کے فرمودات پر عمل کریں تاکہ، ہم جب مریں اور زمین اگر ہمیں  اپنے اندر نہ سمیٹے  یا دریا ہماری میتوں کو اچھال کر باہر  پھینک دیں تو کم سے کم آگ تو ہمیں جلا کر راکھ کر دے ۔ آمین ۔</h3>
<h3 style="text-align: right;"> </h3>
<h3 style="text-align: right;"> </h3>
<h3 style="text-align: right;"> </h3>
<h3 style="text-align: right;"> </h3>
<h3 style="text-align: right;"> </h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=123</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خزانے کی تلاش</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=114</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=114#comments</comments>
		<pubDate>Thu, 25 Mar 2010 21:50:02 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=114</guid>
		<description><![CDATA[خزانے کی تلاش

نصر ملک ۔ کوپن ہیگن
 تاریک رات
روشنی کا نشان تک نہیں
کفن چور، روپوش ہیں
ذہن کا خزانہ
عقل، قصہ ماضی ٹھہری
خوش طبعی و شگفتہ مزاجی   
جو صرف تمھاری اور میری تھی
کہاں گئی؟
اس کی تلاش سہل نہ سہی، ممکن تو ہے
دو میٹھے بول
دو دلوں کے درمیاں
ان کہےعہد و پیماں
آنکھوں میں چمک، چہرے پھ د مک
لبوں پہ گنگناہٹ
شام [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #800000;">خزانے کی تلاش</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #800000;"><a href="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/NASAR-MALIK.jpg"><img class="aligncenter size-full wp-image-115" title="نصر ملک ۔ کوپن ہیگن" src="http://www.urduhamasr.dk/blog/wp-content/uploads/NASAR-MALIK.jpg" alt="" width="83" height="128" /></a></span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #800000;">نصر ملک ۔ کوپن ہیگن</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"> <span style="color: #0000ff;">تاریک رات</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">روشنی کا نشان تک نہیں</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">کفن چور، روپوش ہیں</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">ذہن کا خزانہ</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">عقل، قصہ ماضی ٹھہری</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">خوش طبعی و شگفتہ مزاجی<span id="more-114"></span>   </span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">جو صرف تمھاری اور میری تھی</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">کہاں گئی؟</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">اس کی تلاش سہل نہ سہی، ممکن تو ہے</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">دو میٹھے بول</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">دو دلوں کے درمیاں</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">ان کہےعہد و پیماں</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">آنکھوں میں چمک، چہرے پھ د مک</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">لبوں پہ گنگناہٹ</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">شام کی مست ہوا</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">بد ظنی کی بارش ہو یا