March 7th, 2010
محبت ممنوع ہے
از: نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
کیا جنگ کے دوران محبت کرنے کے لیے وقت ہوتا ہے؟ یقیناً جنگ میں کوئی کسی دشمن سے تو محبت کر ہی نہیں سکتا ۔ زمانہ ٔ جنگ میں یہ ایک گناہ ہی تو ہوتا ہے، گناہ یا جرم! لیکن
Posted in تازہ ترین | No Comments »
February 8th, 2010
تعبیر
از: نصر ملک
محرک قوتیں، خواب
پس منظر میں نیم موسیقی کی تانیں
تصورات، رقص کناں
میرے مقدر میں کہاں
میں انہیں اپنی گرفت میں لانا چاہتا ہوں
Posted in تازہ ترین | No Comments »
January 18th, 2010
حفاظتی پیش بندی
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ملک بھر میں یہ خبر ایک بم کے دھماکے سے کم نہیں تھی۔ ’’ آخر کیوں ! ‘ ایسا کیوں؟‘‘
لاری اڈوں سے لے کر کیفے ٹیریوں تک بس ایک ہی سوال تھا جو عوام الناس کے ہونٹوں پر تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
Posted in تازہ ترین | 6 Comments »
January 9th, 2010
ایک مختصر کہانی ۔
ضمیر کا سوال!۔
نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک
ایک گھبرایا ہوا وکیل استغاثہ اور اس کے مقابلے میں ایک بہت ہی مطمئن وکیل دفاع ریڈیو کے سٹوڈیو میں ’’ ضمیر ‘‘ کے سوال پر بحث کے لیے مدعو تھے۔بحث کا بندوبست کرنے والے صحافی نے اس موضوع کی مناسبت سے خوب تیاری کررکھی تھی ۔ اور اس نے ان دونوں سے پوچھے جانے والے اپنے سوالات کو بھی مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
Posted in نئے موضوعات | 2 Comments »
January 2nd, 2010
قصہ گو
از نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
قدیم زمانے کی بات ہے، پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ایک پرانا کہوہ خانہ تھا جہاں دنیا بھر کے سیاح اور دیگر غیر ملکی سوداگر و تاجر آتے اور آپس میں ایک دوسرے کی باتیں سنتے اور تجربات سے آگاہ ہوتے تھے ۔ایک دن ایک جہاں دیدہ، علم الادیان سے مالا مال ایک ایرانی مسافر وہاں آیا ۔ مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
Posted in تازہ ترین | 6 Comments »
December 26th, 2009
جوبلی تقریب میں تقریر
ایک مختصر کہانی
از : نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک ۔
جونہی اس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ حکومت کی جوبلی کی تقریب میں تقریر کرے گا تو ملک بھر کے میڈیا میں یہ نوید سنائی گئی کہ بالآخر اسے عزت و تقریم سے نوازا گیا ہے اور حقدار کو اس کا حق مل گیا ہے ۔ جو کہ بہت بڑی خوشی کی بات تھی ۔ لیکن بذات خود وہ سخت گومگو میں مبتلا تھا ۔ کیا واقعی اسے عزت و وقار سے نوازا گیا ہے ؟
Posted in تازہ ترین | 1 Comment »
December 23rd, 2009
جس کی کوئی ضرورت ہی نہیں
از: نصر ملک ۔ کوپن ہیگن ۔
