خزانے کی تلاش

March 25th, 2010

خزانے کی تلاش

نصر ملک ۔ کوپن ہیگن

 تاریک رات

روشنی کا نشان تک نہیں

کفن چور، روپوش ہیں

ذہن کا خزانہ

عقل، قصہ ماضی ٹھہری

خوش طبعی و شگفتہ مزاجی مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

آنسو، خواب اور خوشیاں

March 13th, 2010

 

آنسو، خواب اور خوشیاں
از ؛  نصر ملک  ۔  ڈنمارک
———————-

آنسو تو وہیں ہوتے ہیں، جہاں
خوشیاں مسکراتی ہیں!۔
ہمیں اپنے شبہات کوسمجھنا چاہیے
تاکہ ہمارا یقین پختہ ہو!۔ مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

محبت ممنوع ہے !

March 7th, 2010

محبت ممنوع ہے
از:  نصر ملک  ۔  کوپن ہیگن  ۔ ڈنمارک
 کیا جنگ کے دوران محبت کرنے کے لیے وقت ہوتا ہے؟  یقیناً جنگ میں کوئی کسی دشمن سے تو محبت کر ہی نہیں سکتا ۔  زمانہ ٔ جنگ میں یہ ایک گناہ ہی تو ہوتا ہے، گناہ یا جرم! لیکن

مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

تعبیر

February 8th, 2010

تعبیر

از: نصر ملک

محرک قوتیں، خواب

پس منظر میں نیم موسیقی کی تانیں

تصورات، رقص کناں

میرے مقدر میں کہاں

 

میں انہیں اپنی گرفت میں لانا چاہتا ہوں

مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

حفاظتی پیش بندی

January 18th, 2010

حفاظتی پیش بندی 
نصر ملک  ۔  کوپن  ہیگن ۔

 
 ملک بھر میں یہ خبر ایک بم کے دھماکے سے کم نہیں تھی۔  ’’ آخر کیوں ! ‘ ایسا کیوں؟‘‘
 لاری اڈوں سے لے کر کیفے ٹیریوں تک بس ایک ہی سوال تھا جو عوام الناس کے ہونٹوں پر تھا۔
   مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

ضمیر کا سوال!۔

January 9th, 2010

ایک مختصر کہانی ۔

ضمیر کا سوال!۔
 نصر ملک  ۔  کوپن ہیگن  ۔ ڈنمارک
ایک گھبرایا ہوا  وکیل استغاثہ اور اس کے مقابلے میں ایک بہت ہی مطمئن وکیل دفاع ریڈیو کے سٹوڈیو میں ’’ ضمیر ‘‘  کے سوال پر بحث کے لیے مدعو تھے۔بحث کا بندوبست کرنے والے صحافی نے اس موضوع کی مناسبت سے خوب تیاری کررکھی تھی ۔  اور اس نے ان دونوں سے پوچھے جانے والے اپنے سوالات کو بھی مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

قصہ گو

January 2nd, 2010

قصہ گو
از  نصر ملک  ۔  کوپن ہیگن ۔

قدیم زمانے کی بات ہے، پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک پرانا کہوہ خانہ تھا جہاں دنیا بھر کے سیاح اور دیگر غیر ملکی سوداگر و تاجر آتے اور آپس میں ایک دوسرے کی باتیں سنتے اور تجربات سے آگاہ ہوتے تھے ۔ایک دن ایک جہاں دیدہ، علم الادیان سے مالا مال ایک ایرانی مسافر وہاں آیا ۔ مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

جوبلی تقریب میں تقریر

December 26th, 2009

جوبلی تقریب میں تقریر
 ایک مختصر کہانی
از :  نصر ملک ۔ کوپن ہیگن  ۔ ڈنمارک  ۔
جونہی اس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ حکومت کی جوبلی کی تقریب میں تقریر کرے گا  تو ملک بھر کے میڈیا میں یہ نوید سنائی گئی کہ بالآخر اسے  عزت و تقریم سے نوازا گیا ہے اور حقدار کو اس کا حق مل گیا ہے ۔  جو کہ بہت بڑی خوشی کی بات تھی ۔ لیکن بذات خود وہ سخت گومگو میں مبتلا تھا ۔  کیا واقعی اسے عزت و وقار سے نوازا گیا ہے ؟

مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

جس کی کوئی ضرورت ہی نہیں

December 23rd, 2009

جس کی کوئی ضرورت ہی نہیں

از: نصر ملک  ۔ کوپن ہیگن ۔

ایک آدمی نے کسی نا کسی طرح جب اپنی ایجاد کا ‘مارک‘ رجسٹر کرا لیا تو اسے اُس نے اپنی پہلی کامیابی قرار دیتے ہوئے ایک بڑا مرحلہ طے ہو جانے سے تعبیر کیا۔ یہ واقعی میں اس کے لیے بہت بڑی بات تھی ۔ آخر اب اس نے ایک نئی انوکھی شے بنائی تھی لیکن وہ تو کسی بھی مقصد کے لیے کہیں بھی استعمال نہیں کی جا سکتی تھی ۔ روزمرہ کا استعمال تو بہت دور کی بات تھی، اسے تو کسی مقصد کے لیے بھی بروئے کار نہیں لایا جا سکتا تھا ۔ اس شےکو کاروباری بنیادوں پر تیار کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ، یہ بہت ہی مہنگا تھا ۔ اس نے اپنی اس ایجاد کو ایک کارخانے کے مالک کو دکھایا اور اسے کاروباری لحاظ سے تیار کرنے اور بازار میں لے جانے کے لیے مشورہ دیا۔

مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔

گمنام سپاہی ۔ از: نصر ملک

December 19th, 2009

گمنام سپاہی

از: نصر ملک

کتنا عجیب ہے، ایک ‘‘ گمنام سپاھی ‘‘  کے نام سے پہچانا جانا
میری خواہش تھی کہ میں بھی شہرت پاتا
میرا بھی ایک نام ہوتا
میدان جنگ میں فتح مندی پاتا ، دشمن کی قوت کا فخر و گھمنڈ خاک میں ملا دیتا
میں نے دشمن کو تو دیکھا ہی نہیں، صرف اس کا نعرہ ھی سنا تھا
میں اس کے گرنیڈ سے زمین پر گر پڑا
مسخ شدہ چہرے کے ساتھ،  بالکل ناقابل شناخت حالت میں
اسی لیے مجھے اسی حالت میں دفن کرکے،  ایک ‘‘ نامعلوم سپاہی‘‘  کے نام سے
سر بلند کردیا گیا، ایک ‘‘ گمنام سپاہی!‘‘، بے نام روح

اس مختصر سے لمحے میں، میں نے اپنی مختصر سے زندگی پر نگاہ ڈالی
ان سب کو دیکھا، جنھیں میں جانتا تھا اور جو مجھے جانتے تھے
میں!، چھوٹا سا بچہ، ‘‘ سپاہی، سپاہی‘‘ کا کھیل کھیلتے بوئے
کھیلتے کھیلتے جوان ہوا، یہاں تک کہ ایک ‘‘ اصل سپاہی‘‘ بن گیا
میرا یہی سپاہی ہونا ہی میری پہلی اور آخری محبت تھی
محبت!جسے میں نے تھامے رکھا اور جس نے مجھے سمیٹے رکھا
لیکن میں!،  میں گمنام سپاہیوں کی صفوں میں گم ہو گیا
جنت کے فرشتوں جیسی سفید قبا اوڑھے، اڑنے والے گھوڑے پر سوار
سنہری چمکدار جگہوں سےگزرتا ،  میں آسمانوں کی بلندوں میں
خود کو تلاش کر رہا تھا، لیکن
میں بھی تو دوسروں ہی کی طرح تھا
ایک تابوت میں بند، مسخ شدہ لاش
جس نے اپنی زندگی گزاری ہی نہیں تھی

اس مختصر سے لمحے میں
وہ میں ہی تو تھا جس کے پرخچے اڑ گئے تھے

میں رضاکاروں میں خود شامل ہوا تھا
امن بہترین نہیں ہے ، ہم فراموش کر چکے ہیں کہ
زندگی ‘‘جہد مسلسل‘‘ ہے، اور اس کا
پہلا معرکہ ‘‘ زندگی ‘‘ ہی  ہے

میں چاہتا تھا کہ میں بھی جانا جاؤں
وہ خود کو سکھانا چاہتا تھا کہ
وہ  تمام محسوسات ،  جن سے میں محروم رہا
خود محسوس کروں
میں وہ سب کچھ برتنا چاہتا تھا، جو
میرے پاس تھا، لیکں میں آگاہ نہ تھا

میں جنگ میں اپنے آپ کو دوبارہ شناخت نہ کر سکا
یہ میرے محسوسات نہ تھے، جنھیں میں نے محسوس کیا
یہ میری زندگی نہ تھی جیسے میں نے کھو دیا تھا
یہ تو صرف ایک ‘‘ گمنام سپاہی ‘‘ تھا
فقط ایک ‘‘ گمنام سپاہی !‘‘۔

از؛  نصر ملک  ۔ کوپن ھیگن