آندھی</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">خوشبوئے گل یاس کو</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">در یار تک پہنچنے سے روک نہیں سکتی</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">میں نے یھ زار پا لیا ہے</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">تبھی تو در دل وا کئے</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">بیٹھا ہوں،  منتظر</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">خوشبوئے گل یاس کا</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">وہ آئے تو لگا لوں گلے اسے</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">خوش طبعی و شگفتہ مزاجی لوٹا دوں اسے</span></h3>
<h3 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;">عقل ہاتھ ملتی رہ جائے ۔</span></h3>
<h4 style="text-align: center;"><span style="color: #0000ff;"><span style="color: #800000;">نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔</span>   </span></h4>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=114</wfw:commentRss>
		<slash:comments>1</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آنسو، خواب اور خوشیاں</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=112</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=112#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 13 Mar 2010 10:55:49 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>
		<category><![CDATA[نئے موضوعات]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=112</guid>
		<description><![CDATA[ 
آنسو، خواب اور خوشیاں
از ؛  نصر ملک  ۔  ڈنمارک
&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;-
آنسو تو وہیں ہوتے ہیں، جہاں
خوشیاں مسکراتی ہیں!۔
ہمیں اپنے شبہات کوسمجھنا چاہیے
تاکہ ہمارا یقین پختہ ہو!۔  ہم اُن قہقہوں سے بچ نہیں سکتے
جو دیوانگی کی حد تک ہمارا پیچھا کرتے ہیں
دراصل یہی تو ہمیں
شگفتگی دیتے اور تازگی بخشتے ہیں!۔
&#8221;خواہشیں اور خواب&#8221;
سگی بہنیں ہیں
اور&#8221; ضرورت&#8221;  ان کی تیسری [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><span style="color: #0000ff;"> </span></p>
<h3><span style="color: #0000ff;">آنسو، </span><span style="color: #800080;">خواب اور</span> <span style="color: #ff0000;">خوشیاں</span><br />
<span style="color: #3366ff;">از ؛  نصر ملک  ۔  ڈنمارک</span><br />
&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;&#8212;-</h3>
<h3><span style="color: #800000;">آنسو تو وہیں ہوتے ہیں، جہاں<br />
خوشیاں مسکراتی ہیں!۔<br />
ہمیں اپنے شبہات کوسمجھنا چاہیے<br />
تاکہ ہمارا یقین پختہ ہو!۔<span id="more-112"></span>  </span><span style="color: #800000;">ہم اُن قہقہوں سے بچ نہیں سکتے<br />
جو دیوانگی کی حد تک ہمارا پیچھا کرتے ہیں<br />
دراصل یہی تو ہمیں<br />
شگفتگی دیتے اور تازگی بخشتے ہیں!۔</span></h3>
<h3><span style="color: #800000;">&#8221;خواہشیں اور خواب&#8221;<br />
سگی بہنیں ہیں<br />
اور&#8221; ضرورت&#8221;  ان کی تیسری بہن<br />
&#8221; ماحاصل&#8221;  ان کا بڑا بھائی!۔</span></h3>
<h3><span style="color: #800000;">زندگی، زندگی چُراتی ہے<br />