ایک آدمی نے کسی نا کسی طرح جب اپنی ایجاد کا ‘مارک‘ رجسٹر کرا لیا تو اسے اُس نے اپنی پہلی کامیابی قرار دیتے ہوئے ایک بڑا مرحلہ طے ہو جانے سے تعبیر کیا۔ یہ واقعی میں اس کے لیے بہت بڑی بات تھی ۔ آخر اب اس نے ایک نئی انوکھی شے بنائی تھی لیکن وہ تو کسی بھی مقصد کے لیے کہیں بھی استعمال نہیں کی جا سکتی تھی ۔ روزمرہ کا استعمال تو بہت دور کی بات تھی، اسے تو کسی مقصد کے لیے بھی بروئے کار نہیں لایا جا سکتا تھا ۔ اس شےکو کاروباری بنیادوں پر تیار کرنا اس کے بس کی بات نہیں تھی ، یہ بہت ہی مہنگا تھا ۔ اس نے اپنی اس ایجاد کو ایک کارخانے کے مالک کو دکھایا اور اسے کاروباری لحاظ سے تیار کرنے اور بازار میں لے جانے کے لیے مشورہ دیا۔
مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
Posted in تازہ ترین | 2 Comments »
December 19th, 2009
گمنام سپاہی
از: نصر ملک
کتنا عجیب ہے، ایک ‘‘ گمنام سپاھی ‘‘ کے نام سے پہچانا جانا
میری خواہش تھی کہ میں بھی شہرت پاتا
میرا بھی ایک نام ہوتا
میدان جنگ میں فتح مندی پاتا ، دشمن کی قوت کا فخر و گھمنڈ خاک میں ملا دیتا
میں نے دشمن کو تو دیکھا ہی نہیں، صرف اس کا نعرہ ھی سنا تھا
میں اس کے گرنیڈ سے زمین پر گر پڑا
مسخ شدہ چہرے کے ساتھ، بالکل ناقابل شناخت حالت میں
اسی لیے مجھے اسی حالت میں دفن کرکے، ایک ‘‘ نامعلوم سپاہی‘‘ کے نام سے
سر بلند کردیا گیا، ایک ‘‘ گمنام سپاہی!‘‘، بے نام روح
اس مختصر سے لمحے میں، میں نے اپنی مختصر سے زندگی پر نگاہ ڈالی
ان سب کو دیکھا، جنھیں میں جانتا تھا اور جو مجھے جانتے تھے
میں!، چھوٹا سا بچہ، ‘‘ سپاہی، سپاہی‘‘ کا کھیل کھیلتے بوئے
کھیلتے کھیلتے جوان ہوا، یہاں تک کہ ایک ‘‘ اصل سپاہی‘‘ بن گیا
میرا یہی سپاہی ہونا ہی میری پہلی اور آخری محبت تھی
محبت!جسے میں نے تھامے رکھا اور جس نے مجھے سمیٹے رکھا
لیکن میں!، میں گمنام سپاہیوں کی صفوں میں گم ہو گیا
جنت کے فرشتوں جیسی سفید قبا اوڑھے، اڑنے والے گھوڑے پر سوار
سنہری چمکدار جگہوں سےگزرتا ، میں آسمانوں کی بلندوں میں
خود کو تلاش کر رہا تھا، لیکن
میں بھی تو دوسروں ہی کی طرح تھا
ایک تابوت میں بند، مسخ شدہ لاش
جس نے اپنی زندگی گزاری ہی نہیں تھی
اس مختصر سے لمحے میں
وہ میں ہی تو تھا جس کے پرخچے اڑ گئے تھے
میں رضاکاروں میں خود شامل ہوا تھا
امن بہترین نہیں ہے ، ہم فراموش کر چکے ہیں کہ
زندگی ‘‘جہد مسلسل‘‘ ہے، اور اس کا
پہلا معرکہ ‘‘ زندگی ‘‘ ہی ہے
میں چاہتا تھا کہ میں بھی جانا جاؤں
وہ خود کو سکھانا چاہتا تھا کہ
وہ تمام محسوسات ، جن سے میں محروم رہا
خود محسوس کروں
میں وہ سب کچھ برتنا چاہتا تھا، جو
میرے پاس تھا، لیکں میں آگاہ نہ تھا
میں جنگ میں اپنے آپ کو دوبارہ شناخت نہ کر سکا
یہ میرے محسوسات نہ تھے، جنھیں میں نے محسوس کیا
یہ میری زندگی نہ تھی جیسے میں نے کھو دیا تھا
یہ تو صرف ایک ‘‘ گمنام سپاہی ‘‘ تھا
فقط ایک ‘‘ گمنام سپاہی !‘‘۔
از؛ نصر ملک ۔ کوپن ھیگن
Posted in تازہ ترین | No Comments »
December 13th, 2009
ایک شام، سفیر اردو کے نام ۔

از: ناصر شمسی ۔ کراچی