خواب پیشرفت کرتے ، راہ دکھاتے ہیں<br />
ہمیںراہ ہی پہ چلناچاہیے ،<br />
حیات خود ہمارے پیچھے چلے گی!۔</span></h3>
<h3><span style="color: #800000;">ہمارے دلوں کا خوف، اور<br />
ہاتھوں کے کشکول میں شبہات، یہ<br />
اطاعت و فرمانبرداری کیوں؟<br />
آنسو تو وہیں ہوتے ہیں، جہاں<br />
خوشیاں مسکراتی ہیں!!۔</span> </h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=112</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>محبت ممنوع ہے !</title>
		<link>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=110</link>
		<comments>http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=110#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 07 Mar 2010 11:33:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>Nasar Malik</dc:creator>
				<category><![CDATA[تازہ ترین]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://www.urduhamasr.dk/blog/?p=110</guid>
		<description><![CDATA[محبت ممنوع ہے 
از:  نصر ملک  ۔  کوپن ہیگن  ۔ ڈنمارک 
 کیا جنگ کے دوران محبت کرنے کے لیے وقت ہوتا ہے؟  یقیناً جنگ میں کوئی کسی دشمن سے تو محبت کر ہی نہیں سکتا ۔  زمانہ ٔ جنگ میں یہ ایک گناہ ہی تو ہوتا ہے، گناہ یا جرم! لیکن
 
ایک دوست یا محبوبہ کے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<h3 style="text-align: right;"><span style="color: #800000;">محبت ممنوع ہے </span><br />
<span style="color: #0000ff;">از:  نصر ملک  ۔  کوپن ہیگن  ۔ ڈنمارک </span><br />
 کیا جنگ کے دوران محبت کرنے کے لیے وقت ہوتا ہے؟  یقیناً جنگ میں کوئی کسی دشمن سے تو محبت کر ہی نہیں سکتا ۔  زمانہ ٔ جنگ میں یہ ایک گناہ ہی تو ہوتا ہے، گناہ یا جرم! لیکن</h3>
<h3 style="text-align: right;"><span id="more-110"></span> </h3>
<h3 style="text-align: right;">ایک دوست یا محبوبہ کے ساتھ محبت؟ دوسروں کے سامنے کسی دوست یا محبوبہ سے بھی محبت نہیں کی جا سکتی ۔ جنگ کے دوران تو صرف احکام کی بجا آوری ہر ایک کا ایسا قومی فریضہ ہوتا ہے جسے پورا نہ کرنے والا ایسے جرم یا گناہ کا مرتکب ہوتا ہے جس کی سزا صرف موت ہی ہوتی ہے ۔ مقامی چھوٹے کمانداروں اور خاص کر محاذ جنگ پر اگلی صفوں کے بڑے کمانداروں کے سامنے  &#8221;  کسی ایک کا کسی دوسرے کے لیے محبت کا اظہار&#8221;  اس کے خلاف شکوک و شبہات کی بنیاد اور اس کے کم ہمت ،  ڈرپوک اور جنگ سے بیزاریا خائف ہونے کی دلیل کے زمرے میں آ سکتا ہے ۔  جنگ کے زمانے میں خود کسی کو اپنے محسوسات یا اپنی خواہشات کا نشانہ نہیں بننا چاہیے بلکہ لازم ہے کہ ہر کوئی احکام کی پابندی کرے اور اگر کوئی احکام کی پیروی نہیں کر سکتا تو اسے اپنے جذبات و محسوسات کو احکام کے تابع لانا چاہیے ۔ اُن کے ہاں حاکموں نے یہی جنگی اصول اپنا رکھے تھا ۔ ثاقب اور صوفیہ کے لیے ایسا کرنا ممکن ہی نہیں ہو پا رہا تھا ،  حالانکہ وہ دونوں اچھی عمر کے تھے۔ ثاقب پچیس سال کا اور صوفیہ بائیس برس کی تھی ۔<br />
 ملکی آزادی و تحفظ کی جنگ میں ثاقب زخمی ہو کر اس حد تک مفلوج ہو چکا تھا کہ اب اسے اپنی باقی ماندہ تھوڑی سے زندگی  &#8221;  ویل چیئر &#8221; پر ہی بسر کرنی تھی ۔ انسانی ہمدردی ایک دو تنظیموں نے اسے اپنے ملک سے باہر نکالنے اور کسی دوسرے پُرامن ملک میں پہنچانے اور وہاں پناہ دلوانے میں مدد مہیا کی ۔ صوفیہ پہلے ہی سے اپنے خاندان کے ساتھ یہاں رہ رہی تھی ۔  ان دونوں کی ملاقات بھی یہیں نے ملک میںہوئی جو ایک دوسرے کے لیے دوستی میں بدل گئی تھی ۔<br />
 اِ س نئے ملک میں وہ دونوں اکثر و بیشتر ایسے مظاہروں میں اکٹھے شامل ہوتے جو اُن کے آبائی ملک کے خلاف جاری جنگ کے خلاف ہوتے تھے۔   ثاقب کو اِن مظاہروں میں دوسروں کے لیے ایک مثال بلکہ عبرت کے لیے لے جایا جاتا تھا ۔ جنگ نے اُس کی دونوں ٹانگیں مفلوج کر دیں تھیں اور خود اس نے اپنے لیے اور لوگوں کے لیے اپنی زندگی خود پر بھاری کر لی ہوئی تھی ۔ صوفیہ دیکھنے میں خافی خوبصورت اور پُر کشش تھی ۔ مظاہروں کے دوران وہی ثاقب کی ، ویل چیئرمضبوطی سے تھامے آگے آگے چلاتی جاتی اور ثاقب پر نگاہ بھی رکھتی تھی ۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اپنی گردن جھکا کر ثاقب کے چہرے کو بھی دیکھتی اور اُس کے اندر چُھپے ہوئے درد و کرب کو محسوس بھی کرتی اور ساتھ ساتھ اُسے  &#8221; ویل چیئر &#8221;  پر مضبوطی سے بٹھائے رکھنے کے لیے رُک کر اس کی بے جان ٹانگوں کو ادھر اُدھر کرتی اور اُسے پہلو بدل کر بیٹھنے میں مدد بھی کرتی تھی ۔  &#8221; ثاقب ! بس تم سیدھے آگے دیکھو، ہاں ! ناک کی سیدھ میں بالکل سامنے!!&#8221;  وہ اُسے ہدایات بھی دیتی  ۔<br />
  صوفیہ کئی بار ثاقب کو ایسے موقعوں پر بھی ویل چیئر  پر گھمانے پھرانے لے جاتی تھی جب کوئی مظاہرے وغیرہ نہیں ہوتے تھے۔  وہ اسے شہر کے کیفے ٹیریوں یا تفریح پارکوں میں لے جاتی اور پھر وہاں بیٹھے وہ گھنٹوں باتیں کرتے رہتے ۔  اپنے وطن کی باتیں ،  سیاسی حالات پر بحثیں اور پھر اپنے بارے میں باتیں ۔  کئی بار وہ اُسے اپنے ساتھ اپنے گھر بھی لے گئی اور اُس کے والدیں بھی ثاقب کے لیے یوں فراخدلی اور پیار کا اظہار کرتے جیسے وہ اُن کا اپنا ہی بیٹا ہو ۔  آخر وہ بھی تو ایک ہیرو تھا ۔  اُن کے اپنے ملک کا جنگی ہیرو!  اور پھر ایک دن ثاقب نے صوفیہ کے باپ سے  اپنے لیے صوفیہ کا رشتہ مانگا تو پہلے تو اُس نے اُسے کھا جانے والی  گہری خاموش نظروں سے یوں دیکھا کہ جیسے اُسے اپنی سماعت پر یقین ہی نہ ہو کہ اُس نے وہی کچھ سنا تھا جو<br />
 ثاقب نے کہا تھا ، اور پھر فوراً ہی اُس کا غصہ یوں اُمنڈ آیا گویا وہ  میدان جنگ میں ہو ۔  &#8221; میرا داماد،  &#8221; ویل چیئر &#8221;  پر بیٹھے رہنے اور  دوسروں کا دست نگر، محتاج اپاہج ہوگا&#8221;  اس نے سوچا۔  &#8221; یہ تو میرے خاندان کے وقار اور میری بیٹی کے معیار و عزت کے سراسر خلاف ہوگا۔&#8221;  اُس نے صوفیہ کو دوسرے کمرے میں جانے کو کہا اور اپنے چھوٹے بیٹے کو بلایا۔  &#8221;  اِسے اِ س کی ویل چیئر سمیت، اس کے گھر چھوڑ آؤ ، اور ہاں تم یاد رکھو کہ صوفیہ آئیندہ تمھاری صورت نہ دیکھے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ تم اس گھر میں کبھی آئے ہی نہیںہو، یہ بات تمھیں کبھی نہیں بھولنی چاہیے ۔&#8221;  وہ ابھی تک تاؤ پیچ کھا رہا تھا ۔ صوفیہ کو اُس کے کمرے میں بند کردیا گیاتھا اور اُس کی ماں کمرے کے دروازے کے باہر، سر جھکائے ،  بت بنی بیٹھی تھی ۔<br />