ڈنمارک سے تشریف لائے ہوئے معروف و ممتاز ادیب و صحافی اور براڈ کاسٹر جناب نصر ملک کے اعزاز میں ، اکادمی ادبیات پاکستان، سندھ کی جانب سے، ایک غیر معمولی تقریب کا انعقاد کیا گیا ۔

اکادمی ادبیات پاکستان، سندھ کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر جناب آغا نور محمد پٹھان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے نصر ملک کوسندھ کے ادیبوں کی جانب سے خوش آمدید کہا اور انھیں پاکستان اور اردو زبان کا سفیر قرار دیا ۔انہوں نے معزز مہمان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ، نصر ملک کا تعلق، پاکستان کے شہر گوجرانوالہ سے ہے اور وہ پچھلے سنتیس سال سے کوپن ہیگن میں مقیم ہیں ۔ شاعری و افسانہ نگاری کے حوالے سے ان کی چھ کتابیں منظر عام پر آنے کے بعد شرف قبولیت حاصل کر چکی ہیں ۔ اس کے علاوہ نصر ملک پچھلے پچیس سال سے ڈینش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کی اردو سروس میں بطور مدیر، سیاسی مبصر اور براڈ کاسٹر، خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ جبکہ وہ ڈینش سٹیٹ لائبریری میں، اردو زبان و ادب سے متعلقہ شعبے میں بطور لینگویچ کنسلٹینٹ بھی خدمات سر انجام دیتے ہیں اور ڈنمارک میں تارکین وطن کے لیے، سٹیٹ لائبریری کی معلوماتی ویب سائٹ ٰ فنفو ڈاٹ ڈی کےٰ کے مدیر بھی ہیں ۔
اکادمی ادبیات پاکستان، سندھ کے ریذیڈنٹ ڈائریکٹر جناب آغا نور محمد پٹھان نے مزید کہا کہ تحقیق کے شعبے میں نصر ملک نے، ڈینش اردو لغت بنانے کے لیے بڑا کام کیا ہے اور اپنی نوعیت کی یہ پہلی ڈینش اردو لغت عنقریب ہی منظر عام پر آنے والی ہے ۔ اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس لغت کے حوالے سے ڈینش اور اردو زبان کے علاوہ دونوں ملکوں کے لوگوں اور دو مختلف تہذیبوں کو نزدیک آ کر ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملے گا ۔ نصر ملک نے ڈینش ادب ٰکے اردو تراجم بھی کیے ہیں اور ان کی ترجمہ کردہ ڈینش اساطیر کے موضوع پر ایک کتاب ٰ دیوتاؤن کا زوالٰ ایک بے مثال ادبی کارنامہ ہے ۔
جناب آغا نور محمد پٹھان نے مزید کہا کہ نصر ملک نہ صرف اردو بلکہ پنجابی، سندھی و پشتو ادب پر بھی گہری نگاہ رکھتے ہیں بلکہ وہ عالمی ادب اور عالمی ادبی اداروں سے بھی جڑے ہوئے ہیں اور یوں انھیں عالمی اور اردو عصری ادب سے واقفیت حاصل رہتی ہے ۔ جو ان کی اردو زبان و ادب کے فروغ اور احیا کے لیے کوششوں کو تازہ مواد میہاکرنے میں معاونت عطا کرتی ہے ۔
Posted in تازہ ترین | 4 Comments »
December 6th, 2009
آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے زیر اہتمام ، سترہ سے اکیس نومبر سنہ ۲۰۰۹ ٰ تک دوسری عالمی اردو کانفرسٰ منعقد کی گئی ۔ اپنی نوعیت کی اس عظیم عالمی اردو کانفرنس میں، بنگلہ دیش سےلے کر ایران، متحدہ عرب امارات سےلے کر روس وکینیڈا،برطانیہ، ڈنمارک و جرمنی سے لے کر جمہوریہ چیک تک، امریکھ سے لے کرکئی افریقی ممالک تک کے مندوبین اور مزید پڑھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
Posted in تصاویر | No Comments »