 شام کو صوفیہ کے باپ نے، اُس کی ماں کے ساتھ بات کرکے صوفیہ کو سزا دینے کے لیے اُس کی شادی فوری طور پر ایک دوسرے آدمی سے کر دینے کا فیصلہ کیا جو انہیں کے قبیلے سے تھا اور اسی شہر میں رہتا تھا  ۔ وہ انہیں کی طرح  مہاجرتو تھا ہی لیکن ثاقب کی طرح اپاہج و مفلوج نہیں تھا۔ لیکن وہ نہیں جانتے  تھے کہ اتنے مختصر سے وقت میں کیا ہو چکا تھا ۔ صوفیہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے بھاگ گئی تھی اور سیدھی ثاقب کے مکان پر پہنچ کر اسے جلدی سے ویل چیئر پر بٹھاکر قریبی پولیس اسٹیشن لے گئی تھی ۔  جہاں اُن دونوں نے اپنے لیے &#8221;تحفظ کی فراہمی &#8221; کی استدعا کی اور مقامی پادری کے ہاں پناہ کے لیے مدد مانگی جو فراہم کردی گئی ۔ اب نصف شب سے پہلے اُن دونوں کی شادی ہو چکی تھی ۔ <br />
 اُدھر صوفیہ کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا اور اُس کا باپ اپاہج ثاقب کی تلاش میں سر بگراں تھا ۔ محلے کے تمام مہاجر کنبوں کے مَردوں میں حرکت آگئی تھی اور وہ ایک &#8221;اکائی کی صورت میں یکمشت  &#8221;جنگ زدہ &#8221;  ثاقب کی کھوج میں نکل پڑے تھے ۔ ان سب کی رہنمائی ایک بوڑھا مہاجر کر رہا تھا جو خود اپنے ملک میں محاذ جنگ پر ایک بڑا کماندار رہ چکا تھا اور دشمن کی گولی لگنے سے اپنی دائیں آنکھ کھو چکا تھا ۔ اُس کے بارے میں اُس کے سبھی ہموطن اس بات پر متفق تھے کہ کچھ بھی ہو کماندار ہر کسی کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے اور اُس کی نظر میں سب برابر ہیں ۔ صوفیہ اور ثاقب کی تلاش کا یہ سلسلہ بڑی رازداری کے ساتھ کئی دنوں تک جاری تو رہا لیکن اُن دونوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا ۔ اور پھر ایک دن شہر کے مضافات سے ایک اور مہاجر جو یہاں نئے ملک میں آنے سے پہلے اپنے ملک میں ایک مقامی کماندار کا ماتحت رہ چکا تھا اور یہاں &#8221; چھوٹا کماندار&#8221;  کے نام سے جانا جاتا تھا، وہ یک چشمی  بڑے کماندار بابا کے ہاںآیا اور اُسے بتایا کہ اُس نے ثاقب اور صوفیہ،  دونوں حرامیوں کا سراغ لگا لیا ہے ۔ بڑا کماندار اسے اپنے ساتھ لے کر صوفیہ کے باپ کے گھر پہنچا اور پھر صوفیہ کے باپ نے اپنے دونوں چھوٹے بیٹوں کو محلے میں رہنے والے اپنے ہموطنوں اور اپنے ملک کی آزادی و تحفظ کا دفاع کرنے والے مہاجر سابق جنگوؤں کو بلا لانے کے لیے بھیجا ۔<br />
 اگلے دن الصبح پولیس کی ایک بھاری نفری شہر کے باہر مضافات میں ایک پرانے نالے کے دونوں کناروں پر کھڑی تھی اور کچھ غوطہ خور نالے سے دو لاشیں باہر نکال رہے تھے ۔ پولیس کو کسی مقامی شہری نے نالے پر کچھ انہونی کے ہونے کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد یہ کارروائی کی گئی ۔ لوگوں کی بھیڑ میں کھڑا ایک اخباری فوٹو گرافر کیچڑ میں لت پت دونوں نعشوں کی تصویریں اتار رہا تھا ۔ وہ اِن میں سے ایک کو بڑی اچھی طرح سے پہچانتا تھا ۔  &#8221; یہ تو اُسی جنگی ہیرو، ثاقب کی نعش سے جسے علاج ا ورآباد کاری کے لیے خود ہماری حکومت یہاں لائی تھی اور جو امن مظاہروں میں پیش پیش رہتا اور صفِ اول میں ہو تا تھا ۔&#8221;  فوٹو گرافر اپنے قریب کھڑے پولیس افسر سے کہہ رہا تھا ۔ ثاقب اور صوفیہ کی نعشیں اب ایمبولینس میں رکھی جا رہی تھیں لیکن ثاقب کی، ویل چیئر ٫ کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی ، البتہ اُدھر ذرا فاصلے پر کھڑا وہی بوڑھا یک چشمی کماندار بابا کھڑا کچھ یوں دیکھ رہا تھا جیسے کہہ رہا ہو کہ &#8221; جنگ میں اپنے جذبات و احساسات احکام کے تابع رکھنا لازمی ہے !&#8221;</h3>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://www.urduhamasr.dk/blog/?feed=rss2&amp;p=110</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

